دیوبند

دارالعلوم دیوبند کے استاذ ادیب العصر نامور محقق مولانا نور عالم خلیل امینی کے انتقال سے علمی حلقے مغموم ، جنازہ کا منظر

مولانا نور عالم خلیل امینی عربی زبان کے ممتاز اسکالر تھے اور دارالعلوم دیوبند کے نہایت مقبول و مؤقر اساتذہ میں ان کاشمار ہوتا تھا

دیوبند ،3؍مئی (رضوان سلمانی)دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز استاذ ادیب العصر نامور محقق و رئیس ماہنامہ ’’الداعی‘‘دارالعلوم دیوبند مولانا نور عالم خلیل امینی چند دنوں بیمار رہنے کے بعد گذشتہ شب دوران علاج اپنے رب حقیقی سے جا ملے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔مولانا نور عالم خلیل امینی گزشتہ کئی روز سے سخت علیل تھے ،دیوبند ،مظفرنگر اور میرٹھ میں ان کا علاج ہوا لیکن افاقہ نہیں ہوسکاہے، ان کے انتقال سے نہ صرف دارالعلوم دیوبند بلکہ جملہ ارباب مدارس اور علمی حلقوں کے ساتھ عالم اسلام میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مولانا مرحوم کی عمر تقریباً69؍ سال تھی اور انہوں نے علی الصبح سحری کے وقت تقریباً سوا تین بجے آخری سانس لی۔

مولانا نور عالم خلیل امینی عربی زبان کے ممتاز اسکالر تھے اور دارالعلوم دیوبند کے نہایت مقبول و مؤقر اساتذہ میں ان کاشمار ہوتا تھا،ان کا انتقال نہ صرف دارالعلوم دیوبند بلکہ پوری ملت اسلامیہ ہند اور عالم اسلام کا بڑا نقصان ہے، مولانا مرحوم کے ہزاروں شاگرد ہیں جو دنیا بھر میں علم و دین اورزبان و ادب کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی عربی زبان وادب میں نمایاں اور ممتاز خدمات کے اعتراف میں سال 2018ء میں یوم آزادی کے موقع پر صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کے ہاتھوں انہیں راشٹرپتی بھون میں خصوصی اعزاز سے نوازاگیا تھا۔انہوںنے درسی و غیر درسی درجنوںکتابیں تحریر کیں ،ان کی کتاب مفتاح العربیہ اکثر دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے۔مرحوم کی قابل ذکر علمی وتصنیفی کارناموں میں ’وہ کوہ کن کی بات‘’فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں‘’پس مرگ زندہ‘’موجودہ صلیبی وصہیونی جنگ‘’کیا اسلام پسپا ہورہاہے‘’مفتاح العربیہ،’الدعوۃ الاسلامیہ بین الامس والیوم وغیرہ شامل ہیں۔انکی کتاب’’فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں ‘پر آسام یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی گئی ہے۔ مولانا مرحوم کا آبائی وطن مظفرپور بہار ہے۔حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی کی رحلت پر دارالعلوم دیوبند ،دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری ،مولانا محمد سفیان قاسمی ،مولانا عبد الخالق مدراسی ،مولانا عبدالخالق سنبھلی و دیگر اساتذہ کرام و علماء کرام نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پسماندگان کو تعزیت مسنونہ پیش کی اور مولانا مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کی ۔

دارالعلوم دیوبندکے کارگذار (Mohtamim) مہتمم مولانا قاری سید محمد عثمان نے مولانا نور عالم کے سانحہ ارتحال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا نور عالم خلیل امینی کے حادثہ وفات نے انہیں اور ادارہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا نور عالم عربی زبان کے ماہر استاذ اور اردو کے صاحب طرز ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ مثالی معلم تھے ۔ انہوںنے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کے وہ فضلاء جو اس وقت زبان و قلم سے اپنے دین اور عربی ادب کی خدمات انجام دے رہے ہیں بیشتر مولانا نور عالم کے شاگرد اور ان کی بافیض شخصیت کا پرتو ہیں ۔اللہ تعالیٰ انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور دارالعلوم دیوبند کو ان کا نعم البد ل عطا فرمائے ۔ بزرگ عالم دین اور جمعیۃ علماء ہند کے قائد مولانا سید ارشد مدنی نے مولانا نور عالم خلیل امینی کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کا انتقال مادر علمی دارالعلوم دیوبند اور اردو زبان و ادب کے ساتھ ساتھ عربی ادب کیلئے بھی بہت بڑا خسارہ ہے ۔ مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مولانا مرحوم انتہائی حساس ،اصول پسند ،مستغنی اور خدار شخصیت کے مالک تھے ،وہ جہاں رہے وہاں کی ضرورت بن کر رہے ،مولانا مرحوم علم و ادب کا سرمایہ تخلیق کرنے کے حوالہ سے تنہا ء ایک انجمن تھے مجھے ان کی بیماری کا علم تھا ان کیلئے دعائے صحت کا بھی اہتمام کیا گیا لیکن مالکِ حقیقی کو کچھ او رہی منظور تھا اس لئے اس بابرکت مہینہ کی گذشتہ شب وہ رب کریم کے جوار ِ رحمت میں پہنچ گئے ،اللہ تعالیٰ لغزشوں سے درگذر فرماکر اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمائے اور ان کی اولاد ،لواحقین ،تلامذہ و متعلقین کو صبر جمیل نصیب فرمائے ۔

