دیوبند

انتظامیہ کی جانب سے جمعیۃ علماء کارکنان کو نوٹس بھیجنا انتہائی غلط فیصلہ : قاری ذاکر

دیوبند، 17؍ جنوری (رضوان سلمانی) جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کی ایک میٹنگ جمعیۃ علماء مغربی اترپردیش کے سکریٹری قاری محمد ذاکر کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے 132کارکنان پر کی گئی کاروائی کے خلاف غصہ کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا انتہائی غلط فیصلہ ہے اور یہ کاروائی ملک کے آئین کے خلاف ہے کیونکہ ملک کا آئین ہر شخض کو احتجاج کا حق دیتا ہے،قاری محمد ذاکر نے کہا کہ مقامی انتظامیہ کی جانب کی گئی یہ کاروائی لوگوں کو غصہ دلانے والی کاروائی ہے،اس کاروائی سے یہ محسوس ہوتاہے کہ مقامی انتظامیہ چاہتی ہے کہ ضلع کا ماحول خراب ہوجائے،میٹنگ میں جمعیۃ علماء کے ذمہ داران نے یہ فیصلہ کیاہے کہ اگر مقامی انتظامیہ نے یہ نوٹس واپس نہیں لئے تو ہم 21/جنوری بروز منگل کو دیوبند تھانے کا گھیراؤ کریں گے اور اس وقت تک وہیں موجود رہیں گے جب تک یہ کاروائی واپس نہیں کی جاتی۔انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کی جانب سے جاری احتجاج کا سلسلہ نہیں رکے گا۔کیونکہ سی اے اے آئین مخالف قانون ہے اور آئین کی حفاظت کی ذمہ داری ہر ایک ہندوستانی کی ہے۔جمعیۃ ضلع سہارنپور کے جنرل سکریٹری سید ذہین احمد نے کہا کہ انتظامیہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کررہی ہے جو سراسر غیرقانونی ہے ۔ انتظامیہ کی اس کارروائی سے ہم گھبرانے والے نہیں ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی ۔ اس موقع پر جمعیۃ یونٹ دیوبند کے جنرل سکریٹری عمیر عثمانی ، چودھری صادق وغیرہ موجود رہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close