ہندوستان اردو ٹائمز

مولانا جنید احمد بنارسی کے انتقال پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے

مولانا مرحوم قوم و ملت کا درد رکھنے والے انسان تھے: مولانا نسیم اختر شاہ قیصر

دیوبند، 29؍ نومبر (رضوان سلمانی) معروف عالم دین مولانا جنید احمد بنارسی کے انتقال پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے ، ان کے انتقال پر ممتاز ادیب اور دارالعلوم وقف دیوبند کے استا ذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا جنید احمد بنارسی قوم و ملت کا درد رکھنے والے انسان تھے، لکھنے پڑھنے کا بہترین سلیقہ اور ذوق تھا۔ ان سے ڈاکٹر یونس صاحب کے مدرسہ نسواں کے ختم بخاری شریف کے اجلاس کے موقع پر ملاقات رہی۔ خوش مزاجی سے ملے اور زمانۂ طالب علمی کی یادوں کو زندہ کیا۔ ان کی کئی کتابیں احقر نے پڑھیں۔انہوں نے کہا 50؍سال پہلے مولانا جنید بنارسی دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے اور عملی میدان میں قدم رکھا، بڑی سخت محنت کی اور سخت جدوجہد کے بعد بڑے کامیاب انسان بنے اور بڑی حیثیت حاصل کی، ان میں ہمدردی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، انسانیت، لحاظ اورمروّت کے پیکر تھے۔معروف قلم کار سید وجاہت شاہ نے کہا کہ مولانا جنید بنارسی سے بار بار ملاقاتیں رہیں۔ بمبئی کے اسفار میں ایسا متعدد بار ہوا۔ وہ خردنواز اور فرد شناس آدمی تھے۔ مسلمانوں کے مسائل خصوصاً تعلیمی مسائل سے بڑی دلچسپی تھی۔ انہوں نے اس سمت میں بہت کچھ کیا اور بہت کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ وہ صاحب قلم اور قابل آدمی تھے، سب کچھ ہونے کے باوجود ان میں خاکساری تھی۔ وہ ان لوگوں کی طرح نہ تھے جو کچھ نہیں ہیں مگر اخبارات کے ذریعہ خود کو معروف و مشہور کہلانا پسند کرتے تھے۔ انہوںنے کہا مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بڑی خوبیوں سے نوازا تھا۔ غریب پرور اور سخی مزاج تھے، ضرورت مندوں کے کام آتے تھے اور مدد کے طالبین کی خوب مدد کرتے تھے۔انہیں معاشرہ میں ایک مقام حاصل تھا۔ مومن کانفرنس کے شہر صدر نسیم انصاری ایڈوکیٹ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا اپنے حلقہ کے بااثر لوگوں میں تھے اور جب وہ کوئی بات کہتے تھے تو وہ توجہ کے ساتھ سنی جاتی تھی۔ ان کی عزت تھی اور احترام تھا۔ لوگوں کے کام آنا اور سب کے ساتھ حسن سلوک کرنا ان کی فطرت تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو قدیم روایتوں کے ماننے والے رہے۔بہترین اور اچھا اخلاق جن کا سرمایہ ہوتا ہے۔ اپنی قوم کے لئے بھی انہوں نے بہت کچھ کیا، خصوصاً اُن طلبہ و طالبات کے لئے جنہوں نے تعلیمی میدان کو اپنے لئے منتخب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کے انتقال سے ملت کو بڑا نقصان ہوا ہے اور اس کی بھرپائی بہت مشکل سے ہوپائے گی ۔ ہم نے ایک سچا ہمدرد اور قوم کی خدمت کرنے والوں کو کھودیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کاملہ فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ حاجی یٰسین انصاری، سعید حسن انصاری، ڈاکٹر شبیر کریمی، ڈاکٹر سرفراز کریمی، ادریس انصاری، ممتاز ملک ، حاجی انوار،ڈاکٹر شہزاد، ڈاکٹر شمیم دیوبندی، ڈاکٹر محمد اعظم صابری، اکرام انصاری ، حمزہ وغیرہ نے تعزیت مسنونہ پیش کی۔