دیوبند

تحقیق وتنقیدی دنیا کے مجاہد وادیب شمس الرحمن فاروقی کے انتقال کی خبر کو شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا

مرحوم نہایت سادگی پسند اور ادب نواز شخصیت تھے: ڈاکٹر نوازدیوبندی

شمس الرحمن فاروقی موجودہ دور کے سب سے بڑے ادبی نقاد ادیب شاعر تھے : مولانا نسیم اختر شاہ قیصر

دیوبند، 25 ؍ دسمبر (رضوان سلمانی) تحقیق وتنقیدی دنیا کے مجاہد وادیب شمس الرحمن فاروقی کے انتقال کی خبر جیسے ہی دیوبند پہنچی تو ادبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑگئی ۔ ان کے انتقال پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ شمس الرحمن فاروقی کے سانحۂ ارتحال پر عالمی شہرت یافتہ شہر ڈاکٹر نواز دیوبندی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ شمس الرحمن فاروقی تحقیق وتنقیدی دنیا کے مجاہد بھی تھے اور قائد بھی۔ دنیا سے ان کا رخصت ہونا اردو ادب کا ایک بڑانقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادبی دنیا میں تنقید وتحقیق کے حوالے سے جو عظمت واعتبار شمس الرحمن فاروقی کو حاصل تھا وہ کم لوگوں کے مقدر میں آتا ہے ۔ عالمی سطح پر ان کی جو شناخت اور حیثیت تھی وہ ہمارے ملک ہندوستان کے لئے بھی باعث افتخار ہے، ان کی تصنیفات اور تخلیقات اردو ادب کا سرمایہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ مرحوم نہایت سادگی پسند اور ادب نواز شخصیت تھے ، ملک کے اعلیٰ سرکاری منصب پر رہتے ہوئے بھی ادب کے خدمت گزار رہے اور ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد بھی انہوںنے اپنی ساری زندگی ادب کی خدمت میں ہی گزاری۔ ان کی تصنیفات آنے والی نسلوں کے لئے بھی مشعل راہ ہے۔ مرحوم کی ادارت میںنکلنے والا میگزین ’’شب خون‘‘ ادبی صحافت کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ انہوں نے اردو ادب میں محتلف جہتوں اور مختلف سطح سے اپنی تحریروں کے چراغ روشن کئے ، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کاملہ فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازے ۔ ممتاز ادیب ومعروف قلم کار مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے شمس الرحمن فاروقی کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ شمس الرحمن فاروقی موجودہ دور کے سب سے بڑے ادبی نقاد ادیب شاعر تھے ، ان کی تحقیقی ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔ ان کی بات پر اعتماد کیا جاتا اور تحقیق کے میدان میں ان کی رائے باوزن اور مستند تھی۔ ان کے قلم سے نکلی کتابیں اردو زبان کا انتہائی انمول سرمایہ ہیں۔ ان کے باوقار اور شہرۂ آفاق ماہنامہ رسالے شب خون کو ادبی اور تحقیقی وتنقیدی دنیاکا منفرد اور مکمل رسالہ مانا گیا، ان کی بلند خدمات اورکارناموں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ فتویٰ آن لائن سروس کے چیئرمین مفتی ارشد فاروقی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحوم شمس الرحمن فاروقی اردو کے بلند پایہ ادیب،عمدہ نثرنگار،عظیم نقاد، اس عہد کی سند مرجع حوالہ،کئی کتابوں کے مصنف اوراردو فارسی انگریزی پر دسترس رکھنے والے توعربی سے واقف اوراصول پسند فرض شناس تھے۔ مرحوم چیف پوسٹ ماسٹر جنرل تھے اور 1960سے جہان اردو کے ستارے آگے جہاں اور بھی آفتاب و ماہتاب بنے جیسی ان کی تحریر تھی ویسے ان کے خوبصورت بول تھے شرافت وشائستگی ورثہ تھا اور تھانوی تربیت واصلاح کی چھاپ بھی خاندان کی علامت تھی ۔ وہ امریکہ کی پنسلوانیا یونیورسٹی کا ساؤتھ ایشیا ریجنل اسٹڈیز سنٹر کے جزوقتی پروفیسر بھی رہے ۔ وہ’’ شب خوں‘‘ میگزین کے مدیر کی حیثیت سے جہالت پر شب خون مارتیکئی چانداور تھے، سر آسماں ان کی شاہکار تصنیف ہے،افسانے کی حمایت میںاردو کا ابتدائی زمانہ کو ادبی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا وطن مشہور قصبہ کوئی ریاپار ہے جواب مئو ضلع کا حصہ ہے اور یگانۂ روزگار محدث مولانا علی احمد فاروقی کے نام سے اہل علم میں مشہور ہے اور ان کا مکان کھنڈر بن کر مکینوں کا ماتم کناں ہے ۔ دوسری جانب اردو زبان و ادب کے مایہ ٔناز تنقید نگار اور عہدحاضر کے بلند پایۂ قلمکار شمس الرحمن فاروقی کے انتقا ل سے دیوبند کے ادبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ۔ اس سلسلہ میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد الحیاء پبلی کیشنز کے زیراہتمام محلہ گدی واڑہ میں کیاگیا، جس کی صدارت سینئر صحافی اشرف عثمانی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ممتاز ادیب و مصنف عبداللہ عثمانی نے انجام دیئے۔ اس موقع پر یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے شمس الرحمن فاروقی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم ایک مدت سے اردو زبان و ادب کی بے لوث خدمات انجام دے رہے تھے ،ان انتقال سے یقینااردو زبان و ادب کو بڑا نقصان ہواہے۔ ڈاکٹرایس اے عزیز نے کہاکہ اردو زبان کے موجودہ حالات میں شمس الرحمن فاروقی کے کارنامے قندیل کے مانند ہیں،انہوں نے اردو کی حقیقی روح کو اجاگر کیاہے۔ ڈاکٹر شمیم دیوبندی نے کہاکہ شمس الرحمن فاروقی اردو دنیا میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے، ان کی تنقید نگاری نے اردو کی بنیادوں میں مزید مضبوطی پیدا کی ہے۔ مرحوم کے اردو تراجم دیگر زبانوں میں بھی بہت مقبول ہوئے ہیں۔ نامور قلمکار کمل دیوبندی نے کہاکہ شمس الرحمن فاروقی نے اردو کو جس معیار و مقام پر پہنچایا یہ ان کی فکر و فن کی خوبی کا نتیجہ ہے۔ سرسوتی ایوارڈ یافتہ شمس الرحمن فاروقی کو اہل اردو کبھی فراموش نہیںکرینگے۔ ممتاز ادیب و محقق عبداللہ عثمانی نے کہاکہ اردو اخبار میں ان کی زیر ادارت شائع ہونے والے ’شب و خون‘ نے ایک طویل عرصہ تک اردو زبان کی آبیاری کی ،متعدد کتابوں کے متراجم و مصنف شمس الرحمن فاروقی کی کتاب’کئی چاند اور تھے سرِآسماں‘ اردو زبان میں گوہر آبدار کی حیثیت رکھتی ہے، شمس الرحمن فاروقی کا انتقال یقینا اردو کے ایک عہد کا خاتمہ ہے، مرحوم کی اردو ادب میں تنقیدی کوششوں کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتاہے۔ دریں اثناء مرحوم کے لئے دعاء مغفرت کی گئی۔ اس دوران اہل اردو موجودرہے۔

فوٹو۔ مفتی ارشد فاروقی ، ڈاکٹر نواز دیوبندی، مولانا نسیم اختر شاہ قیصر ، ڈاکٹر شمیم دیوبندی، سید وجاہت شاہ ، عبید اقبال عاصم، عبداللہ عثمانی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close