دیوبند

زرعی قوانین کے خلاف کسانوں میں شدید غصہ : کسانوں کی حمایت میں پچھم پردیش مکتی مورچے کے عہدیداران اور کارکنان دہلی

دیوبند،2؍دسمبر (رضوان سلمانی) ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں کے ذریعہ زرعی بل کو لیکر کے جا رہے احتجاجی مظاہروں کی حمایت میں یہاں کے کسان بھی دہلی کے لئے روانہ ہونے شروع ہو گئے ہیں ۔آج پچھم پردیش مکتی مورچے کے عہدیداران اور کارکنان دہلی میں ہو رہے کسانوں کے احتجاج میں شامل ہونے کے لئے دیوبند سے روانہ ہوئے ،اسی کے ساتھ بھارتیہ کسان یو نین سرو گروپ کے عہدیداران نے گائوں جڑودا جٹ میں میٹنگ کا انعقاد کرکے حکومت کے ذریعہ لائے گئے زرعی قانون کی مخالفت کررہے کسانوں پر کئے گئے حملے کی مذمت کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ اگر حکومت کی جانب سے کسانوں پر تھوپے گئے تینوں زرعی بلوں کو واپس نہیں لیا گیا ،تو یونین دہلی پہنچ کر کسانوں کے ساتھ احتجاجی مظاہروں میں شامل ہو گی ۔تفصیل کے مطابق آج پچھم پردیش مکتی مورچہ کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما کی قیادت میں کسانوں کا ایک وفد دہلی کے لئے روانہ ہو ا ،دہلی روانہ ہونے سے قبل مورچے کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما نے کسانوں سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ملک کے کسانوں کی لڑائی ہمارا مورچہ آخری دم تک لڑے گا۔حکومت کی غلط پالیسیوںکے سبب آج ملک کا کسان سب سے مشکل دور سے گذر رہا ہے ۔کسانوں پر اتنا قرض ہو گیا ہے کہ ان کے پاس خود کشی کرنے کے علاوہ یا دہلی میں سخت سردی میں کھلے آسمان کے نیچے اپنی لڑائی لڑنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے ۔جبکہ مرکزی حکومت کسانوں کی جانب کو ئی توجہ نہیں دے رہی ہے بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم کو چودھری چرن سنگھ اور لال بہادر شاستری سابق وزیر اعظم سے سبق لے کر ملک کے کسانوں کو فوراً بلا کر عزت کے ساتھ کسانوں پر تھوپے گئے تینوں زرعی بلوں کو واپس لے لینا چاہئے۔اور ملک کے کسانوں کو ان کی فصلوں کی واجبی قیمت دلانی چاہئے جو آزادی سے لیکر گذشتہ 73سالوں میں نہیں ملی ہے۔جس کی وجہ سے ملک کا کسان قرض مند ہو کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ فوراً گنے کی قیمت 600روپے فی کنتل کا اعلان کریں اور کسانوں کے گنے کے بقائے کی ادائیگی سود سمیت دلائی جائے۔دہلی روانہ ہو نے والوں میں مورچہ کے ریاستی جنرل سکریٹری واجد علی،قومی نائب صدر فروز خان،سردار گروندر سنگھ بنٹی ،ونود سینی،عاصم جنید خان ،سمیت بڑی تعداد میں کسان شامل تھے۔دوسری جانب بھارتیہ کسان یونین سرو گروپ کی ایک میٹنگ میں سرکار کے ذریعہ لائے گئے بلوں کی مخالفت کی گئی اور کسانوں پر کئے گئے حملے کی مذمت کی گئی اور ساتھ ہی میٹنگ میں انتباہ دیا گیا کہ اگر حکومت کی جانب سے کسانوں پر تھوپے گئے تینوں زرعی بل کو واپس نہیں لیا جاتا تو یونین دہلی پہنچ کر کسانوں کے ساتھ تحریک میں شامل ہونگی ۔دیوبند کے قریبی گائوں جڑودا جٹ میں ضلع صدر جمال ناصر کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے یونین کے قومی صدر راج کشور شرما نے کہا کہ پنجاب اور ہریانہ میں جس طریقہ پر کسانوں کے ساتھ مار پیٹ کی گئی ہے وہ قابل مذمت ہے ۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کی اس تحریک کو مزید مضبوط کرنے کے لئے علاقہ کے کسانوں کو بیدار کیا جائے گا جس سے دہلی میں چلائے جا رئی تحریک میں کسانوں کو مزید مضبوطی مل سکے ۔ضلع صدر جمال ناصر نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ جلد سے جلد کسانوں کے مسائل سنے اور تینوں زرعی قانون کو فوراً واپس لے ۔اس دوران سبھاش کشیپ ،فرحاد چودھری ،محمد شعیب ،عالم پردھان ،سید اعظم نقوی،شکیل خان ،پروین رانا،دیپک کمار اور راجیش کشیپ سمیت بڑی تعداد میں کسان موجود رہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close