دیوبند

دیوبند، جمعیۃ علماء بڑھانہ نے دس ہزار 10000 دستخطوں پر مبنی مکتوب صدر جمہوریہ کو ارسال کیا

دیوبند، 3؍ نومبر (رضوان سلمانی) فرانس کے صدر کی طرف پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں میں کی گئی گستاخی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج برپا ہے۔ منگل کو جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ کے عہدیداران بڈھانہ تحصیل پہنچے اور دس ہزار 10000 دستخطوں پر مبنی ایک میمورنڈم ایس ڈی ایم کمار بھوپندر اور سی او گرجا شنکر ترپاٹھی کے توسط سے صدر جمہوریہ ہند کو ارسال کیا۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرانس میں گستاخانہ کارٹونوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر میکرون کا یہ بیان کہ فرانس گستاخانہ کارٹونوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ یہ بیان اسلام اور اہل اسلام کے خلاف سوچی سمجھی سازش ہے۔ فرانس کا یہ رویہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ آزادی کی آڑ میں کسی کے مذہبی جذبات مجروح کرنا انسانیت پسندی کے خلاف ہے۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ فرانس کی گستاخانہ کارٹونوں کی اشاعت سے دنیا کے لاکھوں مسلمانوں کے عقیدے پر حملہ ہے اور ایک خوفناک دہشت گردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ممالک فرانس کے سامان کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند کی مقامی یونٹ بھی حکومت ہند سے مطالبہ کررہی ہے کہ وہ فرانس کے خلاف سخت کارروائی کرے اور اس سلسلے میں اپنا احتجاج درج کرے اور فرانسیسی کمپنیوں کا بھی بائیکاٹ کرے۔ میمورنڈم دینے والے والوں میں حاجی شاہد تیاگی ریاستی سکریٹری حافظ شیر دین صدر حافظ تحسین جنرل سکریٹری محمد آصف قریشی مفتی یامین اسلام سیفی مولانا شعیب عالم کونسلر راشد منصوری شاہد قریشی قاری ندیم زاہد حسن حافظ عبدالغفار وغیرہ موجود تھے۔ دوسری جانب فرانس میںشان رسالتؐ میںکی گئی گستاخی پر آل انڈیا تنظیم مسلم گوجر نے سخت احتجاج کرتے ہوئے فرانسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے ۔ اس سلسلہ میں جاری اپنے ایک مذمتی بیان میں آل انڈیا تنظیم مسلم گوجر کے صدر مفتی محمد فاروق قاسمی گنگوہی نے کہاکہ مسلم اپنی جان مال سب کچھ قربان کرسکتی ہے لیکن اپنے نبیؐکے جاہ وجلال کو نقصان پہنچانے والوں کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتی۔ ناموس رسالتؐ کی حفاظت اوراسکا دفاع تمام مسلمانوں کا اجتماعی مذہبی فریضہ ہے۔ آل انڈیا تنظیم مسلم گوجر کے عہدیداران واراکین فرانسیسی صدر ایما نویل میکرون کے اس ناپاک رویہ کی شدید مذمت کرتے ہیں اوراس کی تمام مصنوعات کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔مفتی محمد فاروق قاسمی گنگوہی نے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر نے آزادی رائے کے اظہار کی آزاد ی میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں تنظیم کی جانب سے حکومت ہند سے مانگ کی ہے کہ اپنے ملک کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا خیال رکھتے ہوئے عالمی پیمانے پراس ردّ عمل پیش کریں اوراحتجاج درج کرائیں۔علاوہ ازیں ایسے ماحول میں کچھ شرپسند عناصر جن کا تعلق ہندوسینا ودیگر تنظیموں سے ہے وہ لوگ ملک کے امن کو خراب کرنے کی کوشش میں لگے ہیں جیسا کہ ہندوسیناتنظیم نے آل انڈیا اسلامک کلچر سینٹر کے بورڈ پر اسے جہادی آتنک وادی اسلامک سینٹر کا اسٹیکر چسپاں کراس کا ثبوت دیا ہے۔ آل انڈیا تنظیم مسلم گوجر کے اراکین وعہدیداران اس کی بھی پرزورمذمت کرتے ہیں ساتھ ہی دہلی کے وزیراعلیٰ اورملک کے وزیراعظم سے ایسے عناصر کے خلاف جلد از جلد کارروائی کی مانگ کرتے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close