دیوبند

دیوبند: روزہ انسانی عبادت کے ساتھ صحت کیلئے بے حد مفید ہے : جسطرح مال کی زکوٰۃ روپیہ پیسہ ہے اسی طرح روز ہ جسم کی زکوٰۃ ہے :ڈاکٹر انور سعید

دیوبند،15؍اپریل (رضوان سلمانی) روزہ ایک مومن کیلئے عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کیلئے بھی بے حد مفید ہے اگر لوگ روزہ کی حکمت اور طبی اعتبار سے اسکے ذہنی ،جسمانی فوائد سے واقف ہو جائیں تو وہ سال کے زیادہ تر ایام میں روزہ رکھنے کا معمول بنالیں ۔ان خیالات کا اظہار جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ شاید یہ محض مفروضہ ہے کہ روزہ رکھنے سے جسم میں کوئی نقص یا کمزوری واقع ہو جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ روزہ دار کو روزہ کی حالت میں بھی پانی اور کیلوریز جسمانی طور پر اسی قدر مل جاتی ہیں جس قدر یہ عام دنوں میں ملتی ہیں ۔ روزہ سے متعلق مغربی محققین نے بھی روزہ کے بے شمار فوائد اور ثمرات بیان کئے ہیں ۔ محققین کا کہنا ہے کہ روزہ سے انسان کے نظام ِ ہضم اور دماغی نظام کو مکمل آرام ملتا ہے اور غذا کے ہضم ہونے کا نظام عام حالت پر آ جاتا ہے ۔ ڈاکٹر سعید انور نے بتایا کہ روز ہ کی وجہ سے جسم کو ہاضمہ کے عمل سے گذرنا نہیں پڑتا اسلئے جسم کیلئے یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے اندر کے زہریلے مادوں کو خارج کر سکے ۔ اس عمل سے جسم کو شفاء یابی حاصل ہوتی ہے یعنی روزہ جسمانی اعضاء کو باقاعدگی کے ساتھ آرام مہیا کراتے ہیں اور ضعیفی آنے کے عمل کو آہستہ کر کے زندگی کو طویل اور صحت مند بناتے ہیں ۔ڈاکٹر سعید انورنے کہا کہ ہمارے مذہب میں جس طرح مال کی زکوٰۃ ہے اسی طرح روزہ جسم کی زکوٰۃ ہے ۔ جس طرح زکوٰۃ مال میں سے گندگی کو نکال کر اس کو صاف کر دیتی ہے اسی طرح روزہ جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرکے جسم کو صاف و شفاف کر دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ روزہ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ انسان کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے اسلئے موجودہ وقت روزہ کی بڑی زبردست اہمیت او رافادیت ہے کیونکہ کورونا کی مہلک بیماری سے محفوظ رہنے کیلئے مدافعتی نظام کا مضبوط ہونا نہایت ضروری ہے اسی طرح نئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خوراک کی مقدار کم کردینے سے عمر دراز ہوتی ہے اس کے علاوہ روزہ رکھنے سے نہ صرف دماغی صلاحیت بہتر ہوتی ہے بلکہ مخصوص دماغی بیماریوں مرگی ،فالج، نسیان اور دیگر امراض سے بھی حفاظت ہوتی ہے ۔ اسکے علاوہ جو لو گ قوت ارادی کے کمزور ہوتے ہیں اور تھکاوٹ و کمزوری کا شکار رہتے ہیں یا دماغی و ذہنی کمزوری میں مبتلا رہتے ہیں روزے ایسے افراد کو اس قابل بنا دیتے ہیں کہ وہ زندگی میں بڑے بڑے کام انجام دے سکیں۔ ڈاکٹر سعید انور نے بتایا کہ پچاس ساٹھ سال کی عمر میں عموماً انسان کو بھولنے کی بیماری لاحق ہو جاتی ہے لیکن روزہ رکھنے سے ایسے مریضوں کے دماغ میں خلیے بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور انسانی یا دداشت میں اضافہ ہونے لگتا ہے ۔اسی طرح روزہ رکھنے سے بے اولاد خواتین کے یہاں اولاد ہونے کے امکانات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ روزہ ایک ایسی جامع عبادت ہے جسمیں بے شمار روحانی اور طبی فوائد موجود ہیں جس کا اعتراف مسلم حکماء کے علاوہ غیر مسلم حکماء نے بھی کیا ہے اور جدید میڈیکل سائنس نے تو روزہ کے فوائد سے متعلق مزید ثبوت فراہم کر دئے ہیں بلکہ مغربی ماہرین طب نے اب قبول کر لیا ہے کہ روزہ واحد عظیم ترین طریقۂ علاج ہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close