دیوبند

روزہ ہر مومن کیلئے روحانی ٹریننگ اور اعلیٰ اخلاقی تربیت ہے:روزہ صرف گناہوں سے بچنے کا طریقہ ہی نہیں بلکہ جسمانی بیماریوں سے بچنے کا بھی طریقہ ہے

دیوبند،14؍اپریل (رضوان سلمانی) ایک مومن بندہ کی سب سے بڑی خدمت اور اس کے ساتھ بہترین ہمدردی کوئی دوسری نہیں ہو سکتی سوائے اس کے کہ اس کو ایسے اعمال صالحہ کے راستہ پر لگا دیا جائے جو اسکے لئے آخرت کا بہترین ذخیرہ بن جائے ۔ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہو چکا ہے ،اس پورے ماہ میں تلاوت کلام پاک کی کثرت کے علاوہ روز ے رکھنا ہر بالغ و عاقل مسلمان پر فرض ہے۔ روزہ رکھنے والے کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہررو زہ دار کو روزہ کا اجر میں خود دوں گا ۔ ایک مومن کے لئے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسکو اس کے دین کے ذریعہ ایک ایسی عبادت عنایت فرمائی جسکا اجر اللہ نے خود دینے کا وعدہ فرمایا ۔ سن دو ہجری میں روزے کی فرضیت ہوئی جسکی فرضیت قرآن سے ثابت ہے قرآن میں کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فر ض کئے گئے تھے ۔ تاکہ تم پرہیز گار بن جائو ۔روزہ کو عربی میں صوم کہتے ہیں ،صوم کے معنیٰ صبح صادق سے غروب آفتاب تک نیت کے ساتھ خالص اللہ کے لئے کھانے پینے اور دیگر ممنوعات شرعیہ سے اپنے آپ کو روکے رکھنا ہے ۔ رمضان المبارک خدا تعالیٰ کا مہینہ ہے یہ تمام مہینوں سے افضل ہے ۔ اس ماہ میں قرآن شریف کا نزول ہوا اسی وجہ سے ماہِ رمضان کو عزت و شرف حاصل ہوا ہے ۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے ۔ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے سے تزکیہ نفس ہوتا ہے ۔ روزہ کا منشاء انسانی اخلاق کی اعلیٰ تربیت ہے اور اس کا مقصد انسانی معاشرہ میں امن و سلامتی بھی قائم کرنا ہے ۔ حقیقت میں روزہ ہر مومن کے لئے ایک روحانی ٹریننگ ہے جس کے دوران جذبات کو قابو میں رکھنا ،شہوت نفسانی اور غصہ کو قابو میں رکھنا ہے یعنی روزہ کے دوران انسان کو صبر کا پیکر بنانا ہے ۔ اور صبر یہ ہے کہ بدلہ کی طاقت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضاء کیلئے لوگوں کی تکالیف کو برداشت کیا جائے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص کسی تکلیف یا ناروا سلوک کے بدلہ میں برا بھلا کہنے کی قدرت کے باوجود صبر کا مظاہرہ کرتا ہوا غصہ کو قابو میں کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بے شمار نعمتوں سے نوازے گا ۔ اسکے علاوہ روزہ کے بہت سارے طبی فوائد ہیں اس لئے صرف گناہوں سے بچنے کا طریقہ ہی نہیں بلکہ جسمانی بیماریوں سے بچنے کا طریقہ بھی ہے ۔ زیادہ کھانے سے نظام ِ ہضم بگڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے بدن میں زہریلے مادے پیدا ہو جاتے ہیں ان سب غیر ضروری چیزوں کو طب یونانی میں اختلاط فاسدہ کہتے ہیں جو تمام بیماریوں کی جڑ ہیں۔ ان اختلا ط فاسدہ کو بدن سے نکالنا ہی بیماریوں کا علاج ہے اور روزہ عبادت الٰہی کے ساتھ ساتھ اس کا بہترین علاج ہے ۔ اسلئے ہر بندہ ٔ مومن کو چاہئے کہ رمضان المبارک کا احترام کرے اس کی عظمت ،اس کی فضیلت اور اسکے تمام مقاصد کو پیش نظر رکھ کر ماہِ صیام کی برکات و رحمت سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور مضبوط ارادہ کرے کہ اس ماہِ مبارک میں اپنے اندر صبر و تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کرے جو روزہ کا مقصد اور نچوڑ ہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close