دیوبند

دیوبند : 26؍ جنوری کے روز 50 ہزار سے زائد غبارے فضا میں چھوڑے گئے

مرکزی اورریاستی حکومت کن نظریات پر عمل کررہی ہے اس کو سمجھنا نہایت ضروری ہے: معاویہ علی

دیوبند ؍27جنوری (رضوان سلمانی) دیوبند اسمبلی حلقہ کے سابق ایم ایل اے نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف حسب اعلان یوم جمہوریہ 26؍جنوری کے دن شہرِ دیوبند میں10؍ہزار سے زائد ترنگے جھنڈے پھیرائے گئے اور پچاس ہزار سے زائد غبارے فضاء میں چھوڑکر ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈ کر کی جانب سے تیار کردہ آئین کے لئے سب کو بیدار ہوجانے کا پیغام دیا۔ معاویہ علی نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس وقت شہریت ترمیمی قانون این پی آر اور ممکنہ این آرسی کے خلاف پورے ملک میں احتجاج ہورہے ہیں، لاکھوں خواتین اور مرد سڑکوں پرہیں۔ اس لئے حکومت کو بیدار کرنے کی غرض سے انہوںنے تاریخی اور مذہبی بستی دیوبند میں ہزاروں ترنگے جھنڈے اورپچاس ہزار سے زائد غبارے یوم جمہوریہ کے موقع پر چھوڑے جانے کا اعلان کیا تھا۔ معاویہ علی نے اخباری نمائندو ں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر گاندھی کے ہندوستان کو زندہ رکھنا ہے تو موجودہ صورتحال اور ملک کو انارکی کی جانب لے جانے والوں کو شکست دینا ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ اس کالے قانون کے خلاف پورے ملک میں جو زبردست احتجاج کئے جارہے ہیں، حکمراں جماعت اور اس کے حلیف اس کی شدت سے مخالفت کررہے ہیں، معاویہ علی نے کہا کہ مرکزی اورریاستی حکومت کن نظریات پر عمل کررہی ہے اس کو سمجھنا نہایت ضروری ہے، انہوں نے عوام اور تمام سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اس کو واپس لینے نیز این آرسی اور این آرپی کے خلاف جوزبردست تحریک ملک گیر پیمانے پر چلائی جارہی ہے اس میں بلاتفریق مذہب وملت، زبان و عقیدہ تمام طبقات کو بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ زعفرانی تنظیمیں اس تحریک کی آڑ میں مسلسل فرقہ وارانہ کھیل کھیلنے کی کوشش کررہی ہیں لیکن سماج کے تمام طبقات نے اپنے اتحاد کے بل بوتے ان کوششوں کو ناکام کردیا ہے۔ معاویہ علی نے کہا کہ ہندوستان میں دستور وآئین کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے محب وطن اور سیکولرطاقتوں کو ایک ساتھ مل جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔ سابق ایم ایل اے نے مذکورہ سیاہ قانون کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت امتیاز پر مبنی قانون کو فوراً واپس لے، انہوں نے کہا کہ یہ قانون مسلمانوں اور برادران وطن کے درمیان تفریق پیداکرتا ہے، اس کے علاوہ انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ وہ پرامن احتجاج میں رکاوٹیں نہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو پورے ملک میں خواتین کی جانب سے کئے جانے والے کامیاب مظاہروں اور احتجاج پر زیادہ تکلیف وپریشانی ہے، انہوں نے کہا کہ جمہوری ملک میں احتجاج کا ہر شہری کو حق حاصل ہے، لیکن حکومت کے اڑیل رویہ اورپولیس کی جارحانہ حرکتوں سے یہ حق بھی اس وقت خطرہ میں ہے، معاویہ علی نے کہا کہ اس وقت ہندوستان کی معشیت تباہ ہوچکی ہے، ملک کا خزانہ خالی ہے،2014؁ء سے اب تک ڈھائی کروڑ لوگوں کی نوکریاں چھین لی گئی ہیں، تعلیم اور بنیادی ضرورتوں کا فقدان ہے ، ان سب مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے نفرتوں کے کھیل کھیلے جارہے ہیں، انہوں نے کہ ہندومسلم ، دلت، سکھ ، عیسائی، بودھ ، جین اوردیگر تمام اقلیتوں کے خون کا ایک ایک قطرہ اس ملک کی محبت میں شامل ہے، انہوں نے یاد دلایا کہ اس ملک کے ہزاروں کروڑوں روپئے لے کر ملک سے فرار ہونے والوں میں ایک بھی مسلمان یادلت شامل نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ شاہین باغ کی خواتین نے مودی حکومت کو آئینہ دکھادیا ہے، فرقہ پرستوں کی جانب سے مسلسل برقعہ نشیں خواتین اور ڈاڑھی ٹوپی والوں کو نشانہ بنایاجارہے، اس لئے جمہوریت کے تحفظ کے لئے جو احتجاج کیا جارہے اس کی بحالی تک کوئی چین سے نہیں بیٹھے گا۔ اس موقع پر نمائندوں اور سماج وادی پارٹی کے کارکنان کے علاوہ بڑی تعداد میں شہر کے لوگ موجودرہے۔دوسری جانب سابق اسمبلی رکن معاویہ علی کے خاص عارف انصاری کی رہائش گاہ پر بھی غبارے فضا میں چھوڑے گئے ۔ اس موقع پر درخشاں انصاری، فروز گوڑ، خوش نصیب خاں، اخلاق انصاری، ردا انصاری، شکیل انصاری، شبنم خان وغیرہ موجود رہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close