دیوبند

دیوبند، مسلم معاشرہ کی خرابیاں تعلیمات دین پر عمل کرنے سے ہی دور ہوں گی : مولانا نسیم اختر شاہ قیصر

دیوبند، 15؍ جنوری (رضوان سلمانی) دارالعلوم وقف کے استاذ اور ممتاز ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے نماز جمعہ سے قبل اپنے بیان میں کہا کہ مسلمانوں کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ وہ زوال کا کیوں شکار ہیں ، پوری دنیا میں ان کے ہاتھ سے عزت، مقام نکلتا چلا جارہا ہے، اس کی وجوہات کیا ہیں۔ غور کرنے کے بعد جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اللہ کے احکامات پر عمل کرنا چھوڑدیا ہے ۔ سستی، نفس پرستی، خواہشات او راپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا جذبہ اس پر حاوی ہوگیا ہے۔ وہ انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی پلیٹ فارم تک دنیاوی پیمانے پر اپنے تمام مسائل کو تولنے لگا ہے، حالانکہ اس کی فلاح اس میں پوشیدہ ہے کہ وہ دین پر عمل کرے او رتعلیمات دین کو اپنے لئے مشعل راہ بنائے۔ دنیا میں اس نے جب بھی ترقی کی اور اللہ کی رضا کا خود کو مستحق بنایا تو تعلیمات دین پر عمل کرنا ہی اس کا سبب تھا ۔انہوں نے کہا کہ بہت سی برائیاں ہمارے گھروں میں ایسی داخل ہوگئی ہیں کہ ہم ان سے پیچھا چھڑانے میں کامیاب نہیں ہوپارہے ہیں، صلہ رحمی ختم ہے، خیرخواہی کے جذبات سرد پڑگئے، نیکی کی طرف ہمارے قدم نہیں اٹھتے، بھلی بات ہم کہتے نہیں، ہمدردی اور تعاون کا کوئی خیال ہمارے دلوں پر نہیں گزرتا۔ جن گھروں میں بوڑھے والدین ہیں ، کمزور ہیں، نہ ان کی دیکھ بھال کی جاتی اور نہ ان کی ضرورتوں کا خیال رکھاجاتا، اولاد ہے تو نہ ان کی تعلیم کی فکر ہے اور نہ ان کی تربیت کی جانب سے کوئی تشویش۔ منشائِ زندگی صرف دولت کا حصول بن گیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ اچھا اخلاق اور بہترین کردار معاشرے کے جس طبقے اور جماعت کا ہوتا ہے وہ کبھی دینی اور دنیا وی اعتبار سے محروم نہیں رہ سکتی۔ پھر جس قوم کو اللہ رب العزت نے دنیا کی اصلاح کے لئے پیدا کیا ہو اور خیر امت کے لقب سے معزز فرمایا ہو اس کی جب دگرگوں حالت سامنے آتی ہے تو سوائے افسوس کے کیا کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا معاشرہ جس تیزی کے ساتھ بگڑ رہا ہے اور معاشرتی خرابیاں جس طرح ہمارے کنبوں اور خاندانوں میں جڑیں پکڑ رہی ہیں اس سے نئی نسل کا مستقبل اندھیروں میں گھرا نظر آتا ہے۔ وہ طبقہ جس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی رہنمائی کرے اسے مزید کسی انتظار کی ضرورت نہیں وہ اپنے کمروں اور حجروں سے نکلیں ، قیادت اور صحیح دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے یہ اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے جس کو پورا کئے بغیر ایک صالح معاشرے کی امید کرنا خود کو فریب میں مبتلا کرنا ہے۔ اخلاقی قوتیں جب برسرکار ہوتی ہیں اور معاشرہ مضبوطی کے ساتھ ان بنیادوں پر کھڑا ہوتا ہے تو پھر اس معاشرے کے لئے کوئی دقت اور مشکل نہیں ہوتی۔ ہماری زندگی کا المیہ اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہماری زبان پر تو دین ہے لیکن ہمارے عمل میں اس کی کوئی حصہ داری نہیں اور سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ معاشرے کا ہر طبقہ اسی مقام پر کھڑا ہوا نظر آتا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ معاشرے کو نیکی اور فلاح کی را ہ پر لانے کے لئے اپنی ذمہ داری پوری کریں ، اپنا بوجھ دوسروں پر ڈالنا اور صرف دوسروں سے امید رکھنا ، یہ کسی حساس ، بیدار اور مستعد قوم یا فرد کا وطیرہ نہیں ہوسکتا، عادت واخلاق اورکردار ومعاملات درست اور صحیح ہوں تو سب کچھ صحیح ہوتا چلا جاتا ہے۔ اخلاق کے ساتھ معاملات کی نگہبانی اور نگرانی ضروری اور لازمی ہے۔ بہترین معاشرہ جب ہی تشکیل پائے گا جب ہم دردمندی کے ساتھ ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریںگے جو دن بہ دن ہماری روح کو زخم دے رہے ہیں او رہمیں پیچھے کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close