ممبئی

بنگال میں بھاجپا کے بچھڑنے پر شیوسینا کا تبصرہ: اس ہار جیت کا اثر مرکزی حکومت پر بھی پڑے گا : سنجے راوت

نئی دہلی ، ۲؍مئی ( ہندوستان اردو ٹائمز ) مغربی بنگال میں بی جے پی ذلت آمیز شکست کے قریب ہے ، اس کے تحت شیوسینا نے بھگوا پارٹی پر طنز کیا ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں سیاسی اتھل پتھل کا تجزیہ کرنے والوں کو اس بات کی بھی فکر کرنی چاہئے کہ کیا مرکزی حکومت جو کورونا وبا کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے ، کیا وہ سرکار دہلی میں مستحکم رہ سکے گی۔ شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت نے اپنی پارٹی کے ترجمان سامنا کے ہفتہ وار کالم میں لکھا کہ جو لوگ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ 2 مئی کو انتخابات کے بعد مہاراشٹر میں سیاسی تبدیلی آئے گی ، انہیں بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دہلی میں بھی اس کے جھٹکے محسوس کیے جائیں گے۔سنجے راوت نے کہا کہ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی فتح بنگال میں بی جے پی کی انتخابی مہم کی قیادت کرنے والے سر برآوردہ سیاستداں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے لئے بھی ذاتی شکست ہوگی۔

انہوں نے لکھا کہ جو لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ حکومت مہاراشٹر کا مستقبل مغربی بنگال کے نتائج پر منحصر ہے وہ غلط فہمی میں جی رہے ہیں، مجھے حیرت ہے کہ کس بنیاد پر کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ امیت شاہ اب مہاراشٹرا حکومت کو ختم کرنے پر توجہ دیں گے۔ وہ یا تو اپنی دولت کی طاقت کی بنیاد پر حکمران جماعت کے ایم ایل اے کا خرید و فروخت کریں گے ،یا وائرس سے نمٹنے میں مبینہ ناکامی کا حوالہ دے کر صدرراج کے نفاذ کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے کہا اگر کرونا وجہ ہے، تو پھر اس حقیقت کو قبول کرنا ہوگا کہ مرکزی حکومت کو اپنے عہدے پر قائم رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے، ایسے وقت میں جب ادویات اور آکسیجن کی قلت ہے اور 5 ہزار سے زیادہ افراد موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں ۔مغربی بنگال میں سیاسی فتح کے لئے بی جے پی اور اس کی قیادت نے پورے ملک کو خطرہ میں ڈال دیا،اس حقیقت کو سپریم کورٹ نے قبول کیا ہے۔واضح ہو کہ اب تک کے رجحان میں ترنمول کانگریس 200 سے زیادہ سیٹیں جیتتی ہوئی نظر آرہی ہے، جب کہ زعفرانی جماعت کے نصیبے میں ذلت آمیز شکست مقدر ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close