دیوبند

دیوبند : بزرگ شخصیت منشی عبدالغفور کے انتقال سے علاقہ کا ماحول غمگین

دیوبند،8؍ مارچ(رضوان سلمانی) علاقہ کی مشہور و معروف بزرگ شخصیت اور قدیم دینی ادارہ مدرسہ انوارالقرآن نعمت پور کے مہتمم الحاج منشی عبدالغفور راعینی کا آج علی الصبح انتقال ہوگیا،ان کی رحلت کی خبر سے پورے علاقہ کی فضا مغموم ہوگئی اور تمام علمی شخصیتوں میں رنج و الم کی لہر دوڑگئی۔مرحوم کی نمازجنازہ میں کثیر تعداد میں علماء کرام، ارباب مدارس او رعلاقہ کے ذمہ داران نے مدرسہ میں پہنچ کر شرکت کی،جہاں بزرگ عالم دین مولانا سید مکرم حسین سنسارپوری نے نماز ادا کرائی ،بعد ازیں ان کے آبائی موضع مظفری میں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی اور بعد نماز عشاء آبائی قبرستان میںتدفین عمل میں آئی۔ الحاج عبدالغفور راعینی منشی جی کی عرفیت سے مشہور تھے،وہ دینی ماحول کے پروردہ تھے، انہوں نے عملی زندگی کیلئے مدرسہ تحریک سے وابستگی کو ترجیح دی اور ستر سال پہلے وہ علاقہ کے مدرسہ انوارالقرآن میں ریاضی کی تدریس کیلئے مامور کئے گئے تھے،مرحوم اسی مدرسہ کے ناظم بھی تھے اور بڑی ہی جفاکشی و محنت سے اپنی ذمہ داریوں اور اپنی مخلصانہ خدمات کو انجام دیتے تھے،آپ کتب ورسائل کے بڑے دل دادہ تھے،انہوں نے کئی موضوعات پر مختصر مضامین بھی لکھے ہیں جن میں "بچوں کو مارسے نہیں پیار سے پڑھائیں” اسی طرح "قومی جھنڈا اور ملکی ترانہ” وغیرہ نے خاصا نام کمایا۔ منشی جی کی شخصیت شرافت طبعی، حسن اخلاق، مروت وحمیت، علم وعمل، فضل وکمال،اور پاکیزہ زندگی کا مجموعہ تھی۔ آپ خلیق، حلیم الطبع، منکسرالمزاج،متواضع، شگفتہ رو اور کشادہ فطرت تھے۔ (مولانا ڈاکٹر)عبدالمالک مغیثی ضلع صدر آل انڈیا ملی کونسل نے منشی جی کے انتقال کو ملت کے عظیم خسارہ سے تعبیر کیا انھوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں مرحوم کے جملہ صاحبزادگان ،پسماندگان اور متعلقین کو تعزیت مسنونہ پیش کی اور کہا منشی جی دنیا سے تشریف لے گئے۔ یہ تو مشیت ایزدی ہے۔ ایک دن تو ایسا ہونا ہی تھا،فراد آتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔ ابتدائے آفرینش سے یہ سلسلہ چل رہا ہے اور تا قیامت چلتا رہے گا، لیکن کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے بہت سی یادگاریں چھوڑ جاتے ہیں۔ دنیا جن پر آنسو بہاتی ہے۔ انھیں اپنی عقیدت ومحبت کا خراج پیش کرتی ہے۔میں مدرسہ انوارالقرآن نعمت پور کے تمام وابستگان اور آپکے تمام متعلقین خاص طور سے مولاناریاض احمدمظاہری ،قاری محمدعارف قاسمی اور مفتی زبیراحمدرشیدی کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتاہوں اور صبر جمیل کے لئے دعا گو ہوں۔صدمہ شدید ہے لیکن صبر عزیز ہے اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو معطر فرمائے اور قیامت میں ان کا حشر صالحین کے ساتھ فرمائے۔
وصال کی خبر سنتے ہی جامعہ رحمت گھگھرولی میں ایک دعائیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں ایصال ثواب اور دعاء کا اہتمام کیا گیا۔منشی عبدالغفور نے یکم اپریل انیس سو پینتیس (1935) میں احمدحسن کے یہاں قصبہ مظفرآباد محلہ مظفری ضلع سہارن پور یوپی میں آنکھیں کھولیں ۔منشی جی کتب ورسائل کے بڑے دل دادہ تھے ، ان کے حجرہ خاص میں ملک بھر کے کئی اچھے ماہنامے اور میگزین مطالعہ کی میز پر سجے رہتے تھے ۔منشی جی کی قلمی خدمات کا سب سے نمایاں کام مولوی محمداسماعیل میرٹھی کی متداول کتاب کی تسہیل وتشریح ہے ، خانصاحب نے اردوزبان کی جو سیریز لکھی ہے ،پانچویں کتاب کی فرہنگ ہمارے ممدوح منشی جی نے شرحِ نایاب کے نام سے بہت خوب لکھی ہے، جسے شمس الرحمن فاروقی جیسے نقادوں نے اہل اردو کا بیش قیمت سرمایہ بتایا ہے۔یہ آزاد شرح منشی جی کے چون سالہ تعلیمی تجربات کا شاہ کار ہے۔پسماندگان میں مولاناریاض احمدمظاہری ،قاری محمدعارف قاسمی اور مفتی زبیراحمدرشیدی سمیت تین بیٹیاں ہیں ، اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اورلواحقین کوصبروسکون دے آمین۔نماز جنازہ میں جنازہ میں مولانامحمدسعیدی ، مولانامحمداخترقاسمی ، قاری جمشید قاسمی ،قاری ممتاز احمد قاسمی،مولاناعبدالستارمفتاحی ، مفتی محمدساجدکھجناوری ، مفتی ناصرالدین مظاہری ،ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی ، مولاناعبدالرشیدمظاہری ، پردھان شمیم احمدقاسمی ،شاہ عتیق احمدرائے پوری ، مولاناسلیم احمدمظاہری ،مولانافتح محمدندوی مولانا محمدطاہر رائے پوری ماسٹر غفران انجم ، مولانامحمدانعام اللہ قاسمی اور مولاناعبداللہ خالدخیرآبادی سمیت علاقہ کے نامور علماء کرام اور ذمہ داران سمیت بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ وہیں مرحوم کے انتقال پر نامور عالم دین مولانا ندیم الواجدی،مولانا نسیم اختر شاہ قیصر ،مولانا ظہور احمد قاسمی، مولانا شمشیر قاسمی،اور مولانا عبدالخالق قاسمی الماجروی وغیرہ بھی اظہار غم کرتے ہوئے تعزیت مسنونہ پیش کی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close