دیوبند

دیوبند:سیاست نے ہمیں اتنا بے حیا بنادیا ہے کہ ملزم اور مجرم کی حمایت یا مخالفت میں بھی مذہب کو تلاش کیا جانے لگا ہے: ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی

دیوبند، 7؍ جون (رضوان سلمانی) آن انڈیا ملی کونسل سہارنپور کے ضلع صدر ڈاکٹر عبد المالک مغیثی نے ہریانہ کے میوات شہر میں 25؍سالہ نوجوان محمد آصف کی ماب لنچنگ اور قتل کے واقعہ کو انسانیت سوز اور سفاکانہ واقعہ بتاتے ہوئے قاتلوں کو تشدد پسند لوگوں کی جانب سے اپنی حمایت اور مدد کے اعلان کو شرمناک اور حیران کن بتاتے ہوئے کہا ہے کہ کیا واقعی ہمیں اس بات پر فخر کرنے کا حق ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ہم باشندے ہیں اور کیا سماج مذہبی لسانی تہذیبی اور ثقافتی بنیادوں پر اتنی بری طرح منقسم ہوگیا ہے کہ وہ صحیح اور غلط ،سچ اور جھوٹ، اچھے اور برے کی تمیز بھی بھلا بیٹھا ہے۔گذشتہ چند سالوں کی سیاست نے ہمیں اتنا بے غیرت ،بے شرم اور بے حیا بنادیا ہے کہ ملزم اور مجرم کی حمایت یا مخالفت میں بھی مذہب کو تلاش کیا جانے لگا ہے۔

ہریانہ کے میوات شہر میں چند دنوں قبل پیش آئے دل دہلانے والے 25 سالہ نوجوان محمد آصف کے ماب لنچنگ اور قتل کے واقعہ کے کلیدی مجرمین اور قاتلوں کی حمایت میں آج کچھ تشدد پسند لوگوں کی قیادت میں ایک مہا پنچایت کی گئی جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور محمد آصف کے قاتلوں اور ماب لنچگ جیسے سنگین واقعات کو انجام دینے والوں کے مدد و نصرت کا اعلان کیا گیا جو جہاں ایک طرف بے حد حیران کن ہے تو وہیں شرمناک بھی۔ ضلع صدر آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور (مولانا ڈاکٹر) عبدالمالک مغیثی نے اس واقعہ کو انسانیت کے لئے شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوس اور فکر کی بات ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ہمارے ملک میں قوم کے کچھ شرپسندوں کی جانب سے ایسے ایسے واقعات کا ظہور ہورہا ہے کہ جن پر تمام انسانیت کو شرم آجائے جسکی طرف نہ سیاست دانوں کو فکر ہے اور نہ ہی سماجی مفکروں کو،آج اخلاقی گراوٹ کے زوال کا عروج یہ ہے کہ قاتلوں اور مجرموں کو بچانے کے لئے مہاپنچایتیں کی جارہی ہیں اور انصاف کا گلا گھونٹا جارہاہے،یقینا آج ہمارے سماج کے لئے بے شرمی،بے غیرتی اور بے حیائی جیسے الفاظ بھی ناکافی ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر آج اس ملک کے انصاف اور قانون کو بھی ہندو مسلم بنادیا گیا تو یہ ملک باقی نہیں رہے گا،یہاں انصاف تاخیر سے ہی سہی مگر ملتا ہے،اس انصاف کو ہندومسلم نفرت کے سیلاب میں بہانے کی کوشش بہت ہی خطرناک تباہ کن اور بھیانک نتائج کو جنم دے گی۔ 25 سالہ نوجوان محمد آصف کو نہ صرف ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ بے رحمانہ طور سے قتل کردیا گیا۔ آج یہ پنچایت اسے انصاف دینے کی راہ میں مزاحم ہوگی اور ایسے ملزموں کے حق میں کھڑی ہوجائے گی سماجی گراوٹ اور اخلاقی زوال کی اس سے بدتر مثال نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور اس واقعہ کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور تمام لوگوں سے اپیل کرتی ہے کہ اسے ہندو مسلم کے چشمہ سے نہ دیکھا جائے،کیونکہ یہ انسانیت اور اخلاقیات کا سوال ہے،یہ ملک کو نفرت اور تشدد سے بچانے کا سوال ہے اور سب سے بڑھکر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی بقا اور وطن عزیز کی سالمیت کا سوال ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close