دیوبند

اترپردیش میں اسمبلی انتخابات نزدیک آتے ہی سیاست میں بھونچال ، بہوجن سماج پارٹی میں بڑی بغاوت کے آثار

دیوبند، 16؍ جون (رضوان سلمانی) یوپی اسمبلی انتخابات کی تاریخیں جیسے جیسے نزدیک آرہی ہیں ویسے ویسے سیاسی حالات تیز ہورہے ہیں ۔ مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی بڑی ٹوٹ کے کگار پر پہنچ گئی ہے ، پارٹی کے باغی اسمبلی ارکان نے نئی پارٹی بنانے کی تیاری کرلی ہے۔ فی الحال 11اسمبلی ارکان کا ساتھ مل چکا ہے ، ایک اور اسمبلی رکن ملتے ہی نئی پارٹی تشکیل دیدی جائے گی ۔ بہوجن سماج پارٹی کے باغی اسمبلی رکن اسلم راعینی کے مطابق بہوجن سماج پارٹی کے باغی اسمبلی ارکان نئی پارٹی تشکیل دیں گے ۔ بہوجن سماج پارٹی سے نکالے گئے لال جی ورما نئی پارٹی کے لیڈر ہوںگے ۔ نئی پارٹی بنانے کے لئے 12اسمبلی ارکان کی ضرورت ہے۔ فی الحال 11اسمبلی ارکان کا ساتھ مل چکا ہے ، ایک اور اسمبلی رکن کے ساتھ آتے ہی نئی پارٹی کا اعلان کردیا جائے گا ۔ یقینی طور پر اترپردیش میں یہ بہوجن سماج پارٹی کے لئے بہت بری خبر ہے، بہوجن سماج پارٹی کے اسمبلی ارکان الگ سے پارٹی تشکیل دینے کی تیاری میں ہیں۔ کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ تقسیم تقریباً پوری ہوچکی ہے ، بہوجن سماج پارٹی کی رہنما مایاوتی سے ناراض ہوکر 11اسمبلی ارکان ان کے سامنے کھڑے ہیں ، صرف ایک اسمبلی رکن کی ضرورت ہے ، جیسے ہی 12اسمبلی ارکان ہوجائیں گے نئی پارٹی کی تشکیل کردی جائے گی۔ اس وقت بہوجن سماج پارٹی کے اترپردیش میں 18اسمبلی رکن ہیں، ظاہر ہے کہ بہوجن سماج پارٹی کے اندر یہ ڈرامہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب یوپی میں اسمبلی انتخابات کے لئے ایک سال سے بھی کم وقت بچا ہوا ہے ۔ بہوجن سماج پارٹی کے باغی اسمبلی رکن اسلم راعینی کے مطابق بہوجن سماج پارٹی کے باغی اسمبلی ارکان نئی پارٹی تشکیل دیں گے اور بہوجن سماج پارٹی سے نکالے گئے لال جی ورما اس نئی پارٹی کے لیڈر ہوںگے ۔ ان کا کہنا تھاکہ ایک اور اسمبلی رکن کا ساتھ ملتے ہی نئی پارٹی کا اعلان کردیا جائے گا ۔ اصل میں پارٹی میں ٹوٹ کی بنیاد گزشتہ ہفتہ اس وقت پڑگئی تھی جب بہوجن سماج پارٹی رہنما مایاوتی نے رام اچل راج بھر اور لال جی ورما کو یہ کہہ کر پارٹی سے نکال دیا تھا کہ پنچایت انتخاب کے دوران انہوں نے پارٹی مخالف سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے ، یہ دونوں اسمبلی ارکان ہی بہوجن سماج پارٹی رہنما کے کافی قریب مانے جاتے تھے ۔ مایاوتی کے اس فیصلہ کے بعد پارٹی کے اندر بغاوت کے تیور نظر آنے لگے ۔ اب بہوجن سماج پارٹی کا مستقبل آگے چل کر کیا رخ اختیار کرے گا یہ تو ابھی بعد میں ہی معلوم ہوگا لیکن جس طرح گزشتہ کل سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے باغی اسمبلی ارکان نے ملاقات کی اس سے طرح طرح کی قیاس آرائیاں لگائی جارہی ہیں ، حالانکہ کہا تو یہ جارہا ہے کہ اکھلیش یادو نے 6اسمبلی ارکان سے ہی ملاقات کی تھی ، ان میں اسلم راعینی، مصطفی صدیقی، حکیم لال، اسلم علی چودھری، ششما پٹیل کے نام شامل ہیں ۔مبصرین کا ماننا ہے کہ بہوجن سماج پارٹی رہنما نے انتخاب سے ایک دم قبل اس طرح کا بڑا فیصلہ کیوں لیا لیکن سیاست میں کوئی بھی قدم بغیر سوچے سمجھے نہیں اٹھایا جاتا ، اس لئے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بہوجن سماج پارٹی رام اچل راج بھر اور لال جی ورما سے چھٹکارا پانا چاہتی تھی، پنچایت انتخاب تو ایک بہانہ ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ بہوجن سماج پارٹی رہنما مایاوتی نے یہ بڑا فیصلہ بہوجن سماج پارٹی کی بہتر شبیہ بنانے کے لئے کیا ہو لیکن ان کا یہ دائوں الٹا پڑتا نظرآرہا ہے۔ یقینی طور سے جیسا کہ باغی اسمبلی ارکان کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ نئی پارٹی تشکیل دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ مایاوتی کے لئے بہت بڑاجھٹکا ہوگا اور اس سے ابھرنا آسان نہیں ہوگا۔ بہوجن سماج پارٹی ہی نہیں سوال تو باغی اسمبلی ارکان کے مستقبل پر بھی کھڑا ہوتا ہے کیوں کہ یہ بھی دیکھنے والی بات ہوگی کہ باغی اسمبلی ارکان کے اس فیصلہ کو بہوجن سماج پارٹی کا ووٹر کس طریقے سے دیکھے گا ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close