دیوبند

دیوبند، ڈاکٹر کلب صادق کے انتقال پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری

ڈاکٹر کلب صادق اتحاد ملت کے داعی ، مسلم مسائل پر دو ٹوک گفتگو کرنے والے اور تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے انسان تھے: مولانا نسیم اختر شاہ قیصر

دیوبند، 26؍ نومبر (رضوان سلمانی) مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر ڈاکٹر کلب صادق کے انتقال پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے ۔ اسی تناظر میں ممتاز ادیب ومعروف قلم کار مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ ڈاکٹر کلب صادق اتحاد ملت کے داعی ، مسلم مسائل پر دو ٹوک گفتگو کرنے والے اور تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے انسان تھے۔ بہترین مقرر اور کمال درجہ کی معلومات بھی ان کو حاصل تھی۔ جب وہ بولتے تھے تو مجمع متأثر ہوتا تھا اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی ان کی بات غور سے سنتے تھے، ان کے اٹھ جانے سے یقینی طور پرایک نقصان ہوا ہے اور مسلم پرسنل لائن بورڈ کے پلیٹ فارم سے اٹھنے والی ایک متوازن آواز خاموش ہوگئی ہے ، سنجیدگی اور متانت کے ساتھ مسلم مسائل پر بولنے والا ایک شخص رخصت ہوگیا ہے ۔ ایسے لوگوں کی ضرورت ہمیشہ باقی رہتی ہے ۔ تعلیمی میدان میں انہو ںنے جو نقوش مرتسم کئے ہیں وہ نہ مٹنے والے ہیں ، اعلیٰ میڈیکل کی تعلیم کے لئے لکھنؤ میں ان کا قائم کردہ ادارہ نمایاں خدمات کے لئے ہمیشہ زندہ رہے گا۔ عمل فائونڈیشن کے صدر پروفیسر ساجد ظہیر امانی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا کلب صادق کی وفات نہ صرف شیعہ فرقہ کا بلکہ عالم اسلام کا ناقابل تلافی نقصان ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ مولانا کلب صادق کی زندگی دعوت وتبلیغ کی سرگرمیوں سے عبارت ہے ، وہ پوری زندگی علم وعمل اور حصول تعلیم کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم کے ذریعہ ہی انسان ترقی کی منازل طے کرسکتا ہے ۔ اسی جذبہ کے تحت انہوں نے متعدد تعلیمی ادارے قائم کئے ، دینی علوم کے علاوہ جدید تعلیم کا فروغ ان کی ترجیحات میں شامل تھا، اپنی بے پناہ صلاحیتوں کی بنا پر مولانا کو علمی حلقوں کے علاوہ سماجی وسیاسی سطح پر بے پناہ مقبولیت حاصل تھی ، اپنے علمی خطبات کی وجہ سے مولانا نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی پیمانے پر پسند کئے جاتے تھے ۔ بلاشبہ مولانا کی وفات امت مسلمہ اور ملک وقوم کا بڑا نقصان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحہ کے موقع پر عمل فائونڈیشن تعزیت کا اظہار کرتی ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ پاک مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور مولانا کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے ۔ آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس سے وابستہ شمیم عثمانی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار شیعہ سنی اتحاد کے پیروکار مولانا ڈاکٹر کلب صادق کا شمار شیعہ مسلک کے ممتاز اسکالرز میںہوتا تھا ، وہ مشہور ذاکر تھے اور مسلمانوں کے تمام مسالک کے مابین اتحاد واتفاق کے قیام کے لئے ہمیشہ پرخلوص کوششیں کرتے رہے۔ مرحوم نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پلیٹ فارم سے ملی خدمات انجام دینے کے علاوہ خاص طور پر تعلیم کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور ان کی سرپرستی میں لکھنؤ اور ملک کے دیگر خطوں میں کئی اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم ہوئے جو اب بھی مصروف کار ہیں۔ معروف قلم کار سید وجاہت شاہ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحوم مولانا کلب صادق ایک قابل شخصیت تھے جنہوں نے شیعہ سنی اتحاد پر ہی نہیں بلکہ ہندو مسلم اتحاد پر بھی زور دیا۔ مولانا کی سادگی کے سبھی قائل تھے۔ انہو ںنے کہا کہ مرحوم ہمیشہ ملک کے عوام کو تعلیم حاصل کرنے پر زور دیتے تھے ۔ انہوں نے سماجی فلاح وبہبود کے میدان میں بھی بڑے عظیم کارنامے انجام دیئے ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ مولانا کلب صادق اس عہد کے ایسے واحد عالم تھے جو صرف دینی اور عصری علوم پر زور نہیں دیتے تھے بلکہ اس کے لئے عملی جدوجہد بھی کرتے تھے ۔ انہوں نے جدید تعلیم کے نمایاں اور ممتاز ادارے قائم کئے جس سے لوگ مستفیض ہورہے ہیں ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close