دیوبند

بابری مسجد کی برسی کے موقع پر حساس علاقوں میں رہی پولیس تعینات

دیوبند، 6؍ دسمبر (رضوان سلمانی) بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد(بابری مسجدکے یوم شہادت) کے دن ضلع انتظامیہ کافی مستعد رہی ۔ تمام حساس و انتہائی حساس علاقوں میں پولیس گشت کے علاوہ خفیہ محکمہ کی پینی نظر لگی رہی لیکن حالات پوری طرح معمول پر رہے اور کسی بھی طرح کا کوئی کشیدگی والاواقعہ سامنے نہیں آیا، جس کے بعد انتظامیہ نے راحت کی سانس لی ،حالانکہ6؍ دسمبر کو اتوار کا دن ہونے کے سبب بھی انتظامیہ کافی ٹیشن میں تھی۔ 6؍ دسمبر کے دن ضلع انتظامیہ پوری طرح الرٹ رہی، حالانکہ ضلع بھر میں امن وشانتی رہی اور رفتار زندگی پوری طرح معمولات پر رہی لیکن اس کے باوجود بھی انتظامیہ کی جانب سے سخت تیاریاں کی گئیں تھیں۔تمام حساس و انتہائی حساس علاقوں میں پولیس گشت کے ساتھ ہوٹلوں،بس اسٹینڈ اور ریلوے اسٹیشنوں وغیرہ پر بھی چیکنگ کی گئی ،اتنا ہی نہیں بلکہ خفیہ محکمہ بھی پوری طرح الرٹ رہا،دن بھر کی ٹیشن کے بعد شام جاکر انتظامیہ نے راحت کی سانس لی۔ صبح سے ہی پولیس فورس ضلع بھر میں مستعد رہی ، خفیہ محکمہ کو بھی الرٹ کیا گیا تھا ۔ ایس ایس پی سہارنپور نے سبھی تھانہ انچارجوں کو مستعد رہنے کے احکامات دیئے تھے ۔ ایس ایس پی ڈاکٹر ایس چننپا نے سبھی تھانہ انچارجوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں مستعد رہیں اور دونوں ہی مذاہب کے سرکردہ افراد سے برابر رابطہ رکھیں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آسکے۔ اتنا ہی نہیں 6؍ دسمبر کو لے کر ایس ایس پی ڈاکٹر ایس چننپا نے اپنے ماتحت افسران کو ساتھ لے کر پیدل گشت کیا ۔ دیوبند میں بھی آج پولیس افسران نے مختلف حساس علاقوں میں فلیگ مارچ کیا ۔ دیوبند میں بھی پولیس انتظامیہ اور خفیہ محکمہ کافی الرٹ رہا ۔دیوبند سی او کوتوالی انچارج اشوک سولنکی کی قیادت میں پورے شہر میں گشت کرتے ہوئے جگہ جگہ پولیس اہلکاروںکو تعینات کیاگیا تھا۔ دیر شام تک پولیس کا گشت بدستور جاری رہا۔ دن بھر کی ٹیشن کے بعد دیر شام انتظامیہ نے راحت کی سانس لی اور لوگ حسب معموم اپنی کاموں میں مصروف نظر آئے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close