ہندوستان اردو ٹائمز

آندھرا پردیش میں برسات نے مچائی تباہی ، ڈیم ٹوٹنے سے درجنوں مکانات ہوئے مسمار

علاقے کے علماء نے مفتی معصوم ثاقب کی قیادت میں متأثرہ افراد تک پہنچائی خوردونوش

دیوبند، 29؍ نومبر (رضوان سلمانی) پورے ملک میں موسم تبدیل ہو چکا ہے ۔پہاڑوں پر برف باری اور درجہ حرارت کا گرنا بدستور جاری ہے ،ملک کے بہت سے علاقے ابھی سخت سرد لہر کی زد میں ہیں،جہاں درجہ حرارت بہت نیچے آ چکا ہے۔ایسے موسم میں آندھرا پردیش میں واقع ایک ڈیم کے ٹوٹ جانے سے آندھرا پردیش سمیت تمل ناڈو اور کرناٹک میں سیلاب جیسی صورت حال پیدا ہوئی ہے ،خاص طور پر پہاڑی اطراف میں جو چھوٹے چھوٹے گائوں واقع ہیں ڈیم کے پانی نے ان مکانات کو مسمار کردیا ہے ۔سرد موسم میں ان گائوں کے تمام مکین شدہ مشکلات کا شکار ہیں ،جنہیں رہنے کے محفوظ مقامات کے ساتھ ساتھ خورد و نوش کی اشیاء کی بھی ضرورت ہے ۔ان مصیبت زدہ افراد کو حکومت کی جانب سے کسی بھی طرح کی مدد نہیں پہنچی ہے ،لیکن ان ریاستوں کے دینی مدارس کے علماء فوری طور پر امدادی کاموں میں مشغول ہو گئے ہیں۔آندھرا پردیش کے رائے چوٹی میں واقع دینی درسگاہ مدرسہ امدادیہ رائے چوٹی کے مہتمم مولانا مفتی معصوم ثاقب نے بذریعہ فون وہاں کے حالات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اچانک ڈیم ٹوٹ جانے کی وجہ سے اس علاقہ کے تمام پہاڑی علاقوں میں بسے ہوئے چھوٹے چھوٹے گائوں ڈیم کا پانی آجانے سے میدان میں تبدیل ہو گئے ہیں ،خاص طور پر مڈم پاڑ علاقہ کے درجنوں گھر پانی میں بہہ گئے ہیں ،جسکی وجہ سے ان گائوں کے افراد بے گھر ہو گئے ہیں ،ان کے پاس خورد ونوش کی اشیاء بھی نہیں ہے ،سیلاب جیسی صورت حال نے لوگوں کو بیمار کر دیا ہے بجلی اور کمیونیکیشن سسٹم ٹھپ ہو جانے کی وجہ سے رات کے وقت امدادی کاموں میں دشواری پیش آرہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ لو گوں کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے ،ایسے میں مدارس کے علماء حضرات مدارس کے طلبہ اور کارکنان امدادی کاموں میں مشغول ہو گئے ہیں ،اور وہ سیلابی صورت حال سے بے گھر ہو جانے والے افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا کر ان کے لئے کھانے پینے کے سامان کے علاوہ گرم کپڑوں کو ضرورت مندوں تک پہنچانے میں مصروف ہیں ۔مولانا مفتی معصوم ثاقب نے بتایا کہ مدارس کے منتظمین اور علماء کے بارے میں اس طرح کی بے بنیاد باتیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ مدارس بند ہیں اور تعلیمی سلسلہ بھی منقطع ہے ،لیکن الحمد للہ مدارس کھلے ہو ئے ہیں ،اور وہاں تعلیمی سلسلہ بھی بدستور جاری ہے ۔مفتی معصوم ثاقب نے بتایا کہ متاثرہ افراد کے پاس ابھی تک حکومتی امداد نہیں پہنچی ہے ،لیکن مدارس سے وابستہ افراد علماء واساتذہ رات دن امدادی کاموں میں مصروف ہیں ۔اسی طرح مڈم پاڑ میں واقع مدرسہ شیخ الاسلام کے مہتمم مولانا مفتی خواجہ محی الدین نے بذریعہ فون بتایا کہ مڈم پاڑ چونکہ پہاڑی علاقہ ہے ،اس لئے ڈیم کے پانی نے یہاں بھی درجنوں گھروں کو برباد کر دیا ہے ،جس کے سبب اس علاقے میں لوگوں کا کافی نقصان ہو ا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ علاقہ کے تمام علماء ،اساتذہ و طلبہ مصیبت زدہ افراد کے لئے رات دن امدادی کامو ں میں مشغول ہیں۔ اس موقع پر قاری شاکر اللہ، مولانا مسعود قاسمی، خواجہ محی الدین وغیرہ کا بھرپو رتعاون رہا ۔