دیوبند

حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنی حفاظت کے ساتھ دوسروں کے لئے مشکلات پیدا نہ کریں

اسپتالوں میں جگہ اور آکسیجن کی قلت کے سبب فلاحی تنظیمیں اس مشکل گھڑی میں تعاون کیلئے آگے آ رہی ہیں :ڈاکٹر عبید المالک مـــغیثی

دیوبند ،11؍مئی (رضوان سلمانی) ملک کی موجودہ صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے،کورونا وائرس انفیکشن کی تباہی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اس کی زد میں ہر خاص و عام آرہا ہے،لاکھوں افراد اس جان لیوا بیماری سے متاثر ہیں،اموات کی شرح میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا چلاجارہا ہے،ہر طرف ایک عجیب صورت حال اور ایک ہولناک منظر ہے،دوسری طرف ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے جہاں جگہ کی قلت ہے وہیں آکسیجن،بیڈ اور بستروں کی بھی زبردست کمی ہے۔اسی حوالہ سے متعدد فلاحی تنظیمیں اور دینی ادارے کووڈ کے مریضوں کی خدمت اور انتظامیہ کے تعاون کی غرض سے آگے آکر بلا تفریق مذہب حصہ بھی لے رہے ہیں۔اسی کڑی میں ضلع صدر آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور (مولانا ڈاکٹر) عبدالمالک مغیثی نے ضلع مجسٹریٹ سے کووڈ کے مریضوں کی خدمت کے لئے جامعہ رحمت گھگھرولی سہارنپور کے علی میاں ہاسٹل کو عارضی طور پر آئسولیشن ہسپتال بنائے جانے کے لئے گزارش کی اور حسب استطاعت مریضوں کی نگہداشت اور خیال رکھے جانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔اس موقعہ پر انھوں نے مسلمانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے یہ دنیا ایسی بنائی ہے کہ ہمیں اس میں راحت، آرام اور خوشی کے ساتھ مشکلات اور مصائب سے بھی دو چار ہونا پڑتا ہے، ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہو تا ہے وہ اللہ تعالی کی مرضی سے ہوتا ہے۔ آج کل کورونا وائرس کے پھیلنے سے اکثر لوگ خوف و ہراس کے شکار ہیں، ہمیں اپنے خالق پر مکمل یقین اور اعتماد رکھنا چاہئے اور ایسے حالات میں زیادہ سے زیادہ دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہئے۔ اسی کے ساتھ ہمیں طبی ماہرین اور حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے، ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی اور دوسروں کی حفاظت کریں اور خود کے لئے اور دوسروں کے لئے مشکل یا پریشانی کا باعث نہ بنیں اسی لئے بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close