دیوبند

مدرسہ معاون الاسلام انجمن کے ناظم مولانا عبد المؤمن کے اچانک انتقال پر دیوبند کے علمی ودینی حلقے سوگوار

مولانا عبد المؤمن کی رحلت سے ہونے والے خسارہ اور پیدا شدہ خلا کی بھر پائی آسان نہیں :مولانا مفتی عفان منصورپوری

دیوبند،16؍اپریل (رضوان سلمانی )مدرسہ معاون الاسلام انجمن کے ناظم مولانا عبد المؤمن کے اچانک انتقال پر دیوبند کے علمی ودینی حلقے سوگوار ہوگئے ۔مولانا عبد المؤمن کے انتقال کی خبر سننے کے بعد دیوبند کے مدارس کے ذمہ داران اور علماء حضرات نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے ۔ معروف عالم دین مولانا مفتی عفان منصورپوری نے اس اچانک سانحہ پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبد المؤمن ندوی نقشبندی نور اللہ مرقدہ کے اچانک انتقال پرملال کی خبر نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، چونکہ پیشگی چند روزہ علالت کی بھی کوئی اطلاع نہ تھی اسلئے یہ خبر مزیدصاعقہ اثر بن کر ظاہر ہوئی۔مولانا مرحوم شہر سنبھل کی معروف دینی درسگاہ ” مدرسہ معاون الاسلام انجمن ” کے ناظم و روح رواں تھے اور خود بھی اپنی ذات میں واقعتا ایک انجمن تھے، مدرسہ یا دوسرے پروگراموں کے انتظام و انصرام کا مسئلہ ہو یا نونہالان قوم کی علمی و دینی تربیت مولانا ہمہ دم متحرک نظرآتے تھے، اسی طرح سماج و معاشرے میں عام ہونے والے رسوم و رواج اور خلاف شرع اعمال کی بیخ کنی ہو یا دعوت فکر و عمل مولانا اپنی سحر انگیز اور پر اثر خطابت کے ذریعہ ہوا کے رخ کو بڑی حد تک پھیرنے اور سامعین کے دلوں پر حکومت کرنے کی خداداد صلاحیت رکھتے تھے، حضرت اقدس پیر فقیر ذوالفقار نقشبندی دامت برکاتہم سے اصلاحی تعلق کے بعد خانقاہ کا نظام بھی آپ کی زیر نگرانی بڑی کامیابی کے ساتھ چلتا رہا اور خلق خدا بڑی تعداد میں فیض یاب ہوتی رہی۔مولانا مفتی عفان نے کہا کہ آپ کی رحلت سے جو خسارہ ہوا ہے اور پورے علاقہ میں جس خلا کو محسوس کیا جارہا ہے اس کی بھرپائی بآسانی ممکن نہیں، باری تعالی آپ کی مغفرت فرمائیں اور امت کو آپ کا نعم البدل نصیب فرمائیں۔انہوں نے کہا کہ موت تو بر حق ہے، وقت موعود پر سب کو جانا ہے؛ لیکن مولانا مرحوم نے زندگی کی آخری سانسیں لینے کے لئے، خاتمہ بالخیر کے طور پر جو مبارک لمحات پائے ہیں وہ ان کی نیکی اور عند اللہ دینی خدمات کی قبولیت کا نشان ہیں، ذرا تصور کیجئے رمضان کا مبارک مہینہ، عشرہ رحمت اور پھر سید الایام ” جمعہ ” کا مبارک دن، یہی وہ سعادت ہے جس پر رشک آتا ھے۔مولانا جوار رحمت الہیہ میں تشریف لے گئے ان سے متعلق یادیں، ہنستا مسکراتا، سراپا متحرک وجود، کہیں بھی نظر پڑتے ہی تیز قدموں کے ساتھ لپکنا اور بڑی شفقت و محبت اور اپنائیت کے ساتھ سلام و مصافحہ کے بعد بغل گیر ہوجانا اور ہم جیسے چھوٹوں کے ساتھ بھی بے انتہاء خورد نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عزت افزائی اور اکرام کا ایسا معاملہ کرنا کہ بعض دفعہ ہمیں خود شرم سی محسوس ہونے لگے وہ چیزیں ہیں جو ذہن و دماغ سے محو نہیں ہوسکتیں۔اس موقعہ پر ہم مولانا کے فرزندان: عزیزم مولوی عبد المہیمن سلمہ اور عزیزم عبد الملک سلمہ اور دیگر اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ باری تعالی مولانا مرحوم کو اپنے قرب خاص سے نوازیں، جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائیں، دینی خدمات کا اپنی شایان شان بدلہ مرحمت فرمائیں اور جملہ پسماندگان و متعلقین کو صبر جمیل عطاء فرمائیں، آمین۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close