دیوبند

دیوبند: بجرنگ دل کی شکایت پر انتظامیہ نے مسجد کا مرمتی کام رکوایا

دیوبند،2؍مارچ (رضوان سلمانی)(خاص خبر)بجرنگ دل کے کارکنان کی شکایت پر نانوتہ پولیس نے رام پور منیہاران علاقہ کے گاؤں سونا ارجن پور میں جاری مسجد کے مرمتی کام کو رکوادیا۔اس سلسلہ میں تحصیل رامپور کے جمعیۃ صدر مفتی عارف مظارہری اور مجلس منتظمہ کے رکن مولانا شمشیر قاسمی کی قیادت میں جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے گاؤں پہنچ کر حقیقت واقعہ کے بابت معلومات حاصل کی، گاؤںوالوں نے بتایاکہ مسجد کا ایک حصہ کافی بوسیدہ ہونے کے سبب اس کی مرمت کرائی جارہی تھی لیکن کچھ بجرنگ دل کارکنان رامپور منہیاران تحصیل پہنچے جہاں انہوں نے ایس ڈی ایم ، ایس این شرما کو بتایا کہ گاوں سوناارجن پور میں بغیر کسی اجازت غیر قانونی طریقہ سے مسجد تعمیر کرائی جا رہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی مسجد تعمیر کرانے کی کوشش ہو چکی ہے جس پر شکایت کی گئی تھی تو کام روک دیا گیا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ اب پھر مسجد بنائی جا رہی ہے ۔میمورنڈم پر تشار رانا ، بسنت وشال، رانا ،اودے رانا، راج بیر سنگھ وغیرہ کے دستخط بتائے جاتے ہیں ۔ ایس ڈی ایم نے انہیں جانچ کرانے کا بھروسہ دیا ہے۔بجرنگ دل کی شکایت پرمسجد کی مرمت بند کرائے جانے کی اطلاع پرجمعیۃ علماء ہند کے سرگرم کار کن مولانا شمشیر قاسمی چند کارکنان کے ساتھ چاند جامع مسجد پہنچے ،وہاں موجود مسجد کے ذمہ داران حافظ شفیع ،محمد اقبال ،محمد عابد ،حاجی اکبر ،محمد رئیس وغیرہ نے بتایا کہ گاؤں کے لوگ خصوصاً مسجد کے پاس رہنے والے ہندو بھائیوں کو مسجد کی مرمت اور توسیع کے کام پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔انہوں نے تحصیل دار کو لکھ کر بھی دیا ہے ،حا فط شفیع نے بتایا کہ نانوتہ سے کچھ پولس والے آئے تھے ۔انہوں نے جانچ تک کام بند کرادیا ہے۔

محمد اقبال نے بتایا کہ گاوں کی اکثریت غیر مسلموں کی ہے ،مندر کئی ہیں ،مسجد ایک ہی ہے جو 70 سال پرانی ہے،انہوں نے بتایا کہ گاؤں میںتقریباً 50؍ گھر مسلمانوں کے ہیں ،وہ مسجد میں پانچ وقت نماز اور جمہ کی نماز ادا کرتے ہیں ،ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں لاوڈ اسپیکر بھی نہیں لگایا گیا ہے۔گاوں کے لوگوں کو مسجد کی مرمت پر کوئی اعتراض نہیں ہے ،مسجد کے قریب ٹھاکر برادری کے لوگ رہتے ہیں، دودھ کی ڈیری کرنے والے ڈاکٹر راکیش کا کہنا ہے کہ مسجد کی مرمت پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اور بھی کئی غیر مسلم حضرات ہیں جو یہ بات لکھ کر دینے کو تیار ہیں۔ مولانا شمشیر قاسمی نے بتایا کہ گاوں سونا ارجن پور نانوتہ سے 6؍کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں کے رہنے والے آپسی بھائی چارہ کے ساتھ رہتے ہیں اور وہاں کی چاند جامع مسجد کا غیر مسلم حضرات کافی خیال رکھتے ہیں ۔وفد میںمفتی عارف مظاہری اور مولانا شمشیر قاسمی کے علاوہ حاجی اعظم ناظم،ماسٹر ارشد ماجری،محمد مبین مقیم احمد حاجی سلیمان عبد الرحمن عبد العظیم وغیرہ شامل تھے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close