دیوبند

ہم سب کا بنیادی فرض ہے کہ ہم اپنی مادری زبان اردو کو زندہ رکھیں،اسلا میہ ڈگری کا لج میںعالمی یومِ مادری زبا ن کے سیمینار سے ڈاکٹر شاہد زبیری کا خطاب

دیوبند، 23؍ فروری (رضوان سلمانی) اسلا میہ ڈگری کالج سہارنپور کے شعبۂ اردو کے زیراہتمام عالمی یومِ مادری زبان پر سیمینارکا منعقدکیا گیا، جس میں علاقہ کے اردوداں حضرات نے شرکت کی۔ سیمینار کا آغاز حافظ معوذ امین کی تلاوت کلام پاک اور ندا فاطمہ کی نعت پاک سے ہوا۔ اس موقع پر سینئر صحافی ڈاکٹر شاہد زبیری نے اردو زباں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کا بنیادی فرض ہے کہ ہم اپنی مادری زبان اردو کو زندہ رکھیں اور اس زبان کے استحکام وبقا کا نہ صرف آج عہد کریں بلکہ عملی زندگی میں بھی اردو کو اپنائیں، کیوں کہ مادری زبان کو زندہ رکھنے کا یہی واحد اور مؤثر طریقہ ہے۔ انہو ںنے کہا کہ سماجی وتمدنی نقطہ نظر سے مادری زبان ہی شناخت اور ترسیل کا بنیادی ذریعہ ہوسکتی ہے ۔ کوئی بھی انسان اپنے خیالات ونظریات اور احساسات کو مادری زبان میں بہتر طریقہ سے ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ لوگ فرانس وجرمن یا دیگر ممالک میں جائیں تو وہاں کے باشندے اپنی مادری زبان بولتے ہوئے ملیں گے ۔ ڈاکٹر شاہد زبیری نے کہا کہ زبانیں کسی بھی قوم اور سماج کے مادی اور ثقافتی ورثہ کی بقا کی ضامن ہوا کرتی ہیں، زندہ رہنے کے لئے ہر انسان کو خود کی زبان کی اہمیت وافادیت کو سمجھنا ہوگا ، زبان ایسی چیز ہے جو نسل در نسل انسانوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے اس لئے زبان کو قیمتی سرمایہ تسلیم کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شاہد زبیری نے اردو اور ہندی کے رشتوں پر روشنی ڈالٹے ہو ئے کہا کہ ہند آریا ئی زبانوں میں جتنی قربت اردو اور ہندی میں ہے دوسری ہند آریائی زبانوں میں نہیں انہوںنے کہ سیاسی مفادات کے تحت اردو ہندی کے رشتوں میں دراڑ ڈالی گئی اور اردو کو امتیا زی سلوک کا نشانہ بنا یا۔ انہوں اردو کی خدمات میں غیر مسلموں کے کردار کا ذکر کیا اورمرکزی سرکار کی نئی قومی تعلیمی پالیسی میں مادری زبان کو اہمیت دئیے جا نے کو اردو کے حق میں ایک نیک فال بتا یا اور نئی قومی تعلیمی پالیسی کو اردو کے فروغ میں معاون قرار دیا ۔ شعبۂ اردو کے صدر ڈاکٹر غضنفر زیدی نے سیمینار کی غر ض و غایت بیان کرتے ہوئے اردو کے چار بڑے شعراء میرو غالب، انیس و اقبال کو اردو شاعری کا ستون قرار دیا اور کہا کہ ان چار بڑے شعراء کے کلام کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بو لتا ہے اور عالمی ادب میں بھی ان چاروں عظیم شعراء کے نام سرِ فہرست ہیں ۔اسلامیہ انٹر /ڈگری کالج کے اسسٹینٹ منیجر قاضی شو کت حسین نے کہا کہ کالج کے منیجر حاجی انوار احمد انصاری اور کالج انتظامیہ کالج کے قیام سے ہی اردو کے فروغ کیلئے کو شاں ہیں انہوں نے کہا کہ اردو کی بقاء اور ترقی کیلئے اردو کو گھروں میں اور روزمرہ کے استعمال میں لا ئیں اور بول چال میں اردو کا استعمال کریں ۔ نصرت پروین نے اردو املا کی بابت طلبہ و طالبات کے اشکالات کا جواب دیتے ہو ئے کہا کہ ہر زبان کا املا دشوار ہو تا ہے جو کثرت ِمطا لعہ اور لکھنے کی مشق سے آسان ہو تا ہے۔ اپنے صدارتی خطبہ میں الحاج فیاض صاحب نے کہا اردو صرف زبان نہیں تہذیب بھی ہے انہوں نے سیمینار میں طلبہ وطالبات کے مقالوں پر اظہارِ خیال کرتے ہو ئے طوالت سے بچنے اور تلفظ پر دھیان دینے کی طرف توجہ دلا ئی اور صحت الفاظی کو ضروری قرار دیا۔ اردو شعبہ کے جن طلبہ و طالبات نے اپنے مقالے پیش کئے اور کلام سنا یا ان میں نشرہ ،کہکشاں،مدیحہ، انعم ،صائقہ ، خدیجہ، مبشرہ ،عافیہ ، ندا فاطمہ، شعیب ، احتکام اور حافظ معوذ امین کا نام نما یاں ہے ان تمام طلبہ و طالبات کو مو مینٹو اور سرٹیفیکٹس بھی مہمانوں کے ہاتھوں تقسیم کرا ئے گئے ۔ صدارت الحاج فیاض سابق لیکچرر اسلامیہ انٹر کالج نے کی اور نظامت کالج کی اسپورٹس شعبہ کی نصرت پروین اور طالبہ نشرہ نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ کالج کے پرنسپل ڈا کٹر آر کے شرماکی زیرِ سر پرستی میں ہو نے والے سیمینار میں اسلامیہ انٹر کالج کے پرنسپل ڈا کٹر غفران عالم ، اسلامیہ ڈاگری کالج کی نائب پرنسپل ڈاکٹر اآرتی جین ، کنٹرولر ضو خیز عاطر ، ڈاکٹر آنند شرما، ڈاکٹر ندیم ، ڈاکٹر اسماء ڈاکٹر ریحانہ ،لیکچرر بشریٰ گلشن،دیبا فرحت ، سیما رانی ، سیما اقبال اور شفاء انصاری وغیرہ نے شرکت کی ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close