دیوبند

دیوبند، نامور صحافی، ادیب اور دانشور عادل صدیقی جوارِ رحمت ، علماء ،دانشوران ،ادیبوں اور صحافیوں نے ان کے انتقال کو بڑا خسارہ قرار دیا

دیوبند، 15؍ جنوری (رضوان سلمانی) آل انڈیا ریڈیو دہلی کے سابق ملازم ،دارالعلوم دیوبند میں دفتر محاسبی کے سابق ناظم اور مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند کی منتظمہ کمیٹی کے رکن ،صحافی اور سادیب عادل صدیقی کا طویل علالت کے بعد صبح 30:10بجے اپنی رہائش گاہ محلہ خواجہ بخش میں تقریباً 91سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ۔ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی دارالعلوم دیوبند کے مہتمم ،نائب مہتمم ،اساتذہ ودیگر کارکنان نے ان کی رہائش گاہ پہنچ کر اہل خانہ کو تعزیت مسنونہ پیش کی ۔۔ان کے صاحبزادہ آصف صدیقی نے بتایا کہ والد محترم ضعیف العمری اور مختلف بیماریوں میں مبتلاء ہونے کے باعث عرصہ سے صاحب فراش تھے ۔گذشتہ دنوں انہیں برین ہیمریج بھی ہو گیا تھا ،جس کے بعد سے گھر پر ہی ڈاکٹروں کی مسلسل نگرانی میں علاج چل رہا تھا ۔عادل صدیقی 1930 میں دیوبند کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ،اعلیٰ تعلیم مکمل ہونے کے بعد سہارنپور ،مظفر نگر اور سیوہارا میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔بعد ازاں وہ حکومت ہند کے اطلاعات و نشریات کے محکمہ سے بطور اسٹنٹ انفارمیشن آفیسر منسلک رہے ۔اور 1981میں اپنے رٹائرڈمینٹ کے بعد قومی آواز، الجمعیۃ اور آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے ،اور اپنی شاندار خدمات انجام دیتے رہے ،اور اسی کے ساتھ ساتھ ماہنامہ و میگز ین و رسائل یوجنا اور آج کل کے مدیر اعلیٰ کے طور پر بھی شاندا ر خدمات انجام دیں ۔عادل صدیقی اردو اور انگریزی زبانوں کے ماہر تھے ملک میں مختلف رسائل ،میگزین اور اخبارات میں ان کے مضامین اور تجزیہ تسلسل کے ساتھ شائع ہوتے رہتے تھے ۔انہوںنے انگریزی زبان کی متعدد کتب کا اردو میں ترجمہ بھی کیا ۔ریٹائر مینٹ کے بعد عادل صدیقی دیوبند واپس آ گئے اور دارالعلوم دیوبند کے دفتر محاسبی کے ناظم اور ادارہ کے ترجمان کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ۔اس دوران وہ آل انڈیا ریڈیو کے مخصوص پروگرام ’’اردو سروس‘‘’’اردو مجلس‘‘ اور اردو نیوز کے مختلف پروگراموں کے لئے عرصہ دراز تک شرکت کرتے رہے ۔عادل صدیقی کی وفات پر متعدد شخصیات نے اظہار تعزیت کیا ۔دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابوالقاسم نعمانی نے اپنے تعزیتی پیغا م میں کہا کہ عادل صدیقی با اخلاق ،با کردار ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین منتظم اور حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والے انسان تھے ۔انہوںنے ادارہ کے دفتر محاسبی کے ناظم کی حیثیت سے اور بطور ترجمان شاندار خدمات انجام دیں ۔اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ماہنامہ ترجمان مدیر مولانا ندیم الواجدی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ باغ وبہار شخصیت اور قلندرانہ طبیعت کے مالک عادل صدیقی کی وفات سے اردو صحافت کے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا ۔ مرحوم بہت سی خوبیوں کے انسان تھے مگر ان کی سب سے بڑی خوبی وہ سادگی تھی جو ان کی ہر ادا سے جھلکتی تھی، ان میں ظرافت بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ، سبھی لوگ ان سے بات کرکے خوشی محسوس کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ۔ دیوبند بھی اب قابل ذکر شخصیات سے خالی ہوتاجارہا ہے۔ ممتاز ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصرنے کہا کہ عادل صدیقی مرحوم کا شمار پرانے صحافیوں اور اہل قلم ہوتا تھا انہوں نے60سال سے زیادہ عرصہ تک لوح وقلم سے رشتہ برقرار رکھا ان کے سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھے گیُ مضامین گہری بصیرت اور دانشورانہ فکر کا عنوان ہوتے تھے شخصیات پر بھی ان کی تحریریں بڑی دلچسپ اور جاذب نظر ہوتی تھیں وہ سنجیدہ متین اور پختہ نگار صاحب قلم تھے ان کا حادثہُ وفات اردو صحافت کا براہ راست نقصان ہے ذاتی طور میں ان کے انتقال کو دیو بند کا ادبی اور قلمی خسارہ سمجھتا ہوں اللہ انہیں اپنے دامن رحمت میں جگہ دے۔ مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند کے منیجر سہیل صدیقی ،سابق چیئر مین انعام قریشی اور یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے اپے تعزیتی پیغامات میں عادل صدیقی کی وفات کو اردو صحافت کا بڑا حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی صحافتی زندگی کا بڑا حصہ اگر چہ سرکاری جرائد و رسائل کی خدمت میں گذرا ،لیکن وہ کسی بھی لمحہ میں ملی مسائل سے غافل نہیں ہوئے ،اسی لئے ان کا نام انتہائی معتبر مانا جاتا تھا ۔انہوںنے کہا کہ عادل صدیقی نے صاف ستھری صحافت کے جو نقوش ثبت کئے ہیں ہو نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہیں ۔ان کا انتقال دنیائے اردو صحافت کا عظیم نقصان ہے ۔مرحوم کی تحریروں میں ملت کا درد چھلکتا تھا ،ملی مسائل سے مرحوم کو خاص دلچسپی تھی ۔دیوبند کے معروف ایڈوکیٹ اور مومن کانفرنس دیوبند کے صدر نسیم انصاری نے عادل صدیقی کی وفات پر صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم خوش مزاج ملنسار ،پر مزہ اور ملی درد رکھنے والے شخص تھے ۔اس کے علاوہ پریس ایسوسی ایشن کے تمام صحافیوں اور سینئر صحافی اشرف عثمانی نے بھی عادل صدیقی کی وفات کو صحافت کا خسارہ عظیم قرار دیا ۔اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی ۔بعد نماز عصر مرحوم کی نماز جنازہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابوالقاسم نعمانی نے احاطہ مولسیری میں ادا کرائی ۔بعد ازاں تدفین قبر ستان قاسمی میں عمل میں آئی۔ان کے انتقال پر سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبد الخالق مدراسی ،مولانا عبد الخالق سمبھلی ،جامعہ امام محمد انور شاہ کے مہتمم مولانا احمد خضر شاہ مسعودی ،سابق ایم ایل اے معاویہ علی ،جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید ، ڈاکٹر اختر سعید ،مولوی محمد انس ، حاجی انور عثمانی ،حافظ فہیم عثمانی ،راحت خلیل ،وجاہت شاہ ،حاجی ریاض محمود اور قاضی فرحان وغیرہ نے مرحوم کے سانحہ پر صدمہ کا اظہار کیا ۔ اس کے علاوہ مسلم فنڈ ٹرسٹ کے منیجر سہیل صدیقی ،اسٹنٹ منیجر سید آصف حسین ،انعام قریشی و دیگر کارکنان نے بھی عادل صدیقی کے اکلوتے صاحبزادہ آصف صدیقی سے مرحوم کے انتقال پر رنج و غم کا اظہا رکیا

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close