دیوبند

دیوبند، ادبی و سماجی تنظیم’انجمن پاسبانِ ادب دیوبند‘ کے زیراہتمام محفل مشاعرہ کاانعقاد

سڑک کے کنارے ایک غبارے والا دیکھو ٭ مجبوری میں اپنی سانسیں بیچ رہاہے

دیوبند، یکم؍ دسمبر (رضوان سلمانی) ادبی و سماجی تنظیم’انجمن پاسبانِ ادب دیوبند‘ کے زیراہتمام ایک محفل مشاعرہ کاانعقاد رحمان کالونی میں واقع انجمن کے بانی شاعر و ادیب حسرت دیوبندی کی رہائش گاہ پر کیاگیا۔ جس میں شعراء نے اپنا شاندار کلام پیش کرکے سامعین کو دیر شب تک محظوظ کیا۔ مشاعرہ کی صدارت حسرت دیوبندی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض عبدالرحمن سیف نے انجام دیئے۔ مشاعرہ کا آغاز نور دیوبندی کی نعت پاک سے ہوا، مشاعرہ میں پسندکئے گئے چنندہ اشعار قائین کی نذر ہیں۔

اپنے حالات کی تحویل میں رکھے ہوئے ہیں ٭ ہم سمندر ہیں مگر جھیل میں رکھے ہوئے ہیں: ذکی انجم

سڑک کے کنارے ایک غبارے والا دیکھو ٭ مجبور میں اپنی سانسیں بیچ رہاہے : حسرت دیوبندی

حوصلہ نہیںیارو ،ابتداء کرو یارو ٭ ایک چراغ جلنے سے سو چراغ جلتے ہیں: عبدالرحمن سیف

گھٹتا گیاہے چاند تو بڑھتاگیا ہے غم ٭ یوں بھی کٹی ہے رات ترے انتظار میں: کاوش ثمر

اپنے ایمان میںپختگی کب ہے ٭ ہیں دعائیں بھی بے اثر یوں ہی : نور حسن نور

تم ہمیں پکاروگے ہم مگر نہیں ہونگے ٭ دیر ہوچکی ہوگی ہم تہہ زمیں ہونگے : ولی وقاص

ہوائیں گرم ہیں ہر سمت بدگمانی ہے ٭ ہمارے دیش کاماحول زعفرانی ہے : راشد کمال

خامیاں لازمی ہوتی ہیں بہت سی سب میں ٭ کون دنیا میںفرشتوں کی طرح ہوتاہے: چاند دیوبندی

علاوہ ازیں نعیم اختر،سلیم عثمانی اور عابد طارق وغیرہ نے بھی اپنا خوبصورت کلام پیش کیا ۔ اس دوران انوار حسین،پرویز ملک دلشاد غوری،گڈو کلیم،نجم عثمانی،شمیم سیفی،عبدالسلام،محمد راشد،شکیل احمد سمیت دیگر سامعین موجودرہے۔ آخر میں پورگرام کنوینر ڈاکٹر طارق نیر نے تمام مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close