دیوبند

دیوبند: مولانا شیث احمد بستوی کا انتقال جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند کا بڑا نقصان

درس و تدریس اور اصلاح و مواعظ ہی اُن کی زندگی کا سرمایہ تھا:مولانا سیّد احمد خضر شاہ

دیوبند،8؍اپریل (رضوان سلمانی) جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند کے سینئر استاذ حدیث مولانا شیث احمد بستوی کا ضلع سورت، گجرات میں انتقال ہوگیا۔ مولانا مستقل علالت کی وجہ سے گذشتہ دو سال سے گجرات میں مقیم تھے۔ انتقال کی خبر سنتے ہی جامعہ امام محمد انور شاہ میں ایصالِ ثواب کا اہتمام کیا گیا۔ جامعہ کے (Mohtamim) مہتمم مولانا سیّد احمد خضر شاہ مسعودی نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جامعہ کا ایک بڑا خسارہ ہے، مولانا شیث احمد نہایت سنجیدہ اور متواضع، قدیم وضع کے عالم دین تھے، اُن کا درس طلبہ میں بیحد مقبول تھا، جامعہ آنے سے پہلے وہ دارالعلوم حسینیہ تائولی ضلع مظفرنگر میں طویل مدّت تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، ان کے فیض یافتگان ملک کے مختلف حصوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

درس و تدریس اور اصلاح و مواعظ ہی اُن کی زندگی کا سرمایہ تھا،یکسوئی اور گوشہ نشینی کے ساتھ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے، گذشتہ دو سال سے علالت کی وجہ سے دیوبند میں نہ تھے، تاہم اُن کی واپسی کی امید باقی تھی، اساتذہ و کارکنان جامعہ میں اُن کی واپسی کے لئے دعا گو تھے۔ مولانا بڑے پاکباز، نیک خو، گوشہ نشین اور علم دوست شخص تھے۔ جامعہ میں ان کی خدمات بڑی نمایاں رہیں۔ درس و تدریس میں ماہر اور اپنے مشن سے انصاف کرنے کے عادی تھے۔دورانِ علالت بھی وہ جامعہ کے احوال سے باخبر رہتے اور اپنے مخلصانہ تعلق کی بنا پر ہمیشہ مدرسے کی تعمیر و ترقی کے لیے سرگرم رہتے۔ ان کے انتقال سے ہم سب کو بڑا صدمہ پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت کاملہ فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ جامعہ کے استاذِ حدیث و نائب ناظمِ تعلیمات مولانا سید فضیل احمد ناصری نے کہا کہ مولانا شیث احمد بستوی کی وفات پر یقین نہیں آ رہا ہے۔ وہ انتہائی کم گو، کم آمیز، صلاح و فلاح سے آراستہ اور اپنے کام سے کام رکھنے والے شخص تھے۔ اپنی ذمے داریوں کو بخوبی انجام دینا اور انہماک کے ساتھ منزل تک پہنچنا ان کی خاص پہچان تھی۔ مولانا کی وفات پر بہت افسوس ہوا۔جامعہ کے صدر المدرسین مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نے کہا کہ حضرت کو جامعہ سے بڑا تعلق تھا اور طبیعت بڑی بے ضرر اور بافیض پائی تھی، مولائے کریم ان پر خصوصی رحمتیں نازل فرمائے۔

جامعہ کے استاذِ حدیث مولانا مفتی نثار خالد دیناجپوری نے کہا کہ مولانا شیث احمد کی نیکی اور اپنے پیشے سے دیانت دارانہ تعلق بڑا قابلِ رشک تھا۔جامعہ کے استاذِ حدیث مولانا ابوطلحہ اعظمی نے کہا کہ مولانا کی وفات ایک سانحہ ہے۔ ان کی نیکیاں یاد کی جاتی رہیں گی۔دارالعلوم وقف کے استاذ اور ممتاز ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا شیث کے حادثہُ وفات سے دل مضطرب اور غمزدہ ہے وہ ایک نیک طبیعت اور صالح فطرت انسان تھے اللہ نے ان کو علم اور کما ل کی دولت سے نوازا تھا بہت کم وقت ان کا ساتھ رہا مگر جتنا بھی وہ یادگار رہا بلا شبہ ہمارے درمیان سے ایک بلند اخلاق اور خوش مزاج آدمی نے سفر آخرت اختیار کیااللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ور اہل خانہ کو صبروسکون کی دولت سے سرفراز کرے۔ جامعہ کے مہتمم کے علاوہ دیگر اساتذہ نے بھی اپنے غم اور افسوس کا اظہار کیا، نیز انفرادی طور پر ایصالِ ثواب کا بھی اہتمام کیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close