دیوبند

شادی تقریبات کے لئے پولیس وانتظامیہ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں : اگر پولیس نے لوگوں کو پریشان کیا تو افسران جواب دہ ہوںگے : وزیر اعلیٰ اترپردیش

دیوبند، 26؍ نومبر (رضوان سلمانی) پورے ملک میں ایک مرتبہ پھر کرونا وائرس کے انفیکشن کے تیزی کے ساتھ پھیلنے کے واقعات کو دیکھتے ہوئے حکومت متعدد اقدامات کررہی ہے ، دوسری جانب شادی بیاہ کی تقریبات اور دیگر اجتماعی پروگراموں کے لئے 100افراد کی حد مقرر کردی گئی ہے ، لیکن اس سلسلے میں اترپردیش کی یوگی حکومت نے عوام کو بڑی راحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو بلاوجہ عوام کو پریشان کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ اگر پولیس کی جانب سے لوگوں کو پریشان کرنے کی شکایت ملتی ہے تو اس کے لئے افسران جواب دہ ہوںگے ۔ واضح ہو کہ شادی تقریبات کے انعقاد سے متعلق ریاستی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے آج نئی ہدایات جاری کی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ شادی تقریبات کے لئے پولیس یا انتظامیہ سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، لیکن اگر اس سلسلے میں پولیس کی جانب سے بدسلوکی یازیادتی کرنے کی شکایت موصول ہوتی ہے تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس طرح کے واقعات کے لئے افسران کی جواب دہی بھی طے کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ کووڈ پروٹوکول اور گائڈ لائن کی تمام شرائط کی پابندی کرتے ہوئے شادی تقریبات منعقد کی جاسکتی ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ شادی تقریبات کی گائڈ لائن کے نام پر کسی کا بھی استحصال نہیں ہونا چاہئے۔ انہو ں نے پولیس وانتظامیہ کو نصیحت کی کہ وہ حدود میں رہ کر شادی وغیرہ کی تقریبات کے انعقاد کے لئے عوامی بیداری پیدا کریں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی صاف کردیا ہے کہ شادی تقریبات کے دوران بینڈ باجے یاڈی جے وغیرہ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ طے شدہ وقت کے دوران اگر کوئی افسر یا پولیس اہلکار اس کو روکتے ہیں تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا ۔ یاد رہے کہ بعض مقامات سے شادی تقریبات کے دوران پولیس وافسران کی جانب سے پریشان کرنے اور استحصال رویہ اپنانے کی شکایات وزیر اعلیٰ تک پہنچی ہے جیسا کہ پولیس نے گزشتہ روز میرٹھ کی ایک شادی تقریب میں غیرشائستہ رویہ کا مظاہرہ کیا ۔ دراصل کووڈ 19کی آڑ میں یوپی پولیس مسلسل عوام کا استحصال کررہی ہے ، پولیس جگہ جگہ مورچہ لگاکر آنے جانے والوں سے فیس ماسک وغیرہ کے استعمال پر ناجائز طریقے سے پیسے وصول کررہی ہے ، اس وقت پولیس کا یہ کھیل پورے اترپردیش میں چل رہا ہے ، آخرکار پولیس کے اس رویہ اور لوٹ کھسوٹ کی خبر وزیر اعلیٰ تک پہنچ گئی جس کے بعد وزیر اعلیٰ اترپردیش نے افسران کے رویہ پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی لگام کس ڈالی۔ میرٹھ شادی تقریب کے دوران پولیس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی پر وزیر اعلیٰ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا، جس کے بعد وزیر اعلیٰ کو اعلان کرنا پڑا کہ اگر پولیس وانتظامیہ کی جانب سے تقریبات کے دوران لوگوں کو پریشان کیا گیا تو اس کے لئے افسران سیدھے طور سے ذمہ دار مانے جائیں گے اور ان سے جواب طلب کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کے اس بیان کے بعد لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close