دیوبند

دارالعلوم کی مجلس شوریٰ کا فیصلہ تعجب خیز: مولانا محمد علی نعیم رازی

سال ٢٠٠٨ کے متفقہ فیصلہ کی مخالفت افسوسناک

لکھنؤ : (پریس ریلیز) معروف عالم دین مولانا محمد علی نعیم رازی نے پریس کو جاری بیان میں دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اپنے آپ میں تعجب خیز ہے نیز واضح طور پر معلوم ہورہاہے کہ یہ دباؤ کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ ہے جو افسوسناک ہے
مولانا محمد علی نعیم رازی نے کہا کہ سال ٢٠٠٨ کی مجلس شوریٰ نے دارالعلوم کو سیاسی وابستگی سے پاک کرنے کے لئے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ جمعیت علماء کا کوئی بھی عہدیدار دارالعلوم دیوبند کے کسی بھی عہدے پر اس وقت تک منتخب نہیں کیا جاسکتا ہے جب تک وہ جمعیت علماء سے مستعفی نہ ہوجائے ، اسی فیصلے کی بنیاد پر اس وقت مولانا ارشد مدنی اور قاری عثمان منصور پوری بالترتیب ناظم تعلیمات اور نائب مہتمم کے عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے اور ان حضرات نے دارالعلوم کے ان مناصب جلیلہ کو محض جمعیت علماء کی غیر متفقہ صدارت کے لئے قربان کردیا تھا
تعجب خیز امر یہ ہے کہ دارالعلوم کی مجلس شوریٰ نے آج پھر سے انہیں حضرات کو صدر المدرسین اور کارگزار مہتمم کے عہدوں پر منتخب کیا ہے جو کہ ضابطہ کی صراحتاً خلاف ورزی ہے مولانا محمد علی نعیم رازی نے کہا کہ آج کے فیصلے سے یہ معلوم ہوتاہے کہ دارالعلوم کی مجلس شوریٰ درحقیقت آزادانہ فیصلہ لینے سے عاجز ہے اور باہری عناصر کے دباؤ کے سامنے بے بس ہے
مولانا محمد علی نعیم رازی نے سوال قائم کرتے ہوئے کہا کہ آخر دارالعلوم جسکا سیاست سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر وہاں کے انتظامی عہدوں پر سیاسی وابستگی والے افراد کا انتخاب کس بنیاد پر کیا گیا ہے نیز دارالعلوم کے اُن قدیم ترین اساتذہ کو کیوں نظر انداز کیا گیا ہے جو بلا کسی سیاسی وابستگی کے ایک عرصہ دراز سے ادارے کی خدمات انجام دے رہے ہیں
مولانا محمد علی نعیم رازی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجلس شوریٰ کے اس فیصلے سے ادارے کے محبین اور بہی خواہ افراد کو سخت کلفت ہوئی ہے اور مجلس شوریٰ کی آزادانہ حیثیت کے معدوم ہونے کے تئیں سخت فکر لاحق ہونے لگی ہے نیز ادارے کے مستقبل کے حوالے سے ملت میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے
مولانا محمد علی نعیم رازی نے آخر میں اراکین مجلس شوریٰ سے دردمندانہ گزارش کرتے ہوئے کہا کہ ازراہ کرم دارالعلوم کی حفاظت اور بقاء کی خاطر اپنے اس فیصلے پر از سر نو غور کریں اور ضابطہ کے تحت ان حضرات کو جمعیت سے مستعفی کرائیں یا دارالعلوم کی ذمہ داری سبکدوش کریں تاکہ دارالعلوم دیوبند کسی بھی قسم کی سیاسی وابستگی سے پاک و صاف رہے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close