دیوبند

دیوبند، کروناکے دور میں اسکول بند ہونے سے65 فیصد بچے پڑھائی کے تئیں ہوئے لاپرواہ

جس طرح سے طلبہ اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کو اس طرح سے تعلیم اب نہیں مل پارہی ہے: اطہر عثمانی

دیوبند، 22؍ نومبر (رضوان سلمانی) سی بی ایس سی نے ماڈل پیپر جاری کرکے جہاں جلد امتحانات کرانے کے اشارے دیدئیے ہیں ، جب کہ کرونا کے اس دور میں نہ صرف کاروبار پر اثر پڑا بلکہ طلبہ وطالبات کی تعلیم بھی متأثر ہوئی ہے۔ عالم یہ ہے کہ کرونا کے دور میں اسکول وکالج بند ہونے کے سبب 65فیصدی طلبہ تعلیم کے تئیں لاپرواہ ہوگئے ہیں ۔ کرونا کے دور میں طلبہ وطالبات کے اندر یہ رجحان پیدا ہوگیا ہے کہ وہ گزشتہ مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی امتحانات میں پاس ہوجائیں گے ، جب کہ اب تک ایسا کچھ نہیں ہے ، اساتذہ کا ماننا ہے کہ آن لائن سے تعلیم کا طریقہ بدل گیا لیکن بچوں کی تعلیم کا کافی نقصان ہوا ہے ، وہیں بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ موبائل سے بچوں کی تعلیم اسکول جیسی نہیں ہورہی ہے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ موبائل کے استعمال سے بچوں کی آنکھیں کمزور ہورہی ہیں اوروہیں انہیں کشیدگی نے بھی گھیر رکھا ہے ۔ اس سلسلہ میں سماجی کارکن سلیم عثمانی کا کہنا ہے کہ کرونا کی وجہ سے گزشتہ کافی مہینوں سے اسکول بند ہیں جس کے سبب بچوں کی تعلیم آن لائن شروع کی گئی لیکن آن لائن تعلیم میں بچوں کی لاپرواہی بھی سامنے آرہی ہے ۔ 65فیصدی بچے ایسے ہیں جو تعلیم کے تئیں لاپرواہ ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سی بی ایس سی نے ماڈل پیپر جاری کرکے امتحانات کی تیاری شروع کردی ہے، کسی وقت بھی بورڈ کے امتحانات کی تاریخوں کا اعلان ہوسکتا ہے لیکن اس مرتبہ طلبہ امتحان کو لے کر سرگرم نظر نہیں آرہے ہیں وہ اس مرتبہ بھی بغیر امتحان کے پاس ہونے کی سوچ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کرونا کے دور میں بچوں کی تعلیم پر بہت برا اثر پڑا ہے ، اس دور میں طلبہ وطالبات کو تعلیم کا ماحول نہیںمل پایا ، بہت سی مرتبہ دیکھاگیا ہے کہ بچے آن لائن تعلیم کو لے کر تنائو میں رہے۔ جس طرح سے وہ اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کو اس طرح سے تعلیم اب نہیں مل پارہی ہے ۔ ابھیبھاوک سنگھ کے کنوینر عارف انصاری کا کہنا ہے کہ کرونا کے دور میں بچوں کے سامنے کئی طرح کی پریشانیاں پیش آئی ہیں ، زیادہ تر بچوں کے والدین کی مالی حالت ایسی نہیںہے جو بچوں کو موبائل فون دلا سکیں ۔ جس کے پاس موبائل فون ہے ان کی ٹھیک طریقے سے آن لائن تعلیم نہیں ہوپارہی ہے ۔ عارف انصاری نے آج ضلع مجسٹریٹ کو ارسال کئے گئے میمورنڈم میں کہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر کرونا وائرس کا قہر شروع ہوگیا ہے جس سے بچوں کے والدین اپنے بچوں کی حفاظت کو لے کر تنائو میں ہیں ۔ انہو ں نے ضلع مجسٹریٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کی حفاظت کے پیش نظر کرونا وائر س کے چلتے اسکولوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کریں۔ سینئر صحافی اور مجلس اتحاد ملت کے قومی جنرل سکریٹری اطہر عثمانی نے کہا کہ کرونا کے دور میں بھلے ہی آن لائن تعلیم شروع ہوئی ہو لیکن آن لائن تعلیم سے بچوں کی آنکھیں کمزور ہورہی ہیں ، بچوں کو آنکھوں سے موبائل کتنی دور رکھنا ہوتا ہے انہیں معلوم نہیں ہوتا ، زیادہ دیر تک موبائل دیکھنے سے آنکھوں میں پانی آنے کے ساتھ ساتھ سر میں درد کی شکایت لگاتار سامنے آرہی ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ ابھی تک ہندوستان میں اس طرح کی سہولیات بھی مہیا نہیں ہے، بہت سے مقامات پر تو انٹر نیٹ بھی صحیح طریقے سے دستیاب نہیں ہے۔ اس لئے آن لائن تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ پایا ہے۔ اسٹوڈینٹ اسماعیل قریشی کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے اسکول میں تعلیم ہوتی ہے اس طریقے سے آن لائن تعلیم نہیں ہورہی ہے ۔ کرونا میں واٹس اپ گروپ اور لائیو جوڑ کر تعلیم کرائی جارہی ہے ۔ کئی مرتبہ نیٹ ورکنگ کی پریشانی ہونے سے ٹھیک طریقے پر تعلیم نہیں ہوتی ہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close