دیوبند

قرآنی آیات سے متعلق پٹیشن دائر کرکے وسیم رضوی نے دنیا کے مسلمانوں کی دل آزاری کی

پٹیشن رد کرنے کے ساتھ ساتھ جرمانہ عائد کرنا عدالت عظمیٰ کا قابل ستائش فیصلہ :نسیم انصاری ایڈووکیٹ

دیوبند،13؍اپریل (رضوان سلمانی) شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئر مین کی جانب سے 26قرآنی آیات کو حذف کرنے کے سلسلہ میں دائر کی گئی پٹیشن پر گذشتہ روز اس ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے دائر کردہ پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے وسیم رضوی پر عدالت کا وقت برباد کرنے پر 50ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے ۔ مذکورہ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی بینچ نے پٹیشن کو بیہودہ اور ناقابل سماعت بتاتے ہوئے خارج کر دیا اور عدالت کا وقت برباد کرنے کیلئے 50ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر دیوبند مومن کانفرنس کے صدر نسیم انصاری ایڈووکیٹ نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ قابل تعریف ہے لیکن چونکہ وسیم رضوی نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور خلفاء راشدین پر قرآن میں اپنی مرضی سے کمی بیشی کرنے کا بیہودہ الزام عائد کیا ہے اس لئے مذکورہ جھوٹے الزامات کی پاداش میں سپریم کورٹ کو وسیم رضوی پر کم از کم ایک کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کرنا چاہئے تھا تاکہ مستقبل میں بھی کوئی شخص کسی مذہب کے بارہ میں اس طریقہ سے اپنی بری ذہنیت کوظاہر کرنے کی ہمت نہ کرتا ۔ نسیم انصاری ایڈووکیٹ نے ان تمام افراد ،تنظیموں اور وکلاء کو بھی مبارکباد دی ہے جنہوں نے وسیم رضوی کی اس پٹیشن کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران پرزور مخالفت کی ہے ۔سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کی سعید حسن انصاری ،ڈاکٹر شبیر کریمی ،صلاح الدین انصاری ،تحسین خاں ایڈووکیٹ ،منصور انور خاں ایڈووکیٹ ،رضوان قاسمی ایڈووکیٹ اور ادریس انصاری کے علاوہ عبد الغنی خاں ،سرفراز کریمی اور ڈاکٹر شہزاد انصاری وغیرہ نے بھی ستائش کی ہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close