دیوبند

دیوبند: جامعہ طبیہ دیوبند نے کووڈ 19-کے دونوں ادوار میںضرورت مندوں کی مثالی خدمات انجام دیں

جامعہ طبیہ کے ایل ون پلس ہاسپٹل میں داخل مریضوں کے علاوہ دیگر متاثرین کو بھی آکسیجن کنسنٹریٹر فراہم کرائے گئے :ڈاکٹر انور سعید

دیوبند، 15؍ جون (رضوان سلمانی) مشکل وقت میں ہی انسان کو اپنی انفرادی صلاحیتوں و قوتوں کا اندازہ ہوتا ہے اسی طرح مشکل حالات میں کسی بھی ادارہ کی کارکردگی اور وسعت خدمت نکھر کر سامنے آتی ہے ۔ گذشتہ سے موجودہ وقت تک عالمی مہلک وبا کو وڈ 19-کی وجہ سے پوری دنیا اور ہمارے ملک کو جن مشکل ترین بلکہ بد ترین حالات سے گذرنا پڑا ہے ایسی صورت حال میں دیوبند کے مشہور و معروف ادارہ جامعہ طبیہ دیوبند نے جو بے لوث اور بے مثال خدمات انجام دی ہیں وہ دنیا کی موجودہ بدترین صورت حال کے تناظر میں تاریخی حیثیت کی حامل ہیں ۔ جامعہ طبیہ دیوبند کا ہندوستان کے نامور اداروں میں ہوتا ہے جو گذشتہ 35؍سالوں سے شاندار طبی اور معالجاتی خدمات انجام دے رہا ہے ۔

اس سلسلہ میں ڈاکٹر انور سعید نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ سال مارچ 2020ء میں جب کووڈ کی لہر عروج پر تھی اور ضلع سہارنپور میں بے شمار افراد کو وڈ سے متاثر ہوگئے تو محکمہ صحت اور انتظامیہ نے ایسے اسپتال کی تلاش شروع کی جہاں تمام سہولیات میسر ہوں اور وہاں کورونا متاثرین کو رکھا جا سکے ۔ اس وقت ضلع انتظامیہ کی نظر جامعہ طبیہ میڈیکل کالج دیوبند پر پڑی تو ضلع انتظامیہ نے جامعہ طبیہ کے منتظمین سے اس سلسلہ میں بات کی اور ادارہ کو کوارنٹائن سینٹر بنانیکی خواہش کا اظہار کیا تو خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار اور دردمند دل رکھنے والے ادارہ کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید نے فوراً انتظامیہ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے جامعہ طبیہ کا پورا کیمپس کووڈ متاثرین کے آئیسولیشن کیلئے مختص کر دیا اور فوری طور پر 150بیڈ کا نظم کیا گیا اور سیکڑوں کورونا متاثرین کو آئیسولیٹ کیا بلکہ تعداد میں اضافہ ہونے کے بعد کالج کے مختلف ھال اور متعدد کمروں کو بھی کورونا متاثرین کیلئے کھول دیا گیا ۔ ڈاکٹر انور سعید نے بتایا کہ جامعہ طبیہ دیوبند میں قائم کوارنٹائن سینٹر میں آئیسو لیشن کیلئے ایڈمٹ ہونے والے تمام مریضوں کیلئے کھانا ،ناشتہ اور دیگر ضروریات کی کفالت منجانب ادارہ کئے جانے کے تمام تر انتظامات کئے گئے اور اسی کے ساتھ ساتھ لاک ڈائون کے سبب جب گرد و نواح کے گھروں کے سیکڑوں خاندان فاقہ کشی کی حالت میں پہنچ گئے تو ڈاکٹر انور سعید نے اپنی نگرانی میں جامعہ طبیہ دیوبند کی جانب سے اشیائے خوردنی اور راشن کٹ مہیا کرائیں اور بے یارو مددگار مزدوروں اور مسافروں کو کالج کے صدر گیٹ پر امدادی کائونٹر لگاکر انہیں علاج کی سہولیات مہیا کرانے کے علاوہ گھروں تک پہنچانے میں مدد کی گئی ۔ ڈاکٹر انور سعید نے بتایا کہ یہ وہ مشکل دور تھا جسمیں ملک کے کروڑوں افراد لاک ڈائون کی وجہ سے گھروں میں مقید ہوگئے اور بے سر و سامانی کی حالت میں ان کے دن رات گذرنے لگے اس صورت حال کے پیش نظر انہوں نے وزیر اعظم کیئر فنڈ کے لئے ایک کثیر رقم بھیجی ۔ انہوں نے بتایا کہ آئیسولیشن سینٹر کے علاوہ انہوںنے عوام کے درمیان آیوش کاڑھا بھی بڑی مقدار میں مفت تقسیم کیا تاکہ لوگوں کی قوت مدافعت بر قرار رہے ۔

