دیوبند

دارالعلوم دیوبند کے استاذ مولانا قاسم اور مفتی امین کی اہلیہ کاانتقال

دیوبند،4؍اپریل (رضوان سلمانی) آج دارالعلوم دیوبند شعبہ فارسی کے نوجوان استاذ مولانا قاسم میرٹھی کا شیخ الہند میڈیکل کالج پلکھنی میں علاج کے دوران انتقا ل ہوگیاہے ،وہ کئی روز سے بیمار تھے اور ان کا آکسیجن لیول مسلسل کم ہورہاتھا،انہیں طبیعت ٹھیک ہونے پر تین دن پہلے ہسپتال چھٹی دے دی گئی تھی لیکن آج پھر طبیعت بگڑ گئی اور آکسیجن لیول کم ہوگیا ،جس کے بعد دوبارہ شیخ الہند میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ،مولانا مہدی حسن عینی اور ان کی ٹیم کے ذریعہ مسلسل ان کے لئے آکسیجن کا بندو بست کیاجارہاتھا لیکن مولانا کو افاقہ نہ ہوسکا اور آج دوپہر وہ دارا فانی سے رخصت ہوگئے ہیں۔ ان کے انتقال کی خبر سے دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داران، اساتذہ سمیت علمی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مولانا قاسم میرٹھی گزشتہ کئی سالوں دارالعلوم دیوبند میںشعبہ فارسی کے استاذ تھے،مرحوم انتہائی نیک دل اور متعدد خوبیوں اورکمالات کے مالک شخص تھے،ان کی عمر محض 40؍ سال تھیں ،مرحوم کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ ان کے انتقال سے اہل خانہ و متعلقین پر رنج و غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ دیر شام نم آنکھوں کے ساتھ مولانا مرحوم کی تدفین کردی گئی۔ ادھر دارالعلوم دیوبند کے سینئر استاذ حدیث مفتی محمد امین پالنپوری کی اہلیہ کاآج دوپہر ہسپتال میں انتقال ہوگیاہے۔ مفتی امین پالنپوری اور ان کی اہلیہ کئی روزسے سخت علیل ہیں، انہیں سانس لینے میں دقت ہورہی ہے اور مسلسل آکسیجن لیول کم ہورہاہے، جس کے سبب مفتی صاحب کی اہلیہ کو آ ج ہسپتال میں داخل کرایا گیا ،لیکن کچھ افاقہ نہ ہوسکا اور ان کا انتقال ہوگیا،مرحومہ انتہائی نیک سیرت،غریب پرور،صوم صلوٰۃ کی پابندی ،رحم دل خاتون تھیں،جن کی پوری زندگی علم دین کو پھیلانے اور علم پھیلانے والوں کے تعاون میں گزر ی ہے۔تدفین بعد نماز مغرب عمل میںآئی۔مولانا قاسم اورمفتی صاحب کی اہلیہ کے انتقال دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داران اور اساتذہ نے نہایت رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے تعزیت مسنونہ پیش کی۔مفتی امین پالنپوری کی صحت یابی کے لئے دعاء کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ عالمی وباء کی وجہ سے اچانک ملک میں پیدا ہوئے آکسیجن بحران کے سبب مسلسل ہسپتالوں میں اموات کا سلسلہ جاری ہے اور لوگ اپنوں کو روکتا بلکتا چھوڑ کر رخصت ہورہے ہیں لیکن اسکے باوجود بھی ایک بڑا طبقہ انتہائی غیر سنجیدگی کی مظاہرہ کررہا،بازاروں ،سڑکوں اور مساجد میں یہ طبقہ قطعی طور پر احتیاطی تدابیر اختیا رنہیں کررہاہے ،اتنا ہی نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے نفاذکے باوجود بھی یہ لوگ بلاوجہ اپنے گھروں سے نکل کر عوام مقامات پر ٹہلتے ہیں،جو پورے طبقے اور شہر کے لئے انتہائی مضر ثابت ہوسکتاہے۔دیوبند میں عالمی وباء کی وجہ سے مسلسل اموات ہورہی ہیں اور گزشتہ ایک ہفتے میں دو درجن سے زائد معروف و غیر معروف مردو خواتین اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close