دیوبند

دیوبند: علمی و ادبی شخصیات کے حادثہ ہائے وفات سے دیوبند کا ادبی و صحافتی نقصان: مولانا نسیم اختر شاہ قیصر

دیوبند ،2؍مئی (رضوان سلمانی) دیوبند نے گذشتہ دنوں میں علمی ،ادبی اور صحافتی سطح پر بڑے نقصان کا سامنا کیا ہے ۔ ایک کے بعد ایک حادثہ ہائے وفات نے اس شہر کی ادبی اور صحافتی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے ۔ مولانا حسن الہاشمی ،منظور عثمانی اور عادل صدیقی کے بعد اب ہارون حسرت نے داغِ مفارقت دے دیا ہے ۔ دیوبند کے ادبی حلقوں میں حسرت دیوبند کی جدائی کو شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا ،ان کے اچانک انتقال پر دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ اور نامور ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ہارون حسرت ایک محنتی اور جفاکش انسان تھے اور ان میں کچھ بننے اور آگے بڑھنے کا جذبہ شدید تر تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میری ان سے ملاقات اور آمد و رفت بڑی قدیم تھی ۔ مولانا موصوف نے بتایا کہ ہارون حسرت نے انتہائی خاموشی کے ساتھ اپنا شعری اور قلمی سفر شروع کیا اور چند سالوں ہی میں ابتدائی نقوش قائم کرنے میں کامیاب رہے ،انہوںنے ایم اے اردو کا سفر میری مشاورت اور مسلسل رہنمائی میں طے کیا ،شعر و ادب سے ان کی دلچسپی فطری تھی ،ان کے شعری مجموعوں سے لیکر افسانوی مجموعہ ’گرہ‘تک کا زمانہ میری نظروں کے سامنے ہے ۔مولانا نسیم اختر شاہ نے کہا کہ مستقبل میں حسرت دیوبندی سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں مگر واقت ِ موعود آگیا اور وہ اپنے خالق کے حضور حاضر ہو گئے اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمتوں سے نوازے ۔بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر نواز دیوبند ی نے حسرت دیوبندی کے انتقال پر صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہارون حسرت مرحوم دیوبند کی ادبی زندگی کا ایک حصہ بن گئے تھے ،انہوںنے اپنی محنت ،لگن اور شوق کے کئی کامیاب نمونے شعری اور افسانوی مجموعوںکی صورت میں پیش کئے ۔ ڈاکٹر نواز دیوبند ی نے کہا کہ ہارون حسرت شعر بھی اچھا کہتے تھے اور نثر بھی خوب صورتی کے ساتھ لکھنے میں کامیاب تھے ۔ انہوںنے کہا کہ انہیں اس بات کا یقین تھا کہ آنے والے وقت میں ہارون حسرت کے جوہر مزید کھل کرسامنے آئیں گے لیکن ان کی زندگی نے وفا نہ کی اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے ۔ یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے ہارون حسرت کے انتقال پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہارون حسرت ایک بہترین انسان ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے افسانہ نگار اور شاعر تھے ۔ انہوںنے کہا کہ در اصل کچھ صلاحیتیں فطرت کا حصہ ہوتی ہیں اور موقع ملنے پر وہ ابھر کر سامنے آتی ہیں ،ہارون حسرت کو بھی اللہ تعالیٰ نے شعر و ادب کا سلیقہ دیا تھا اور انہوں نے بہت کم وقت میں ادبی میدان میں اپنی پہچان بنائی اور مسلسل اس راہ پر چلتے رہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہارون حسرت نہایت خوش مزاج ،ملنسار ،مستعد ،درد مند اور بیحد فعال شخص تھے خدا و ند ِ قدوس انہیں غریقِ رحمت کرے ۔نامور قلمکار اور صحافی سید وجاہت شاہ نے ہارون حسرت کے انتقال پر اپنے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہارون حسرت بہت سی صفات کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے شاعر بھی تھے ۔ انہوں نے کہا کہ شعر کہنا اورچیز ہے اور افسانہ نگاری الگ صنف ہے دونوں میں کوئی قریبی رشتہ نہیں لیکن اظہارِ بیان کے ان دونوں سلسلوں سے حسرت دیوبندی کا رشتہ تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ رشتہ مضبوطی کی طرف بڑھ رہا تھا افسوس کہ ان کی زندگی کے ساتھ ہی یہ سفر بھی ناتمام رہا رب کریم ان کے درجات بلند فرمائے ۔آمین ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close