دیوبند

دیوبند، پچھم پردیش مکتی مورچہ نے کیا زبردست احتجاج : ایس ڈی ایم کی معرفت صدر جمہوریہ کو ارسال کیا میمورنڈم

دیوبند، 30؍ نومبر (رضوان سلمانی) پہلے سے اعلان کے مطابق پشچم پردیش مکتی مورچہ کی جانب سے پنجاب او رہریانہ کے کسانوں پر اتر پردیش کی ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی طرف سے ظلم اور استحصال کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔تفصیل کے مطابق تنظیم کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما کی قیادت میں تلہیڑی بزرگ سے موٹر سائکلوں ،گاڑیوں اور ٹریکٹروں و ٹرالیوں پر سوار ہوکر ہزاروں کسان نعرہ بازی کرتے ہوئے جلوس کی شکل میں جامعہ طبیہ دیوبند ،تلہیڑی چنگی ،منگلور چوکی اور بس اسٹینڈ ہوتے ہوئے ڈاک بنگلے پر پہنچ گئے ،اور انہوں نے وہاں ہائی وے پر جام لگا دیا ۔بعد ازاں انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں اور ریاستی و مرکزی حکومت کے ظلم وستم اور استحصالی رویہ کے خلاف زبردست نعرے بازی کرتے ہوئے ایس ڈی ایم دیوبند کو صدر جمہوریہ ہند کے نام مطالبات پر مبنی ایک بارہ نکاتی میمورنڈم سونپا ۔میمورنڈم میں صدر جمہوریہ ہند سے کہا گیا ہے کہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کسان قرض دار ہونے کے بعد خود کشی کررہے ہیں ،لیکن مرکزی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ کسانوں کی معاشی خوش حالی سے ہی ملک اقتصادی طور پر مضبوط ہوگا ،اس لئے کسانوں کے مطالبات تسلیم کئے جائیں اور ان کے مسائل حل کئے جائیں ۔میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کسانوں کے خلاف لائے جانے والے بلوں کو واپس لیا جائے ،اور ان کے قرضے ختم کرنے کے اقدامات کئے جائیں ۔اس کے علاوہ کسانوں کو ان کی فصلوں کی منافعہ بخش کی قیمتیں دلائی جائیں ۔میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کسانوں کے حق میں سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ کو نافذ کیا جائے اور ایک کسان انکم کمیشن کی تشکیل کی جائے ،اور ساتھ ہی ساتھ منریگا اسکیم کو سیدھے سیدھے کھیتی سے منسلک کیا جائے ۔میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ کھیتی کے کاموں کو انجام دینے کے لئے کسانوں کو مفت بجلی فراہم کرائی جائے او رانہیں سستے ریٹ پر بلکہ ٹیکس سے مستثنیٰ ڈیزل فراہم کرایا جائے ۔کسانوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ گنے کی منافعہ بخش قیمت کم از کم 600روپے فی کنتل مقرر کی جائے اور شوگر فیکٹریوں پر ان کے بقایا جات کی ادائیگی مع سود ادا کرائی جائے ۔نیز چینی ملوں سے کسانوں کو کھاد کے لئے مفت میلی دلائی جائے اور شوگر فیکٹریوں میں گنا کم تولے جانے کی بدعنوانی کو ختم کیا جائے ۔اس موقع پر کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے مکتی مورچہ کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ اب اس ملک کا کسان بیدار ہو چکا ہے اس لئے حکومت کو ان کے مطالبات پورے کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑیگا ۔انہوںنے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے تین زراعتی بل پاس ہونے کے بعد کسانوںکو اس کا زبر دست نقصان پہنچے گا ،اس لئے کسانوں کا مطالبہ ہے کہ مذکورہ زراعتی قانون کو واپس لیا جائے ،اور ارسال کئے گئے میمورنڈم میں درج تمام مطالبات کو فوری طور پر منظور کیا جائے ۔مکتی مورچہ کے قومی صلاح کار حافظ مرتضیٰ تیاگی نے کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو کسانوں کے ساتھ با عزت طریقہ سے بات چیت کرنی چاہئے ،اور ان کے مطالبات کو منظور کر لینا چاہئے ۔بعد ازا ں تنظیم کے ریاستی جنرل سکریٹری واجد علی تیاگی نے بھی احتجاجی مظاہرہ میں شامل کسانوں سے خطاب کیا اس موقع پر ریاستی جنرل سکریٹری عاصم ملک ،زونل نائب صدر سردار گل وندر سنگھ بنٹی،گلشیر تیاگی ،قاری سید ،سنجے تیاگی ،رشی پال ،یاسین تیاگی ،ڈاکٹر وامق ،اکھل شرما ،ضیاء الحق تیاگی ،بھورا تیاگی ،سلیم ،ابھشیک چودھری ،امت کمار ،راج کرن ،سشیل مہکار ،سریش منپریت،محبوب اور تنظیم کے کارکنان کے علاوہ ہزاروں کسان موجود رہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close