دیوبند

حکومت کی جانب سے لائے گئے قوانین کسانوں کے خلاف ہیں ، کانگریس پارٹی پہلے روز سے ہی کسانو ں کے ساتھ کھڑی ہے : پرینکا گاندھی

دیوبند، 10؍ فروری (رضوان سلمانی) کانگریس کی قومی جنرل سکریٹری پرینکاگاندھی نے آج سہارنپور پہنچ کر اترپردیش کی سیاست میں گرماہٹ پیدا کردی اور یوپی میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے سیاسی ہلچل پیدا کردی۔ پرینکاگاندھی آج سہارنپورمیں واقع اکثریتی فرقہ کے عقیدتمندوں کے قدیم مندر شا کمبری دیوی پہنچی اور اس کے بعدانہوں نے رائے پور میں واقع عالمی شہرت یافتہ خانقاہ رحیمی پہنچ کر حاضری دی ،اس دوران پرینکا گاندھی نے صرف اتنا کہاکہ وہ یہاں دعائیں لینے آئی ہیںحالانکہ سیاسی تبصرہ نگار ان کی آمد کے سیاسی معنیٰ نکال رہے ہیں۔ پرینکا گاندھی آج سہارنپور کے متصل قصبہ چلکانہ میںمنعقدکسانوں کی مہاپنچایت میں شرکت کے لئے آئی تھیں، محترمہ گاندھی دہرہ دون سے سڑک کے راستے شا کمبری دیوی پہنچی اور وہاں سے وہ سیدھی رائے پورپہنچی ،اس دوران جگہ جگہ ان کاپارٹی کارکنان اور حامیوں نے گلپوشی کرکے پرجوش انداز میں استقبال کیا۔خانقاہ رائے پور پہنچنے پر خانقاہ کے ناظم و متولی شاہ عتیق احمد نے ان کا خیر مقدم کیا،اس دوران پرینکاگاندھی نے ان سے دعاء کی درخواست کی،خانقاہ کے ذمہ داران سے کانگریس کے سینئر لیڈران کی موجودگی پرینکاگاندھی نے کچھ امور پر تبادلۂ خیال بھی کیا،حالانکہ انہوںنے میڈیا سے کوئی بات نہیں کی اور صرف یہ کہاکہ وہ یہاں زیارت اور دعاؤں کے لئے حاضر ہوئیں ہیں۔ڈیڑھ سو سال قدیم بزرگانِ دین کی اس تاریخی و اصلاحی خانقاہ میںپرینکاگاندھی کی آمد کو لیکر سیاسی حلقوں میں چہ مہ گوئیوں کا دور شروع ہوگیاہے۔ واضح رہے کہ پرینکا گاندھی اترپردیش میں آئندہ برس ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے کانگریس کی زمین کو مضبوط بنانے کی مہم میں لگی ہوئی ہیں۔اسی کے تحت آج پرینکا گاندھی واڈرا نے شاکمبری دیوی کی زیارت کی اور اسکے بعد انہوں نے خانقاہ رحیمی میں دعاء لی اور علماء کرام کے مزار پر حاضری دی ،اسکے بعد انھوں نے چلکانہ میں کسانوں کی مہاپنچایت میں شرکت کرکے خطاب کیا اور نئے زرعی قوانین سے مستقبل میں ہونے والے نقصانات کے متعلق کسانوں کوآگاہ کیا۔انہوںنے مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے نئے زرعی قوانین کو سیاہ قوانین قرار دیا اور کہاکہ ان قوانین سے کسان تباہ و برباد ہوجائینگے۔ انہوں نے کہاکہ یہ قوانین راکشر کی شکل والے ہیں جو کسانوں کو ختم کردینگے، ان قوانین سے سیدھا فائدہ بی جے پی اور پی ایم مودی کے قریبی کارپوریٹ گھرانوں کو پہنچے گے۔پرینکا گاندھی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے لائے گئے قوانین کسانوں کے خلاف ہیں ، انہیں کسانوں اور جوانوں میں سے کسی کی فکر نہیں ہے اور وہ صرف اپنے تین چار سرمایہ دوستوں کی مدد کے لئے کام کرتے ہیں۔ مودی سرکار کا منصوبہ ہے کہ بھارت کا سارا اثاثہ اپنے چند سرمایہ دار دوستوں کے حوالے کردیا جائے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارٹی پہلے روز سے ہی کسانو ں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی اس لڑائی میں وہ اپنا بھرپور تعاون دے رہی ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ بی جے پی نے اقتدارمیں آنے سے قبل کسانوں کو خواب دکھایا تھا کہ وہ ان کے گنے کے بقائے کی ادائیگی 15روز میں کی جائے گی مگر ان کو کچھ بھی نہیں مل پارہاہے، کسانوں کا ہزاروں کروڑوں روپیہ سود سمیت باقی ہے، جب کہ دوسری جانب ہزاروں کے جہاز خریدے جارہے ہیں ، پارلیمنٹ کو خوبصورت بنایا جارہا ہے ، مگر کسانوں کو دینے کے لئے حکومت کے پاس کچھ نہیں ہے۔ انہوںنے کہا کہ اتنا ہی نہیں کسانوں کو ہر طریقے پر بدنام کیاجارہاہے انہیں خالصتانی بتایا جارہاہے جو سراسر غلط ہے۔ حکومت کہتی کچھ ہے اور کرتی کچھ ہے ، اس حکومت میں کسان ہی نہیں بلکہ ہر طبقہ پریشان ہے۔ مہاپنچایت میں بڑی تعداد میں کسان شامل ہوئے۔ اس دوران کانگریس کے صوبائی صدر اجے کمار للّو،سابق رکن اسمبلی عمران مسعود اور ضلع صدر چودھری مظفر علی وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر رکن اسمبلی نریش سینی،رکن اسمبلی مسعود اختر،مولانا ظہورقاسمی،قاری سی ایم مصطفی وغیرہ بھی موجود رہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close