دیوبند

دیوبند، ملک کے کسانوں پر طاقت کا استعمال مرکزی حکومت کو مہنگا پڑے گا : واجد علی

دیوبند، 28؍ نومبر (رضوان سلمانی) پچھمی پردیش مکتی مورچہ کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ اگر کسانوں کے مسائل حل نہیں کئے گئے تو 30نومبر کو دیوبند میں چکاّ جام کیا جائے گا او رحکومت سے آر پار کی لڑائی لڑی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار آج ریلوے روڈ پر واقع گنّا سمیتی میں منعقدہ کسانوں کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بھگت سنگھ ورمانے کہا کہ پنجاب اور ہریانہ کے نہتے کسانوں پر بی جے پی کی کسان مخالف مرکز اور ہریانہ حکومت کی جانب سے آنسو گیس کے گولے چھوڑنے ، پانی کی بوچھار کرنے اور لاٹھ چارج کرنا مرکز اور ہریانہ حکومت کو مہنگا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کسان اپنے ذاتی ٹریکٹروں سے اپنے مسائل کو حل کرانے کے لئے دہلی جارہے تھے تو حکومت انہیں کیوں روکنا چاہتی ہے ۔ بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے بنائے گئے تینوں زرعی قانون کسان مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ ملک مخالف بھی ہے ۔ مرکزی حکومت کسانوں کی عزت کرتے ہوئے ان تینوں کسان مخالف بلوں کو واپس لیں ورنہ کسان اس سے بڑی تحریک شروع کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آزادی سے اب تک گزشتہ 73سالوں میں حکومتوں کی غلط پالیسیوں کے سبب ہی کسان قرض مند ہوئے اور وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔ اگر حکومت کسانوں کو پارلیمنٹ بل لاکر یا اپنے بجٹ میں نظم کرکے قرض معاف کرسکتی ہے ۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ کسانوں کی فصلوں کی واجبی قیمت دلائی جائے ، کسانوں کو زرعی کام کے لئے مفت بجلی اور سبھی ٹیکس سمیت 25روپے فی لیٹر ڈیژل دلایا جائے۔ بھگت سنگھ ورمانے کہا کہ اترپردیش حکومت گنے کی قیمت 600روپے فی کوئنٹل گنے کا اعلان کرے اور شوگر فیکٹریوں سے کسانوں کے بقایا گنے کی ادائیگی سود سمیت فوراً دلائی جائے۔ بھگت سنگھ ورما نے بی جے پی حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت دہلی میں کسانوں کی عزت کرے اور ان کے مسائل کا حل جلد سے جلد کرے ۔ مورچہ کے صلاح کار حافظ مرتضیٰ نے کہا کہ کسانوں کا استحصال کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ 30نومبر کو چکاّ جام کرنے کے بعد پالیسی بناکر دہلی کوچ کیا جائے گا۔ مورچہ کے ریاستی جنرل سکریٹری واجد علی نے کہا کہ مرکزی حکومت ایم ایس پی کو قانونی حق دیا جائے ، کسان حکومت سے بھیک نہیں مانگ رہے بلکہ کسان اپنی فصلوں کی واجبی قیمت مانگ رہے ہیں۔ میٹنگ کی صدارت یٰسین تیاگی نے کی، اس موقع پر مہی پال تیاگی، سعید احمد، ایوب قریشی، تحسین تیاگی، گلشیر، سمیر، اروند، راج پال وغیرہ موجود رہے۔ دوسری جانب بھارتیہ کسان یونین تومر گروپ کے کسانوں نے کسان بل کو لے کر ملک بھر میں ہورہی مخالفت اور احتجاجی مظاہرین پر کئے گئے لاٹھی چارج اور پانی کی بوچھار پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے آج ضلع کلکٹر احاطے میں زبردست مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ اس دوران کسانو ںنے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسانوں پر احتجاج کے دوران کئے گئے حملوںکو نہیں روکا گیا تو کسان اپنی اس تحریک کو اور مضبوطی سے لڑنے کا کام کرے گا۔ کسانوں نے کہا کہ جس طریقے پر انہوں نے ملک میں بی جے پی کے حکومت کو بنانے کا کام کیا ہے اسی طریقے سے حکومت کو گرانے کا کام کسان اچھی طرح جانتا ہے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں کسان موجود رہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close