دیوبند

دیوبند: حکومت کی سخت گائڈ لائن کے مد نظر عید گاہ میں نماز عید ادا کرنا ممکن نہیں : عیدگاہ وقف کمیٹی دیوبند

عید الفطر کے موقع پر اجتماعی نماز سے اجتناب کریں اور محلہ کی مسجد یا گھر میں نماز عید ادا کریں :قاری سید عثمان

دیوبند ،11؍مئی (رضوان سلمانی) عید گاہ وقف کمیٹی کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری ،نائب صدر مولانا محمد سفیان قاسمی اور سکریٹری مولوی محمد انس صدیقی نے مشترکہ طورپر ایک اپیل جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کی مہلک وبا کی شدت اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی یومیہ لاتعداد اموات کے مد نظر تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہم سب پر لازم ہے ۔ شرعی اعتبار سے زندگی کی حفاظت عین فریضہ ہے ،وبائی امراض کی شکل میں جناب رسول کریم ؐکی تلقین پر بھی عمل ضروری ہے کہ مہلک امراض کے پھیلنے پر لوگ اپنے علاقوں کو چھوڑ کر دوسرے مقامات پر نہ جائیں اس لئے ارشاد نبوی پر عمل کرتے ہوئے عید الفطر کے موقع پر اجتماعی نمازیں ادا کرنے سے اجتناب کریں بلکہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ نماز عید الفطر ادا کریں اور عید نہایت سادگی کے ساتھ منائیں ۔مذکورہ شخصیات نے کہا کہ اس وقت پورے ملک میں کورونا کی مہلک وبا اور اس کی شدت سے ہونے والی اموات کی وجہ سے غم اور تکلیف کا ماحول ہے اس لئے عید کی خوشی منانے کے ساتھ حفاظتی تدابیر کو سامنے رکھنا اور ان پر عمل کرنا بہت ضروری ہے ۔

عید گاہ وقف کمیٹی کے متولی و سکریٹری مولوی محمد انس صدیقی نے کہا کہ موجودہ تشویشناک صورت حال کی وجہ سے حکومت کی جانب سے جاری کردہ گائڈ لائن اس قدر سخت ہے کہ عید گاہ میں با جماعت نماز عید ادا کرنا ممکن نہیں ہے اسلئے اپنے محلہ کی مساجد اور گھروں پر نماز عید کی ادائیگی ک اہتمام کریں ۔ انہوںنے کہا کہ نماز عید الفطر کی ادائیگی کا طریقہ دوسری نمازوں سے مختلف ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے دین پر عمل کرنا اپنے بندوں کے لئے آسان بنایا ہے اس لئے مشکل اور سنگین صورت حال میں شریعت نے آسان عمل اور طریقہ بتایا ہے اگر ہم اس طریقہ پر عمل کرکے اپنے گھروں پر رہتے ہوئے نماز عید الفطر ادا کریں گے تو نماز بھی ادا ہو جائے گی اور ثواب بھی پورا ملے گا ۔

مولوی انس صدیقی نے بتایا کہ مسجد یا عید گاہ میں نماز عید الفطر ادا نہ کر سکنے کی صورت میں کم از کم چار افراد یا جس قدر تعداد ممکن ہو ایک جگہ جمع ہو کر نماز عید ادا کرلیں لیکن عیدین کی نماز کے بعد چونکہ عربی خطبہ پڑھنا سنت ہے اس لئے اگر عربی خطبہ یا د ہو تو وہ پڑھ لیں یا کتاب و موبائل میں دیکھ کر پڑھ لیں لیکن اگر خطبہ کا اہتمام ممکن نہ ہو تو کوئی حرج نہیں نماز ادا ہو گئی دعاء کرکے فارغ ہو جائیں اور اگر چار افراد کا اجتماع بھی ممکن نہ ہو تو چاشت کے وقت چاشت کی نیت سے دو رکعت یا چار رکعت پڑھ لیں کیونکہ عیدین کی نماز کیلئے کم از کم چار افراد کا ہونا ضروری ہے ا س سے کم تعداد میں جماعت قائم نہیں ہوگی اور اگر چار افراد سے کم نے پڑھ لی تو نماز عید ادا نہیں ہوگی ۔ مولوی انس صدیقی نے بتایا کہ دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام نے بھی حکومت کی جانب سے جاری کردہ گائڈ لائن کے تناظر میں مساجد یا گھروں کے ہال و بیٹھک وغیرہ میں شرائط کی پابندی کے ساتھ عید کی نماز ادا کرنے کی شرعی اپیل جاری کی ہے ۔ عید گاہ کمیٹی کے نائب صدر مولانامحمد سفیان قاسمی نے کہا کہ اس سال ایک آدمی کا صدقہ فطر 36؍روپے ہے اس کے علاوہ جو ،خرما یا کشمش کے حساب سے بھی صدقہ فطر کی ادائیگی کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدقہ فطر نماز عید سے قبل لازمی طور سے ادا کردیں ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close