دیوبند

دیوبند، اسلامیہ ڈگری کالج میں ’دبستان دیوبند کی ادبی و صحافتی خدمات‘ کے عنوان پر دوروزہ سیمینار کا انعقاد

سرزمین دیوبند کا اردو زبان کے فروغ میں بنیادی کردار ہے: خواجہ افتخار

دیوبند، 20؍ دسمبر (رضوان سلمانی) اسلامیہ ایجوکیشن اینڈ چیرٹیبل سوسائٹی کے زیراہتمام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان(این سی پی یوایل) کے اشتراک سے یہاں اسلامیہ ڈگری کالج میں دو روزہ سیمینار کاانعقاد ’دبستان دیوبند کی ادبی و صحافتی خدمات‘ کے عنوان پر کیاگیا،جس میں دانشوران اور ادباء نے اردو زبان وادب میں سرزمین دیوبند کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ پروگرام کے دوران اردو کی خدمت انجام دینے والے علاقہ کے صحافی اور شعراء کو سند توصیفی سے بھی نوازا گیا ۔ اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد چیئرمین انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا نے دیوبندکی ادبی و صحافتی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ سرزمین دیوبند کا اردو زبان کے فروغ میں بنیادی کردار ہے، انہوں نے کہاکہ اس شیریں زبان کو سرحد اور مذاہب کی زنجیروں میں قید نہیں کیاسکتاہے بلکہ یہ ہندوستانی زبان ہے جس کے شیدائی پوری دنیا میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی آزادی اور اس کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان اور اردو صحافت کا گرانقدر رول ہے ،جسے کبھی فراموش نہیں کیاسکتاہے۔ موصوف نے اردو کی ترویج و ترقی پر خصوصی زور دیتے ہوئے اپنے بچوں کو اردو زبان سے آشنا کرانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ اردو کی جائے پیدائش ہے۔ اس علاقہ کے باشندے مبارک باد کے مستحق ہیں کہ اردو زبان یہاں پیداہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس حساب سے جو چیز جہاں پیدا ہوتی ہے اس کا حق اسی علاقہ پر زیادہ ہوتا ہے۔ دوران نظامت پروفیسر تنویر چشتی نے اردو صحافت اور دیوبند کی اردو زبان کی خدمات پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ دیوبند ایسی سرزمین ہے جہاں کی ہواؤں میں بھی اردو بہتی ہے، انہوں نے کہاکہ دیوبندنے نہ صرف اردو زبان کی ترویج و ترقی میں اہم رول ادا کیاہے بلکہ یہاں کی اردو صحافت کی خدمات بھی آب زر سے لکھنے لائق ہیں۔ تنویر چشتی نے کہاکہ دیوبند میں گزشتہ ایکسو سال سے طلبہ وطالبات کو صحافتی میدان کے لئے مہارت کرائی جارہی ہے، دیوبند سے ہر ماہ الگ الگ ناموں اور عنوانوں سے تقریباً 110؍ پرچے نکلتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کا بھی بڑا نیٹ ورک ہے۔پروفیسر تنویر چشتی نے کہا کہ اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو وہ شرمندہ کرنے والے ہیں مگر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، اگر ہم طے کرلیں کہ ہر شخص ایک اردو کااخبار خریدے گا تو اردو صحافت کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے اسلامیہ ڈگری کالج کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کالج کے بانی مرحوم اکرام الحق کو خراج عقیدت پیش کی اور کہاکہ گرلز ایجوکیشن کو پرموٹ کرنے کے لئے ان کا یہ قدم قابل ستائش ہے۔اس دوران مقامی اردو صحافیوں کی خدمات کے اعتراف میں انہیں اعزاز سے نوازاگیا۔ سمینار کے دوران اسکالرس نے اپنے مقالے پیش کئے ،جس میں خاص طورپردیوبند کی اردو او ر صحافتی خدمات کو عنوان بنایا گیاہے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ دیوبند کی سرزمین بڑی زرخیز ہے یہاں سے ان شخصیات نے جنم لیا جنہوں نے اردو کے حوالے سے اس خطے کا نام دنیا کے کونے کونے میں روشن کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں صحافت کی ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں ، ملک کے بدلتے حالات میں میڈیا کا بڑادخل ہے۔ معروف قلم کار سید وجاہت شاہ نے کہا کہ صحافت سماج کی عکاس ہوتی ہے جو ہم صحافت کرتے ہیں وہی سماج بنتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صحافت اب اپنی دنیا سامنے لارہا ہے اور سماج سے مختلف ہوگیا ہے ، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر شافع قدوائی نے کہا کہ ہمارے گھرو ں سے اردو بے دخل ہوچکی ہے ، اپنے گھروں میں اردو کو رواج دیں اور اپنے بچوں کو اردو کی جانب راغب کریں ۔ پروفیسر ڈاکٹر اسجد ترکی نے کہا کہ ملک کو آزاد کرانے میں اردو کا اہم کردار رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج مسئلہ تہذیب وثقافت کو بچانے کا ہے ، اردو زبان ایک مکمل تہذیب ہے، اردو کو بچانے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی تہذیب وثقافت کو بچانے کے لئے کام کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر اسجد ترکی نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند نے اردو کے لئے جو کام کیا ہے وہ تاریخ میں سنہرے الفاظ میں رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیوبند اردو کی بستی ہے لیکن یہا ں اردو اخبارات کو نظر انداز کیا جارہا ہے جو باعث تشویش ہے ۔مقالے پیش کرنے والوں میں پروفیسر عبیدالرحمن ہاشمی،پروفیسر ارشد غازی،پروفیسر ایم معیز الدین،مولانا شاہ عالم،ڈاکٹر اسجد ترکی،سید وجاہت شاہ،ڈاکٹر چاندنی عباسی،پروفیسر لاکھن شرما،عبدالرحمن سیف وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ آخر میں اسلامیہ گروپ آف کالج کے چیئرمین ڈاکٹر عظیم الحق نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ تعلیمی اور میڈیکل سہولیات عوام تک پہنچانا ان کی زندگی کا مقصد ہے، انہوں نے بتایاکہ وہ آنے والے وقت میں غریب اور ضروتمندوں کے لئے دیوبند میں ملٹی اسپشلٹی ہاسپٹل کا قیام کرینگے۔ اس موقع پر دیوبند کے صحافی اشرف عثمانی، رضوان سلمانی،سمیر چودھری، فہیم اختر ، فروز خان اور عارف عثمانی کو اعزازسے نوازا گیا۔اس دوارن تشار کانت ہندوستانی،ڈاکٹر محمد اخلاق،ڈاکٹر انور پاشا،نوروالحسن،ڈاکٹر شمیم دیوبندی، ڈاکٹر ایس اے عزیز،ماسٹر یامین ،فرخ صدیقی،قاری عامر عثمانی،صائم صدیقی،سلامت خان،ڈاکٹر عدنان قاسمی،ڈاکٹر احسان،محمد صمد،محمد صائم نسیم،محمد مزمل،ابولکلام وغیرہ سمیت کالج کے طلبہ وطالبات موجودرہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close