دیوبند

حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی وفات کے 100برس مکمل ہونے پر خراج عقیدت پیش کی گئی

حضرت شیخ الہند ہندوستان کی جنگ آزادی کے قائد اور سپہ سالار تھے : مولانا نسیم اختر شاہ قیصر

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ان کی خدمات کو ملکی پیمانے اور حکومتی سطح پر فراموش کردیا گیا ہے: عبید اقبال عاصم

دیوبند، 30؍ نومبر (رضوان سلمانی) آستانہ شیخ الہند پر ریشمی رومال تحریک کے سرپرست وایشیاء کی عظیم اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبندکے اولین شاگرد حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی وفات کے 100برس مکمل ہونے پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر نامور شاعر ڈاکٹر نواز دیوبندی نے کہا کہ ہندوستان کے عظیم انقلابی رہنمائوں میں شیخ الہند کا نام سب سے اولین میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے جنگ آزادی کی تحریک ، تعلیم وتربیت کے میدان میں اعلیٰ خدمات انجام دیں۔ بحیثیت سرپرست دارالعلوم دیوبند کو اپنی خدمات سے عالمی سطح پر متعارف کرایا ۔ انہوں نے جنگ آزادی کی تحریک میں ریشمی رومال تحریک کے ذریعہ پورے ملک کو انگریزوں کے خلاف یکجا کیا اور آزادی کا صور پھونکا ۔ ممتاز ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کہا کہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن ہندوستان کی جنگ آزادی کے قائد اور سپہ سالار تھے ، انہوں نے قید وبند کی سختیاں برداشت کیں ۔ انگریزوں کے ظلم وستم کا سامنا کیا وہ دارالعلوم دیوبند کے صدر مدرس ، ہندوستان کے ممتاز عالم اور ہزاروں نامور علماء کے استاذ تھے۔ مولانا نے کہا کہ ان کی تحریک ریشمی رومال ہماری آزادی کی ایک عظیم تحریک ہے ، آج کا دن ان کی وفات کا دن ہے ، ہمیں ان کی خدمات اورکارناموں کو یاد رکھنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ الہند کی قیادت میں ہزاروں شاگردوں نے جنگ آزادی کی تحریک میں حصہ لیا جس میں خاص طو رپر علامہ مولانا انور شاہ کشمیریؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ ، مولانا عزیر گل، مولانا محمد میاں منصور انصاری، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری جیسی شخصیات شامل تھیں۔ یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری مولانا ڈاکٹر عبید اقبال عاصم قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شیخ الہند ہندوستان کے ان عظیم رہنمائوں میں سے تھے جنہوں نے مذہب اسلام کی سچے پیروی کرتے ہوئے ملک اور قوم کو آزادی دلانے کے لئے ایک منظم تحریک شروع کی۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ان کی خدمات کو ملکی پیمانے پر بھی اور حکومتی سطح پر بھی فراموش کردیا گیا ہے جو تاریخ کا المیہ ہے۔ اس موقع پر شیخ الہند کے شایان شان جس انداز کا پروگرام ہونا چاہئے تھا ان کی شخصیت اوران کی تحریک کو عوام وخاص میں متعارف کرانا چاہئے تھا، اس میں کسی بھی تنظیم نے کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ اسپرنگ ڈیل پبلک اسکول کے چیئرمین سعد صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں حضرت شیخ الہند کی تعلیمات وتحریکات کو عام کرنا چاہئے اور قومی سطح پر انہیں نوجوان نسل سے روشناس کرانا چاہئے ۔ انہو ںنے کہا کہ حضرت شیخ الہند نے انگریزوں کے خلاف ریشمی رومال تحریک کے ذریعہ بین الاقوامی سطح پر لڑائی لڑی اور انگریزوں کے خلاف ہندو مسلم سمیت سبھی کو متحد کیا۔ یہی ان کے لئے سچی خراج عقیدت ہوگی۔ صحافی اشرف عثمانی نے کہا کہ جنگ آزادی کی تحریک و تعلیم ، سیاسی اور سماجی میدان میں حضرت شیخ الہند مولانا محمو د حسن دیوبندی کے قرض مند ہیں ۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم تھے اور آپ کی سرپرستی میں عالم سطح پر انہو ںنے دارالعلوم دیوبند کی قیادت کی اور جنگ آزادی کی تحریک میں بڑی قربانیاں دیں ۔ اس موقع پر کمل دیوبندی، عبداللہ عثمانی، ریاض محمود، عمر الٰہی عثمانی، عتیق احمد، چودھری سمیر اور عارف عثمانی وغیرہ موجود رہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close