دیوبندعجیب و غریب

دیوبند،ساس کو یرغمال بناکر بہو کی کی گئی اجتماعی عصمت دری ، ایک نوجوان نے نرسوں کے فوٹو ایڈٹ کرکے سوشل میڈیا پر کئے وائرل

دیوبند، 14؍ جنوری (رضوان سلمانی) دیوبند کے ایک محلہ کی رہنے والی خاتون نے دو افراد پر اسلحہ کی نوک پر اجتماعی عصمت دری کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ خاتون کا الزام یہ بھی ہے کہ مذکورہ افراد نے اس کی ساس کو یرغمال بناکر ایک کمرہ میں بند کردیا ، خاتون نے پولیس سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ کوتوالی پولیس چوکی علاقہ کے ایک محلہ کی رہنے والی خاتون نے پولیس کو تحریر دیتے ہوئے کہ چار روز قبل اس کا شوہر کسی کام سے باہر گیا ہواتھا وہ اور اس کی ساس گھر پر اکیلی تھی ، خاتون کا الزام ہے کہ دو افراد نے اس کے گھر میں گھس کر اسلحہ سے دہشت زدہ کرتے ہوئے اس کی ساس کو ایک کمرہ میں یرغمال بناکر بند کردیا ، اس کے بعد اسے دوسرے کمرے میں لے گئے اور اسلحہ سے دہشت زدہ کرتے ہوئے اس کی اجتماعی عصمت دری کی۔ خاتون کے مطابق ملزمان کسی کو بتائے جانے پر جان سے مارنے کی دھمکی دے کر فرار ہوگئے ۔ اس سلسلہ میں تھانہ انچارج دیوبند اشوک سولنکی نے بتایاکہ معاملہ ان کے علم میں آیا ہے اور پولیس جانچ کررہی ہے ۔ دوسری جانب پرائیویٹ اسپتال میں کام کرنے والی نرسوں کے فوٹو ایڈٹ کرکے سوشل میڈیا پر وائرل کردیئے گئے۔ ایک ساتھ 6/7لڑکیوں کے فوٹو وائرل ہوئے تو افراتفری مچ گئی ، پولیس نے فوراً اس معاملہ کی چھان بین شروع کی تو معلوم ہوا کہ اسپتال میں ہی میڈیکل اسٹور پر کام کرنے والے نوجوان نے یہ فوٹو وائرل کئے تھے۔ پولیس نے مقدمہ قائم کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہ معاملہ سہارنپورکے تھانہ منڈی علاقہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال کا ہے ، پولیس کے مطابق کچھ روز قبل اسپتال کی ہی ایک نرس کو اس کے موبائل پر ایک ایڈٹ کی گئی فوٹو بھیجی گئی جس میں نرس کے چہرے کے ساتھ فحش فوٹو ایڈٹ کی گئی تھی، نرس نے یہ بات اپنے دوسرے ساتھیوں کو بتائی تو انہو ںنے مذاق سمجھ کر مذکورہ نمبر کو بلاک کردیا۔ اس کے بعد دو تین دن پہلے اسپتال میں کام کرنے والی دیگر 6.7 لڑکیوں کے موبائل پر بھی ان کی فحش فوٹو بھیجی گئی جس کے بعد اس کی شکایت پولیس سے کی گئی ۔ معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس نے فوراً چھان بین شروع کی تو جانچ میں معلوم ہوا کہ اسپتال میں ہی میڈیکل اسٹور پر کام کرنے والے نوجوان ہی یہ حرکت کررہا تھا ، پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرلیا ، اس سلسلہ میں انسپکٹر تھانہ منڈی بجیندر سنگھ راوت نے بتایا کہ اسپتال میں کام کرنے والی لڑکیو ںکی فوٹو ایڈٹ کرکے سوشل میڈیا پر وائرل کی جارہی تھی ۔ اسپتال میں ہی کام کرنے والے نوجوان کو مقدمہ قائم کرکے گرفتار کرلیا گیا ہے اور اسے جیل بھیجا جارہاہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close