دارالعلوم وقف دیوبند کے (Mohtamim) مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے مولانا نور عالم خلیل امینی کی رحلت پر اظہارِافسوس اور اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حضرت مولانا کی رحلت کی افسوس ناک خبر صبح سویرا ملی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا نور عالم خلیل امینی دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز استاذ ،الداعی کے ایڈیٹر اور عربی ادب کے مایہ ناز استاذ تھے ۔انہوں نے کہاکہ مولانا کی وفات علمی دنیا بالخصوص دارالعلوم دیوبند کیلئے ناقابل تلافی خسارہ ہے ،اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرماکر انہیں فردوس بریں میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے جملہ لواحقین و پسماندگان کو صبر کی توفیق دے ۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا نور عالم خلیل امینی ایک نفیس ،شائستہ اور بلند اخلاق انسان تھے ، بہت سی انسانی خوبیوں کے ساتھ علم و ادب کے ماہر تھے ،مرحوم عربی او راردو زبان کے اعلیٰ سطح کے قلم کار اور مصنف تھے ان کا شمار ان بڑے لوگوں میں ہوتا تھا جو اپنی درسی اور قلمی خدمات کے حوالہ سے ممتاز ہیں ،اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمتوں سے سرفراز فرمائے ۔دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مولانا نور عالم خلیل امینی عربی و اردو زبان و ادب کے ماہر تھے ،دونوں ہی زبانوں میں ان کی لاتعداد شاہکار تحریریں اہل علم و ادب تک پہنچیں ،ان کی زبان شیریں ،پختہ ،البیلی اور جاذب ِ قلب و نظر تھی ،ان کا شمار جماعتِ دیوبند کے نمائندہ قلم کاروں میں ہوتا تھا ،اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت فرمائے ۔ معروف عالم دین مولانا ندیم الواجدی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ۔آپ معروف عالمِ دین، مایہ ناز ادیب اور ازہرِ ہند دار العلوم دیوبند میں عربی ادب کے استاذ تھے۔ آپ کی عربی اور اردو زبان میں متعدد کتابیں منظرِ عام پر آئیں، اور کافی مقبول ہوئیں۔مولانا کا اس دار فانی سے کوچ کر جانا دارالعلوم ہی نہیں بلکہ پورے علمی اور ادبی حلقوں کے لئے عظیم خسارہ ہے۔ یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا کا انتقال نہ صرف مادر علمی دارالعلوم دیوبند کا بلکہ عربی زبان و ادب کا بھی بہت بڑا خسارہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مولانا مرحوم انتہائی خوش اخلاق اور مہمان نواز تھے ۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ مولانا سے استادی و شاگردی کا تعلق نہیں تھا لیکن مرحوم کی تحریروں سے اکثر استفادہ کرتا رہتا تھا ،اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کا ملہ فرمائے اور اجر عظیم سے نوازے ۔ ضلع صدر آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور (مولاناڈاکٹر) عبدالمالک مغیثی نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تاثرات میں فرمایا کہ آپکی رحلت ایک حادثہ فاجعہ ہے اس سے جو زبردست خلا پیدا ہوگیا ہے اس کا پرہونا بیحد مشکل ہے۔ ان کے انتقال پُرملال سے دارالعلوم دیوبند اور مسلمانان ہند ہی نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا زبردست نقصان ہے۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے خادم مولانا دلشاد قاسمی نے مولانا نور عالم کی وفات پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا کی وفات علمی دنیا کا ناقابل تلافی نقصان ہے ،اللہ تعالیٰ دارالعلوم دیوبند کو ان کا نعم البدل مرحمت فرمائے اور ان کی شاندار خدمات کے صدقہ میں ان کے درجات بلند فرمائے ۔ اس کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کے نائبین مولانا عبدا لخالق مدراسی ،مولانا عبد الخالق سنبھلی و دیگر علمائے کرام ،اساتذہ کے علاوہ دیوبند کی علمی و ادبی شخصیات نے بھی مولانا مرحوم کے سانحہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا ہے ۔مولانا مرحوم کی نمازِ جنازہ دو پہر 1؍بجے داراالعلوم دیوبند کے احاطہ مولسری میں مولانا سید ارشد مدنی نے ادا کرائی ،بعد ازاں سیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں تدفین قبر ستان قاسمیہ میں عمل میں آئی ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close