دیوبند

بنیادی تعلم کے حصول کی سہولتیں میسر ہونے کے باوجود لڑکیوں کی تعلیم میں کئی مسائل حائل

بیٹیوں کو بھی تعلیم دیں کیونکہ بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیاں بھی مستقبل کی معمار ہیں :صباء حسیب صدیقی

دیوبند،13؍اپریل (رضوان سلمانی) ہمارے ملک ہندوستان میں بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے متعدد تعلیمی پروگرام نافذ ہیں ۔ قوم کے نونہالوں کیلئے تعلیم کا بنیادی حق اسکیم کے تحت ہندوستان میں 6سال سے 14سال تک کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم دئے جانے کا قانون ہے ۔اتنے بڑے پیمانہ پر 14سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم دینے کے پروگرام کا نام ’’سب کیلئے بنیادی تعلیم ‘‘ ہے لیکن تعلیم کو بنیادی حق قرار دینے کے بعد بھی ایسی بہت سی رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں دشواریاں پیش آتی ہیں ۔پبلک گرلز انٹر دیوبند کی پرنسپل صباء حسیب صدیقی نے بنیادی اور لازمی تعلیم سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی تعلیم کیلئے اس قدر سہولتیں میسر ہونے کے با وجود لڑکیوں کی تعلیم کے معاملہ میں کئی دشواریاں ابھی بھی درپیش ہیں ۔ انہوںنے بتایا کہ سب سے بڑی رکاوٹ خاندانوں کی لڑکیوں کے بارہ میں تنگ نظری اور تعصب ہے ،کیونکہ جیسے ہی لڑکیاں کچھ سیکھنے کیلئے تیار ہوتی ہیں ،تو انہیں گھریلو امور میں الجھاکر قید کر لیا جاتا ہے اور ان کے والدین یا سرپرست ان کی تعلیم کے لئے کسی قسم کی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ ایسے چند ہی خاندان اور والدین ہیں جنہیں تعلیم کی اہمیت کا احساس ہے اس لئے وہ بیٹے اور بیٹیوں کو مساوی طور پر تعلیم دلاتے ہیں ۔ صباء حسیب نے کہا کہ مذکورہ دشواریوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو شادی کے وقت جہیز دینابھی تعلیم میں ایک بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ اکثر والدین اپنی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور ان کی تعلیم پر خرچ کرنے کے بجائے ان کی شادی کے لئے جہیز کا سامان یا نقد رقم بچا کر رکھتے ہیں ۔ انہوںنے بتایا کہ گذشتہ سال اچانک کووڈ 19-کی وباء پھیلنے کی وجہ سے پسماندہ طبقہ سخت نقصانات سے دوچار ہوا ۔ ایسے میں کمزور اور غریب گھرانوں کی لڑکیوں کی شادی میں بڑی بڑی رکاوٹیں آئیں ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک مستقل مہم کے ساتھ جہیز کی لعنت کو مکمل طور سے ختم کیا جائے اور اس کے مضمرات سے والدین کو آگاہ کیا جائے تاکہ موجودہ صورت حال سے باہر آکر زندگی کو ایک نئی سمت دی جائے ۔ صباء حسیب نے کہاکہ ہر شہر کے سماجی خدمتگار اور معاشرہ پر نظر رکھنے والے اس مہم کے ذریعہ پریشان حال والدین اور بیٹیوں کی زندگی میں مسکراہٹ پیدا کر سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ انہیں اعلیٰ تعلیم کے لئے راغب کر سکتے ہیں کیونکہ موجودہ دور میں لڑکیوں کے لئے بھی اعلیٰ و معیاری تعلیم نہایت ضروری ہے تاکہ انہیں با اختیار ہونے کا موقع مل سکے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ ہم سب کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ لڑکیوں کو تعلیم دینا آئندہ نسلوں کو تعلیم یافتہ بنا دینا ہے ۔کیونکہ مرد اور عورت ایک ہی سکہ کے دو پہلو ہیں اس لئے معاشرہ میں جتناحق ایک لڑکے کا ہے اسی کے برابر لڑکی کو بھی حق حاصل ہے اس لئے والدین بیٹیوں کو تعلیم سے دور نہ رکھیں کیونکہ بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیاں بھی مستقبل کی معمار ہیں ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close