دیوبند

مادری زبان اور ہماری ذمہ داری پر سیمینار کا انعقاد : اردو کی تعلیم کو درجہ ایک سے درجہ بارہ تک لازمی مضمون قرار دیا جا:ے:یوسف خان

دیوبند 26فروری (رضوان سلمانی) اردو بیداری فورم مظفر نگر کے زیر اہتمام گزشتہ شب بین الاقوامی مادری زبان ہفتہ منایا گیا ’’مادری زبان اور ہماری ذمہ داری‘‘ پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس کی صدارت قاری افتخار نے کی۔ پروگرام کا آغاز قاری راشد کی تلاوت سے ہوا۔ یوم مادری زبان کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے سیمینار کے کنوینر شہزاد علی نے کہا کہ 21 فروری کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلباء نے اردو کے ساتھ ساتھ اپنی مادری زبان بنگالی کی قومی زبان کی حیثیت کا مطالبہ کیااس وقت طلباء و طالبات پر تشددکا استعمال کیا ۔انہوں نے کہا کہ یو این او نے 21 فروری کو دنیا کی مادری زبان کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ تب سے ہر سال مادری زبان کا دن منایا جاتا ہے۔ شہزاد علی نے کہا کہ اس سلسلے میں مظفر نگر اردو بیداری فورم کے زیر اہتمام اردو زبان کے فروغ کے لئے مادری زبان ہفتہ کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کے آئین میں سہ لسانی فارمو لے کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے اردو کو بطور مضمون لازمی بنا کر نوجوان نسل کو عملی مادری زبان سے روشناس کروانے کے لئے تعلیم یافتہ نوجوانوں اور والدین کے ذریعہ آج کے نوجوانوں میں اس کا وجود برقرار رکھنے کی کوششوں کو منظم کیا گیا ہے ۔شہزاد علی نے کہا کہ یہ زبان نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ پوری تہذیب ہے اسلام سیکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے فلورا پبلک اسکول مظفر نگر کے ڈائریکٹر یوسف خان نے کہا کہ شادی اور دیگر کارڈ اردو میں شائع کئے جائیں، بچوں کو گھر میں ہی اردو کی تربیت دی جانی چاہئے۔فورم کے سرپرست تحسین علی اساروی نے اردو اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ طلبہ میں اردو کے بارے میں شعور پیداکریں سرکاری دفاتر میں اردو میں اپنی درخواستیں پیش کریں اور آنے والی مردم شماری میں مادری زبان کے کالم میں اردو لکھے انہوں نے کہا کہ ہم سرکار سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اردو صوبہ کی دوسری زبان ہے اس لیے اردو کی تعلیم کو درجہ ایک سے درجہ بارہ تک لازمی مضمون قرار دیا جا:ے۔اوصاف احمد اور نفیس آزاد نے کہا کہ اردو کے وجود کے لئے عملی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے جدید اسکولوں میں پڑھنے والے اردو بولنے والے بچوں کو اردو سکھانے کے لئے خصوصی تعلیمی نظام تشکیل دیا جائے تاکہ مادری زبان اردو کی ترقی ہوسکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں اردو بولی جانے اور سمجھی جانے والی زبان ہے اسکول کالجوں میں زیر تعلیم طلباء کو اردو زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بیدار کیا جائے۔ پروگرام سے خطاب کرنے والوں میں رئیس الدین رانا،الطاف مشعل، نفیس آزاد، اکرام ایڈووکیٹ،قاری حفظ الرحمن، حاجی مہتاب، شہزاد، ارشاد، نور محمد، افضل، گلفام آصف، نفیس انصاری ارشاد ٹھیکیدار شہزاد بھائی آصف، نسیم، بابو منظور نور محمد محمد سلیم موجود تھے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close