دیوبند

دیوبند میں دارالعلوم کے علاوہ ایک درجن سے زائد ایسے ادارے وجود میں آگئے جہاں افتاء کی مشق کرائی جارہی ہے

دیوبند، 27؍ نومبر (رضوان سلمانی) فتویٰ آن لائن سروس کے چیئرمین مفتی ارشد فاروقی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے ندوہ کی مسجد میں تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا ، عزیزو،عوام کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ اگر کسی عربی شعر یامحاورہ کے بارے میں پوچھنا ہو تو ندوہ کولکھو اور اگر مسئلہ پوچھنا ہو فتویٰ لینا ہو تو دیوبند لکھو،خیر حضرت نے طلبہ ندوہ کو علوم شرعیہ کی طرف توجہ دلائی،بات یہی ہے کہ دیوبند کافتویٰ اہمیت رکھتا ہے اور دیوبند کے فتوے سے مراد دار العلوم کے دارالافتاء سے جاری ہونے والا ہی فتویٰ لیاجاتا رہا ہے اور بڑے علماء کی ہمیشہ کاوش رہی کہ دارالعلوم کے فتاوی متوازن رہیں ، کبھی فروگذاشت ہوئی تو اصلاحات کے دروازے کھلے رہے لیکن جب سے دیوبند میں دارالعلوم کے علاوہ ایک درجن سے زائد ایسے ادارے وجود میں آگئے جہاں افتاء کی مشق کرائی جارہی ہے توان میں سے کسی یادیوبند میں مقیم کسی عالم کی کسی مسئلے میں رائے کو جب دیوبند کافتویٰ بناکر پیش کیا جاتا ہے تو بسا اوقات دقتیں کھڑی ہوجاتی ہیں اس لیے فتوے کی مجموعی معتبریت کو باقی رکھنا سب کی ذمیداری ہے، اس وقت یہ ذکر مناسب ہوگا کہ جب حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی ؒ سے کچھ لوگوں نے کہاکہ اس تحریر پر دستخط فرمائیں جس میں شیعہ حضرات کی تکفیر کی گئی ہے تو مولانا نے فرمایا اس سے جغرافیائی مسائل ودشواریاں پیدا ہوں گی کہ حجاز سے شیعوں کا اخراج ضروری ہوجائے گا اور دستخط سے معذرت فرمائی،اسی طرح حضرت مولانا علی میاں نے بھی دستخط سے گریز کیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close