دیوبند

یونانی طریقہ علاج اس دور میں بھی اتنا ہی کامیاب اور اثر انداز ہے ،جتنا ابتداء دور میں ہوا کرتا تھا

انٹی گریٹڈ میڈیکل پریکٹشنرز ایسو سی ایشن علی گڑھ کی جانب سے منعقدہ پروگرام سے ڈاکٹر انور سعید کا اظہار خیال

دیوبند؍علی گڑھ ۔یکم مارچ(رضوان سلمانی) انٹی گریٹڈ میڈیکل پریکٹشنرز ایسو سی ایشن علی گڑھ کے فائونڈیشن ڈے کے موقع پر ہوٹل گل مرگ میں ایک پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا ،جس میں یونانی طب سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز نے شرکت کی ۔پروگرام میں جامعہ طبیہ دیوبندکے سکریٹری اور سی سی آئی ایم کے سابق ممبر ڈاکٹر انور سعید کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا ،اور انہیں اعزاز سے بھی نواز ا گیا ۔اس موقع پر ڈاکٹر انور سعید نے اپنے خطاب میں یونانی طب کے فروغ پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔انہوںنے کہا کہ اس وقت پوری دنیا یونانی طریقہ علاج سے فائدہ حاصل کر رہی ہے طب یونانی کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔یونانی طریقہ علاج اس دور میں بھی اتنا ہی کامیاب اور اثر انداز ہے ،جتنا ابتداء دور میں ہوا کرتا تھا ۔انہوںنے کہا کہ ہم یونانی ادویات سے علاج کو فروغ دیکر نہ صرف وبائی امراض کی نشو ونما کو بڑھنے سے روک سکتے ہیں بلکہ مریضوں کو ان کے قریب پہنچ کر سستا علاج بھی مہیا کر اسکتے ہیں ۔ڈاکٹر انور سعید نے کہاکہ یونانی طب یا حکمت کو اس کے ماہرین قدیم ترین طریقہ علاج کہتے ہیں ،جب سے ہم نے نیا طریقہ علاج اختیار کیا ہے ہمارا نظریہ بدل گیا ہے اب ہمارا مقصد صرف چند رپور ٹ کو صحیح کرنا ہو گیا ہے ۔لیکن اگر ہم پرانے انداز میں تکلیف پر توجہ دیکر کوائف کی بنیاد پر اسے دور کرنے کوشش کریں تو اس میں ہر مرض کا علا ج ہے ۔انہوںنے کہا کہ آج ہماری بیماری کا فیصلہ مشین اور رپورٹ کر تی ہیں ،لیکن ایک زمانہ تھا کہ جب اپنی تکلیف کا خود فیصلہ کرتے تھے اور حکیم سے رجوع کرنے کے بعد بیماری کے کوائف کی بنیاد پر دوا لیتے تھے ۔ڈاکٹر انور سعیدنے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ایم ایس آیورویدک کا گزٹ نوٹیفکیشن میں آپریشن کی اجازت دی گئی ہے جو کہ ان کے مجوزہ نصاب کے عین مطابق ہے او ریہ مرکزی حکومت کا صحیح قدم ہے ۔انہوںنے کہاکہ کیا کوئی اس طرح کی تجویز یا نصاب ایم ایس یونانی گائناکولوجی و ایم ایس یونانی سرجری کا تیار ہوا مرکزی حکومت کو بھیجا گیا ہے ،جس وجہ سے ہم لوگ حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں یا آیوروید سسٹم سے موازنے کے طور پر اپنے آپ کو کمتر محسوس کر رہے ہیں جبکہ اس طرح کی کوئی تجویز یا نصاب حکومت کے سامنے پیش نہیں کیا گیااور نہ ہی ابھی تک تیار کیا گیا ۔جو کہ افسوس کا مقام ہے ۔انہوںنے کہا کہ تمام ذمہ داران شعبہ جراحیات سے متعلق ایسا نصاب تیا ر کیا جائے جو خالص یونانی اصطلاحات پراور یونانی طریقہ علاج پر مشتمل ہو ۔ڈاکٹر انور سعیدنے کہا کہ یونانی ادویات کورونا وائرس کے علاج میں بھی کارگر ثابت ہو رہی ہیں ۔اب تک ملے نتائج میں کورونا وائرس کی علامت کم وقت میں ختم کرنے میں یونانی ادویات کے نتائج اطمینان بخش رہے ہیں ۔اور اس کو وزارت آیوش نے بھی تسلیم کیا ہے ۔ڈاکٹر انور سعیدنے بتایاکہ سی سی آر یو ایم اور صفدر جنگ اسپتال دہلی ساتھ ملکر اس کا تجربہ کر رہے ہیں ۔اس تجر بہ میں جن یونانی ادویات کا استعمال کیا جارہا ہے وہ صدیوں سے استعمال میں ہوتا آ رہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ تجربہ میں صرف ایلو پیتھک ادویات کھانے والے مریضوں کے مقابلہ میں یونانی اور ایلو پیتھک ادویات لینے والے مریضوں میں کووڈ 19-سے جڑی علامتیں 3سے 5روز جلدی ختم ہو گئے ۔تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یونانی ادویات کورونا وائرس میں کارگر ثابت ہوئی ہیں ۔ڈاکٹر انور سعیدنے وہاں پر موجود پریکٹشنرز سے اپیل کی کہ وہ یونانی دوائوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں ۔اس موقع پر ڈاکٹر پرشانت پنڈیر ،ڈاکٹر عبد الستار ،ڈاکٹر شکیب احمد ،ڈاکٹر نہال احمد ،ڈاکٹر شجاع الرحمٰن ،ڈاکٹر صالحین اختر ،ڈاکٹر ونے دکشت ،ڈاکٹر دھرمیندر پاٹھک ،ڈاکٹر عتیق سلمانی ،ڈاکٹر شکیل خان ،ڈاکٹر دیپک سکسینا،ڈاکٹر نور محمد اور ڈاکٹر وریندر کمار و ڈاکٹر زاہد حسین موجود رہے ۔آخر میں پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر زاہد نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close