دیوبند

دیوبند، ایک خاتون نے شوہر کی فرضی موت ظاہر کرکے فرضی دستاویز کی بنیاد پر مکان کو کیا فروخت

دیوبند، 25؍ اکتوبر (رضوان سلمانی) شہر کی ایک خاتون کی جانب سے اپنے شوہر کی موت ہوجانے کی بات ظاہر کرکے فرضی دستاویزات کی بنیاد پر مکان کو فروخت کئے جانے کا معاملہ روشنی میں آیا ہے۔ خاتون کے اس فریب دہی اقدام کے بعد شوہر نے کوتوالی پہنچ کر اپنی پوری داستان پولیس کو بتائی تو پولیس کا عملہ بھی حیران رہ گیا، بعدازاں پولیس نے تحریر کی بنیاد پرمعاملہ درج کرکے مذکورہ واقعہ کی جانچ شروع کردی ہے۔ تفصیل کے مطابق دیوبند کی شیخ الہند کالونی کے باشندہ محمد طاہر نے اتوار کے روز پولیس کو ایک تحریر دیتے ہوئے بتایا کہ سات سال قبل اس نے شیخ الہند کالونی میں 100؍مربع گز کا ایک پلاٹ خرید کرمکان تعمیر کیا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ مزدورپیشہ ہے اور زیادہ وقت دیوبند سے باہر رہتا ہے۔ محمد طاہر نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی اہلیہ نہایت شاطر قسم کی خاتون ہے اوراُسی نے علاقہ کے تین زمین مافیائوں اور غنڈہ ٹائپ افراد سے سازباز کرکے فرضی دستاویز تیارکراکر اوراس کو مرا ہوا بتاکر مکان فروخت کردیا۔ متأثرہ شخص کا کہنا ہے کہ اُسے مکان کی فروختگی کے بارے میں چند روزپہلے ہی معلوم ہوا ہے۔ تحریر میں بتایا گیا ہے کہ مکان کی فروختگی میں شامل زمین مافیا اب اُس سے 5؍لاکھ روپے کا مطالبہ کررہے ہیں اور مطلوبہ رقم ادانہ کرنے پر اُس کو زبردستی گھر سے نکال دینے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ محمد طاہر کا کہنا ہے کہ رقم نہ دینے پر اس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔ متأثرہ شخص کا الزام ہے کہ اس کی اہلیہ بھی اس پورے معاملہ میں ملزمان کے ساتھ ہے۔ محمد طاہر نے پولیس کو تحریر دیتے ہوئے فوری طورپر کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔کوتوالی انچارج اشوک سولنکی کا کہنا ہے کہ پورامعاملہ ان کے علم میں ہے لہٰذا مذکورہ معاملہ کی جانچ کے بعد حقیقت سامنے آجانے پر قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔فریب دہی کے اس معاملہ پر متأثرہ شخص محمد طاہر کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس کا بیٹا زندہ ہے لیکن اس کی بہو نے اپنے شوہر کو فرضی طورپر مردہ ظاہرکرکے مکان فروخت کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی زندگی سے متعلق بیحد پریشان تھی لیکن آج اس کا بیٹا کا پاس ہے اورزندہ ہے۔ اس لئے مجھے انصاف دلایا جائے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close