دیوبند

مولانا نور عالم خلیل امینی کے انتقال پر تعزیت کااظہار

دیوبند،4؍اپریل (رضوان سلمانی) معروف نوجوان عالم دین اور ماہنامہ صدائے گنگوہ کے مدیر اعلیٰ و جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ کے استاذ مفتی ساجد کھجناوری نے ممتاز عالم دین مولانا نور عالم خلیل امینی کے انتقال پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا اورکہاکہ حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی کا علمی لحاظ سے مقام و مرتبہ بہت بلند تھا،آپ کے انتقال سے ملک ایک ممتاز عالم اور بے مثال ادیب سے محروم ہوگیا ایک طویل عرصے تک انہوں نے دین اور علم کی خدمت انجام دی اور علم وادب کی وادی کو منور کیا ، ان کادرس مثالی اور ان کی طرز زندگی نمونہ کی تھی،وہ ایک مقبول استاذ ،مستنداور معروف عالم دین بالخصوص عربی فن وادب میں یکتائے روزگار تھے،ان کے جانے سے دارالعلوم دیوبندایک شفیق استاداور بہترین ادیب اور علمی شخصیت سے محروم ہوگئی۔اللہ تعالی حضرت مولاناکی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے ۔معروف ادیب عبداللہ عثمانی نے کہاکہ حضرت مولانا کا علم و فضل، زہد و تقویٰ میں ممتاز مقام تھا، وہ ایک شخص نہیں بلکہ ایک انجمن تھے،عربی ادب پر ان کو بڑاعبور حاصل تھا،ان کی عربی ادب کی خدمات کودیکھتے ہوئے صدر جمہوریہ ایواڈ سے نواز اگیا،عربی بولنے لکھنے پر ان کو جس قدر عبور حاصل تھااردو ادب میں بھی اسی طرح مہارت تھی جو ان کی تصنیفات سے جگ ظاہرہے،پورے ملک کو ان کے زبان و ادب کی وجہ سے ان پر ناز تھاان کے جانے سے ایک بڑا خلا پید اہواہے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ مولانا نورعالم خلیل امینی ان بزرگوں اور علماء میں سے تھے جنہوں نے درس وتدریس تدریس کے میدان میں کارہا ئے نمایاں انجام دیاہے ،اس وقت بڑی تعدادا میں لوگ دنیا سے رخصت ہورہے ہیں جس میں علماء اور غیر علماء دونوں ہیں اللہ تعالیٰ سبھوں کی مغفرت فرمائے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close