دیوبند

رمضان کے تینوں عشروں میں خوبیاں اور امتیازہے، سحر و افطار دونوں و قت خصوصی دعائوں کا اہتمام کرنا چاہئے : مولانا شمشیر قاسمی

دیوبند ،3؍مئی (رضوان سلمانی) ہر مہینہ کے تین عشرے ہوتے ہیں لیکن یہ عظمت صرف رمضان کو حاصل ہے کہ رسول آخر صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے تینوں عشروں کی خوبی اور امتیاز کو بیان فرمایا ہے ۔ رمضان کے سوا کوئی اور مہینہ نہیں جس کے عشروں کو یہ فضیلت حاصل ہو۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتبار سے پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا عشرہ ہے ۔ اس اعتبار سے اس رمضان کا پہلا اور دوسراعشرہ گزرچکا اورتیسرے عشرہ کا آغاز ہے، جو مستعد اور بیدار لوگ ہیں وہ بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز رہتے ہیں ، نماز وں کا اہتمام کرتے ہیں ، تلاوت سے غافل نہیں ہوتے ، جھوٹ سے بچتے ہیں ، فریب اور دھوکہ کے قریب نہیں جاتے ، چغل خوری سے اجتناب کرتے ہیں اور جو گناہ ان سے ہوئے ان کی معافی اس عشرۂ خاص میں مانگتے ہیں ، آپ جانتے ہیں کہ روزہ نام ہے ایک وقت خاص سے دوسرے وقت خاص تک کھانے پینے اور ہمبستری سے رکنے کا، جس نے یہ تینوں چیزیں اختیار کیں کہ نہ تو کچھ کھایا اور نہ پیا اور نہ اپنی زوج کے قریب گیا اس نے رمضان کے مقصد کو پانے کی کوشش کی ، اس لئے کہ بندہ اپنے رب کے حکم سے کھانے اور پینے سے رکتا ہے ، ضبط کا معاملہ کرتا ہے اور پیٹ کے ہزار تقاضوں کے باوجود کھانے کو ہاتھ نہیں لگاتا تو یقینی طور پر اللہ اس شخص کو اپنے رحم سے نوازتے اورسربلند کرتے ہیں۔ جو لوگ رمضان میں روزہ نہیں رکھتے ، حکم الٰہی کی پابندی نہیں کرتے وہ محروم القسمت ہیں کہ انہوں نے اپنی دنیا کو بھی خراب کیا اور اپنی آخرت کو بھی برباد کرنے کے درپئے ہوئے ۔ جن اللہ کے بندوں کے قلوب میں یہ بات نصب ہوچکی ہے کہ یہ زندگی عارضی اور وقتی ہے اس زندگی کے بعد چندمراحل سے گزرکر مستقل زندگی کا آغاز ہوگا اس اصلی زندگی کے لئے اپنے نامۂ اعمال کو حسین اور پرنور بنانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ یہ اعالم فنا ہونا ہے ، کوئی چیز باقی نہ رہے گی اس لئے وہ کام کرنے چاہئیں جو دائمی زندگی کے لئے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور انہیں پر نجات کا دارومدار ہے ۔ جو لوگ روزہ دار کے افطار کا اہتمام کرتے ہیں ان کو خوب ثواب ملتاہے ، افطار کرانے کے لئے ضروری نہیں کہ انواع واقسام کے کھانے ، پھل اور فروٹ ہوں بلکہ ایک کھجور سے بھی افطار کرانے والے کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا روزہ رکھنے والے کو اور خدائی مہربانی کی انتہا یہ ہے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ۔ سحر اور افطار کا وقت قبولیت دعا کا وقت بھی ہے ان دونوں وقت میں دعائوں کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئے ۔ رمضان کا یوں تو ہر لمحہ محترم ، معظم اور مبارک ہے مگر ان دو اوقات یعنی افطار وسحر میں کی جانے والی دعائوں کی قبولیت کا زیادہ امکان اور زیادہ یقین ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close