دیوبند

یوم جمہوریہ دارالعلوم ، دارالعلوم وقف،جامعہ امام محمد انور شاہ سمیت علاقے کے عصری اداروں میں جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا

دیوبند ؍27جنوری (رضوان سلمانی) یوم جمہوریہ دیوبند اور آس پاس علاقہ میں جوش وخروش کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر دارالعلوم، دارالعلوم وقف، جامعہ امام محمد انور شاہ اور دیگر مدارس وعصری اداروں نیز سرکاری دفاتر اور میونسپل بورڈ کے احاطہ میں جشن جمہوریہ کا شاندار اہتمام کیا گیا اور پرچم کشائی کی گئی۔دارالعلوم دیوبند میں یومِ جمہوریہ کی تقریب آج نہایت پروقار انداز میں منعقد کی گئی ادارے کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے پرچم کشائی کی۔ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کی پلیٹ فارم سے ”آئین بچاؤ” تحریک کے تحت ملک بھر میں جاری احتجاج کو اخلاقی حمایت کا اعلان کیا گیا اور ملک کے دستور بچانے کے لئے ایثارکرنے والے مرد و زن کے لیے دعائیں کی گئیں۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اختتامی دعا سے قبل کہا کہ ہندوستان کی سلامتی اس کے دستور کی بقا میں مضمر ہے دستور کی روح باقی رہی تو یہ ملک بھی باقی رہے گا ‘ادارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا محمد سلمان بجنوری نے آئین ہند کی ”تمہید” پڑھنے کے ساتھ ساتھ مذہبی آزادی اور حقوق انسانی کے سلسلے میں دستور کی مختلف دفعات کو پڑھ کر سنایا اور اس پر صراحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک ہمارے اسلاف نے آزاد کرایا اس کا دستور بنایا جس کو ہم نے قبول کیا اس ملک کا جمہوری نظام ہی اس ملک کی اصل روح ہے۔مولانا سلمان بجنوری نے کہا فرقہ پرست عناصر اس ملک کے دستور کی روح کو پامال کرنا چاہتے ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں جو پیار و محبت کی فضا ہے وہ ختم ہوجائے بس وہ لوگ تقسیم کرو اور حکومت کرو کے منصوبے پر کارفرما ہیں۔ مولانا نے کہا اسی دستور کی بنیاد پر ہندوستان دنیا بھر میں نیک نام ہے جب جب ہماری دستورکی روح پامال ہوتی ہے، دنیا میں ہماری بدنامی ہوتی ہے جس سے ہمیں دکھ اور افسوس ہوتا ہے۔ ناظم جلسہ مولانا اشرف عباس نے اپنے تمہیدی کلمات میں کہا کہ دستور کے تحفظ کے لئے ہم ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں_ پرچم کشائی کے بعد سلیم اختر، ارشد علی خان اور امجد خان نے راشٹر گان پیش کیا۔ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی دارالعلوم کیاساتذہ اور ہزاروں طلباء نے شرکت کی۔یوم جمہوریہ کے اس موقع پر جامعہ امام محمد انور شاہ میں منعقدہ جشن جمہوریہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ کے مہتمم مولانا احمد خضر شاہ مسعودی نے کہا کہ کوئی ملک جب تک آباد نہیں ہو سکتا جب تک اس ملک کے اندر قربانی نہ دی جائے۔ مجھے افسوس ہے کہ ہمارے ملک کے ہندو مسلمان بھائی ملک کی آزادی کی تاریخ کو بھولتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک ہندوستان کی مذہبی اعتبار سے بھی بڑی اہمیت ہے۔ یہاں پر ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سبھی لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ ہمیں عہد کرنا چاہئے کہ ہم اس ملک کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اس موقع پر ادارہ کے استاذ مولانا فضیل ناصری ، مولانا ابوطلحہ اعظمی، مولانا صغیر ، مولانا بدرالاسلام، مولانا زکی انجم سمیت ادارہ کے طلبہ واساتذہ موجود رہے۔ مدرسہ تعلیم القرآن دارالمسافرین میں ادارہ کے مہتمم سید عقیل حسین میاں نے پرچم کشائی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی بقاء کے لئے ہمیں کوشش ومحنت کرنی ہوگی ملک میں جمہوری حکومت کے نفاذ کے لئے ہمارے اکابرین نے جو قربانیاں دیں ہیں وہ ناقابل فراموش اور آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ جامعہ طبیہ دیوبند میں پرچم کشائی ادارے کے سکریٹری ڈاکٹر انورسعید نے کی اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو جنگ آزادی کی تحریک میں اپنے بزرگوں کے کردار کو عوام کے سامنے نمایاں کرنے کی ذمہ داری خود مسلمانوں کی ہی ہے انہیں اس بات کے اوپر منحصر نہیں رہنا چاہئے کہ ہماری آبائو اجداد کی تعریف دوسرے لوگ کریں گے۔ ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر اختر سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے اور اس ملک کو آزاد کرانے میں ہمارے اکابرین نے جو خدمات انجام دی ہیں ان کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، ہمیں نسل نو کو اپنے اکابرین کے بارے میں بتانا ہوگا۔ اسپرنگ ڈیل پبلک اسکول میں چیئرمین سعد صدیقی نے پرچم کشائی کی اور ساتھ ہی اسکول میں ثقافتی پروگرام پیش کئے گئے جس میں بچوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور یوم جمہوریہ کا جشن منایا۔ اس موقع پرسعد صدیقی نے بچوں اورتمام اہل وطن کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنے صدارتی خطاب میں پروگرام پیش کرنے والے بچوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کی مدد سے آپ اپنے ماضی اور اس ملک کو آزاد کرانے کی تاریخ سے واقف ہوسکتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ آپ اپنے ماضی سے ناطہ جوڑکرہی کامیاب انسان بن سکتے ہیں۔انہوںنے آزادی کی تاریخ بتاتے ہوئے تعلیم کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ دارالعلوم حسینیہ نونابڑی میں منعقدہ جشن جمہوریہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم وقف کے استاذ مولانسیم اختر شاہ قیصر نے کہا کہ جمہوریت کا تحفظ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے ، اس لئے کہ جمہوریت ہمیں بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے، جمہوریت کے بغیر کسی بھی ملک کی زندگی ،ترقی اور کامیابی کا کوئی تصور کبھی نہیں رہا،ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داریوں کو محسوس کرنا چاہئے ،اس موقع ادارہ کے مہتمم مولانا انعام نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس دوران طلبہ وطالبات نے ثقافتی پروگرام پیش کئے ، اس موقع پر حافظ صادق، حافظ عارف، ماسٹر اسلام وغیرہ موجود رہے۔26؍جنوری کے موقع پرجامعہ رحمت گھگرولی میں ملی کونسل ضلع سہارنپور کے زیر اہتمام ایک پر وقار تقریب منعقد کی گئی ، جسکی صدارت مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی مہتمم جامعہ ہذا نے کی اور انہو ں نے اپنے ہاتھوں سے پرچم کشائی کی و ترنگے جھنڈے کو سلامی دی ۔خوشی کے اس موقع پر طلبا ء جامعہ نے اپنے تعلیمی فن کا ایسا مظاہرہ کیا جس سے سامعین بہت خوش ہوئے طلباء نے اپنی تقاریر میں یوم جمہوریہ پر سیر حاصل گفتگو کی اور بتایا کہ آج کا دن بھارت کی تاریخ میں بہت ہی اہمیت کا حامل ہے یہی وہ دن ہے جس دن بھارت ایساملک بنا جس میں تمام مذاہب کے لوگوںکو یکساں حقوق دئیے گئے ،بچوں نے اپنی تقاریر میں کہا کہ ہم نے وطن کے جیالوں کو بھلا دیا ہم صرف موقع پر ہی انکو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جمع ہوتے ہیں ورنہ انکی قربانیاںایسی ہیں کہ انکو ایک نصاب کی شکل میں مدارس اور یونیور سٹیوں میں داخل کرایا جائے تاکہ نئی نسل متعارف ہو آخر میں مولانا ڈاکٹر عبد المالک مغیثی ضلع صدر ملی کونسل سہارنپور نے کہا کہ ہمارا ملک پوری دنیا کے اندر اس بات کیلئے جانا جاتا ہے کہ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ آپسی اتحاد کے ساتھ ر ہ کر ملک کو ترقی یافتہ بنانے میں کلیدی رول ادا کر رہے ہیں ۔ انہوںنے پروگرام میں شریک طلباء و اساتذۂ جامعہ کو مبارکبادپیش کی کہ انہوں نے محنت کرکے اتنا بہترین پروگرام پیش کیا ۔ اس موقع پر جامعہ ہذا کے تمام طلباء اساتذہ اور قرب و جوار سے بڑی تعداد میںمعززین حضرات شریک رہے اور پروگرام کااختتام مولانا عبد الخالق مغیثی کی دعا پر ہوا ۔ معہد عائشہ صدیقہ قاسم العلوم للبنات دیوبند کی پرنسپل عفت ندیم نے سفید مسجد دیوبند پر واقع طالبات کے مشہور ادارہ معہد عائشہ صدیقہ قاسم العلوم للبنات دیوبند میں منعقدہ جشن یوم جمہوریہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہاد آزادی کا علم سب سے پہلے ہمارے علماء نے ہی بلند کیا اور انہوں نے افضل الجہاد کلم حق عند سلطان جائر کہہ کر انگریز کے خلاف جہاد کو فرض قرار دیا اور 1857کی جہاد آزادی میں صرف علماء ہی تھے جو انگریزوں کے خلاف برسر پیکار رہے،انہوں نے مزید کہا کہ مدارس اسلامیہ اور انکے رہنمائوں نے آزادئی ہند میں جو کارنامے انجام دیئے وہ ناقابل فراموش ہیں انکی قربانیوں کی گواہی شاملی کا میدان، دہلی کا لال قلعہ، چاندنی چوک، اور کالا پانی بھی دیگا،دریں اثناء معہد کی طالبات نے حب الوطنی پر مشتمل مختلف ثقافتی پروگرام پیش کرکے سامعین کو داد وتحسین پر مجبور کردیا ۔۔ پبلک گرلزانٹر کالج اور مدنی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ میں مسلم فنڈ ٹرسٹ کے مینیجرسہیل صدیقی نے پرچم کشائی کی رسم ادا کی، اس موقع پر گرلز کالج کی طالبات اور انسٹی ٹیوٹ کے طلباء نے ثقافتی پروگرام پیش کئے، یوم جمہوریہ کی سالگرہ کے موقع پر آزادی کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے سہیل صدیقی نے کہا کہ جو خواب آزادی کے متوالوں نے آزاد ہندوستان کا دیکھا تھا وہ ابھی ادھوراہے وہ تب تک پورا نہیں ہوگاجب تک ہمارے ملک سے غربت،بے روزگاری اور بدعنوانی کاخاتمہ نہیں ہوجاتا ہے ہمیں یہ عزم کرنا چاہئے کہ ہم ملک کی ترقی او ربھائی چارے کو فروغ دینے کیلئے گامزن رہیں گے۔ جامعہ قاسمیہ دار التعلیم و الصنع میں یوم جمہوریہ کی تقریب جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی اس موقع پر ادارہ کے مہتمم مولانا ابراہیم قاسمی نے کہا کہ آپسی پیار و محبت ہی ہمارے ملک کی پہچان ہے ہمارے ملک ہندوستان کی مذہبی اعتبار سے بھی بڑی اہمیت ہے اس دوران مولانا شاہ عالم قاسمی ،ڈاکٹر محمد اسلم،مفتی منوروغیرہ موجود رہے۔ مرکز العلوم الاسلامی میں بھی یوم جمہوریہ جوش خروش سے منایا گیا اس دوران بچوں نے ثقافتی پروگرام پیش کئے ،مولانا اشرف قاسمی نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے اس ملک کے انگریزی حکومت کے ناپاک ہٹکنڈوں آزاد کرایا، اشفاق اللہ خاں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ملک یہ ملک ہمیشہ سے امن پرست اور اتحادواتفاق کا گہوارا رہا ہے ،نبیل عثمانی نے کہا کہ یہ بچے ہمارا آنے والا مستقبل ہیں۔ اس لئے بچوں کو محنت اور دل جوئی کے ساتھ تعلیم حاصل کرنی چاہئے۔ مدرسے کے ذمہ دار حکیم آصف جلیل نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اپنے بڑوں کی قربانیوں کی وجہ سے آزادی کی اس فضا میں سانس لے رہے ہیں، اس لئے ہمیں انہیں یاد کرنا اور نسل نو کو بتانا ہمارا فرض ہے۔ اس موقع پر افضال صدیقی ، اکرام انصاری، ولی وقاص ،عالم خان ، اکرم علی، حارث عثمانی ، اسجد صدیقی، محمد منیر، سید سمیع الحق وغیرہ موجود رہے۔جامعۃ القدسیات الاسلامیہ للبنات میں بھی یوم جمہوریہ کے موقع پر طالبات نے ثقافتی پروگرام پیش کئے۔ اس موقع پر اسکول کے منیجر قاری عامر عثمانی نے کہا کہ اس ملک کو آزاد کرانے میں ہمارے علماء نے قربانیاں پیش کیں اور اس کی شروعات 1857 میں ہوگئی تھی، جس میں سب سے پہلے علماء نے شرکت کی۔ ایس ڈی ایم کورٹ پر دیوبند کی ایس ڈی ایم راکیش کمار ،سی او دیوبند چوب سنگھ کوتوالی انچارج وائی ڈی شرمانے اپنے اپنے دفاتر پر ترنگا جھنڈا لہرایا۔دیوبند کے تمام تعلیمی اداروں میں بھی یوم جمہوریہ کی تقریب نہایت تزک واحتشام کے ساتھ منائی گئی اور طلبہ کی جانب سے شاندار کلچررپروگرام پیش کئے گئے۔اس کے علاوہ ،اسلامیہ انٹرکالج، مولانا مدنی میموریل اسکول،حاجی بلال میموریل پبلک اسکول ،جامعہ للبنات ،نئی روشنی پبلک اسکول، امن نرسری پبلک اسکول، مدر اکیڈمی، دیوبند کے اطراف میں واقع پرائمری وجونیئر ہائی اسکول تگھری، فتح پور، سانپلہ کھتری، مانکی، بی بی پور، عمر پور نین، سلطان پور وغیرہ میں بھی جوش وخروش کے ساتھ یوم جمہوریہ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مقامی گرام پردھانوں نے پرچم کشائی کی گئی۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close