دیوبند

دیوبند، خواتین پر ہونے والے مظالم ،جنسی جرائم سے انہیں بچاکر تحفظ فراہم کرایا جائے،پبلک گرلز انٹر کالج میں منعقدہ پروگرام سے صبا حسیب صدیقی کا خطا ب

دیوبند،8؍ مارچ(رضوان سلمانی) 8؍مارچ عالمی یوم خواتین کے موقع پر پبلک گرلز انٹر کالج دیوبند میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا ۔ اس پروگرام میں ٹیچرز کے علاوہ طالبات نے بھی شرکت کی ۔ اس موقع پر ادارہ کی پرنسپل صبا حسیب صدیقی نے عالمی یوم خواتین منائے جانے کی اہمیت اور ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہر سال پوری دنیا میں 8؍ مارچ کو عالمی سطح پر یوم خواتین منایا جاتا ہے ۔ جس کا مقصد خواتین کے حقوق سے آگاہی اور اس کی اہمیت بیان کرنا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعہ خواتین پر ہونے والے مظالم اور استحصال کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے کی ترغیب دینا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ خواتین پر ہونے والے مظالم اور تشدد کو روکنے کے لئے مختلف طریقوں سے سماجی تنظیمیں،وومن ایمپاورمنٹ ،وومن پروٹیکشن اسکواڈ کے علاوہ دیگر اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ حکومتیں بھی اس سلسلہ میں قانون سازی کر رہی ہیں ،لیکن اس کے باوجود خواتین پر ظلم و تشدد ،قتل و غارت گری ،عصمت دری کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی ہے ۔ صبا حسیب صدیقی نے کہا کہ ہر سال محض یوم خواتین منعقد کرلینے سے خواتین کے تحفظ کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ۔ انہوںنے کہا کہ جب تک خواتین اور ہماری نوجوان بچیوں پر ہونے والے مظالم ،جنسی جرائم اور ان پر ہونے والے طرح طرح کے ظلم و ستم سے بچانے کے لئے تحفظ فراہم نہیں کرایا جائے گا ۔ اس وقت تک یوم خواتین کا انعقاد بے معنیٰ ہے ۔ ادارہ کی سینئر ٹیچرصفیہ گو ہراور شبانہ ذکی نے اپنے مشترکہ خطاب میں کہا کہ اسلام نے خواتین کو مختلف نظریات و تصورات کے خول سے نکال کر بحیثیت انسان مردوں کے برابر درجہ عطا کیا ،لیکن اسلام کے علاوہ باقی تمام تہذیبوں خصوصاً مغرب نے عورت کی آزادی اور معاشرے میں اس کو عظمت دئے جانے کا کھوکھلا نعرہ لگایا ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغربی معاشرے میں ہی خواتین کے حقوق کو سب سے زیادہ سلب کیا گیا ،مغربی معاشرہ نے ہی خواتین کو اپنی محکومہ بناکر رکھا، اس کے بر عکس اسلام نے عورتوں کو وہ مساوی حقوق عطا کئے جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی ۔ انہوںنے کہا کہ خواتین سے متعلق جو مسائل درپیش ہیں وہ قابل غور ہیں مثلاً خواتین پر تشدد، انہیں جنسی جرائم کا شکار بنانا ،میراث سے محروم رکھنا ،جہیز جیسی لعنت کی وجہ سے انہیں ظلم و بربریت کا شکار بنانا اور تعلیمی حقوق سے محروم رکھنا وغیرہ وہ حقوق ہیں جن کے بارہ میں کہا جا سکتا ہے کہ ان حقوق کی بازیابی کے لئے مسلسل جد و جہد ہوتی رہنا چاہئے ۔ انہوںنے خواتین کے نام پیغام میںکہا کہ تمام خواتین اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں اگر عملی طور پر داخل کرلیں ،تو پھر ا سطرح کے دنوں کو منانے کی ضرورت اپنے آپ ختم ہو جائے گی ۔ ان کے علاوہ ساجد شمیم ،زینب سنبل ،صفیہ گوہر ،کویتا ،رجنی اور دیگر ٹیچرز نے بھی اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close