ڈاکٹرانور سعید نے بتایا کہ چند دنوں کی مہلت کے بعد جیسے ہی کووڈ 19-کی لہر پوری شدت کے ساتھ حملہ آور ہوئی تو بڑی تعداد میں اموات ہونی شروع ہو گئیں اس مرتبہ مریضوں و متاثرین کو آکسیجن کی بہت زیادہ ضرور ت ہوئی لیکن آکسیجن کی کمی نے جب کربناک منظر نامے پیش کرنے شروع کئے تو ضلع انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر جامعہ طبیہ دیوبند کو ایل ون پلس ہاسپٹل میں تبدیل کرنے کی بات کی تو ایک مرتبہ پھر پوری فراخ دلی اور مجاہدانہ انداز میں ڈاکٹر انور سعید نے اپنے آپ کو اور اپنے ادارہ کو ملک و قوم کی خدمت کیلئے پیش کر دیا ۔ اس مرتبہ سب سے زیادہ ضرورت آکسیجن کی تھی اسلئے ایل ون پلس اسپتال میں بیڈ کے انتظامات کے ساتھ ساتھ آکسیجن کا بھی بڑے پیمانہ پر انتظام کیا گیا کیونکہ اکثر مریض آکسیجن کی کمی کے باعث یا تو فوت ھو تے رہے یا دردر کی ٹھوکریں کھا رہے تھے اسلئے اسپتال میں وافر مقدار میں آکسیجن کا انتظام کیا گیا ۔ ڈاکٹر انور سعید نے بتایا کہ انہوں نے شہر کے مختلف گھروں اور آس پاس کے علاقوں میں ضرورت کے تحت آکسیجن سلنڈر بھیجے ۔ ڈاکٹر انور سعید نے کہا کہ مثل مشہور ہے کہ جو لوگ اپنی مدد خود کرتے ہیں انہیں ضرور دوسروں کی مدد بھی حاصل ہوتی ہے چنانچہ ایسی بہت سی تنظیمیں اور افراد نے دست تعاون بڑھایا اور فراخ دلانہ انداز میں تعاون کیا اسی جذبہ کے تحت امریکہ کے شکاگوشہر کی ایک خدمت خلق کی تنظیم اسلامک اوئیسس نے اسلامک اسکالر مفتی یاسر ندیم الواجدی کے تعاون سے جامعہ طبیہ دیوبند کو وافر مقدار میں 100آکسیجن کنسنٹریٹر ،آلات تنفس و غیرہ ارسال کئے جنہیں بلا کسی معاوضہ کے عوامی خدمت کیلئے مخصوص کیا گیا ۔ ڈاکٹر انور سعید نے شکاگو کی تنظیم اور اسکے ذمہ داران نیز مولانا مفتی یاسر ندیم الواجدی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ تنظیم کا یہ بیش قیمت تعاون نہ صرف جامعہ طبیہ دیوبند کیلئے قابل قدر ہے بلکہ عوام اس عطیہ کو تحسین و تعریف کی نظر سے دیکھتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ طبیہ دیوبند وینٹلیٹر سے منسلک چار بیڈ کی فراہمی بھی زیر غور ہے تاکہ اس علاقہ کے ضرورت مند مریضوں کو مقامی طور سے یہ سہولت فراہم کرائی جا سکے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ الخیر فائونڈیشن کے چیئر مین امام قاسم کی جانب سے 10؍ آکسیجن کنسنٹریٹر طیب ٹرسٹ کے چیئر مین حافظ عاصم قاسمی نے ،10؍آکسیجن کنسنٹریٹر اور سیوا انٹر نیشنل سمیتی کی جانب 7؍ آکسیجن کنسنٹریٹر دیوبند کی عوام کیلئے مہیا کرائے ۔ میں ان تنظیموں اور ان کے ذمہ داران کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے بیش قیمت تعاون فرماکر اس کا ر خیر میں ہماری مدد کی ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر انور سعید نے بتایا کہ انہوں نے ان اندرونی انتظامات کے ساتھ ساتھ ریاستی آیوش وزیر شری دھرم سنگھ سینی اور علاقہ کے اسمبلی رکن کنور برجیش سنگھ کی ہدایت کے مطابق معالجاتی افراد پر مشتمل ایک ٹیم مرتب کی جس نے بغیر کسی خوف و تردد گائوں در گائوں اورگھر گھر جاکر حکومت کی مہم کے تحت تقریباً 135گائوں میں 10000سے زائد افراد کا فرداً فرداً نہ صرف یہ کہ معائنہ کیا بلکہ انہیں حفاظتی تدابیر سے بھی روشناس کرایا ہے ،ساتھ ہی ساتھ آیوش کاڑھا اور دیگر ادویہ کی کٹ بھی گھر گھر جاکر تقسیم کیں ، جس کا خاطر خواہ نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ دیہی علاقوں کے باشندے اس سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں اور اس کی کھلے دل سے تعریف بھی کر رہے ہیں ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close