دیوبند

 موجودہ حالات میں مدارس کی تعلیمی اور معاشی نظام متاثر ہواہے

لاک ڈاؤن کے بعد مدارس اسلامیہ کا بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ان کے وسائل کی فراہمی معمول کے مطابق نہیں کی جاسکی: مفتی ابوالقاسم
فوٹو۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی
دیوبند، 22/ ستمبر (رضوان سلمانی) (خاص خبر)
دارالعلوم دیوبند کے مہتمم و رابطہ مدارس اسلامیہ کے صدر مفتی ابوالقاسم نعمانی دینی مدارس کے ذمہ داران سے کہاکہ موجودہ حالات میں مدارس کی تعلیمی اور معاشی نظام متاثر ہواہے،اسلئے دینی مدارس کے ذمہ داران کو حالات بہتر ہونے کی دعاء کرنی چاہئے، لاک ڈاؤن کے بعد مدارس اسلامیہ کا بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ان کے وسائل کی فراہمی معمول کے مطابق نہیں کی جاسکی،جس کے باعث مدارس سخت مشکلات سے دوچار ہیں،وہیں تعلیمی نظام بیحد متاثر ہوا ہے اور کچھ مدارس آن لائن تعلیم کا بھی کا اہتمام کررہے ہیں۔ رابط مدارس کے صوبائی صدور کو تحریر کردہ مکتوب میں مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ عالمی وباء کورونا مہاماری کے سبب دینی عصری اور تمام اداروں کا تعلیمی نظام متاثر ہواہے، عصری ادارے میں حکومت کی ہدایت پر آن لائن تعلیم کااہتمام کیاجارہاہے لیکن مداس کے لئے یہ کافی مشکل ہے۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ دینی ادارے نہ کھلنے کی صورت میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ آواز اٹھنے لگی ہ کہ مدارس میں اسکولوں کے طرز پر آن لائن تعلیم شروع کی جائے لیکن ایک طبقہ مدارس میں آن لائن تعلیم کا شدت سے مخالف ہے، کیونکہ آن لائن تعلیم مدارس کے مقاصد اور طریقہ کار سے ہم آہنگ نہیں ہے اور اس میں فوائد سے زائدنقصانات کا خدشہ ہے، تربیت کے پیش نظرانڈورائیڈ موبائل رکھنے پر طلبہ پر پابندی ہے، کہ اس سے مخرب اخلاق اثرات طلبہ پر پڑتے ہیں،آن لائن تعلیم کے لیے اس کی اجازت دی گئی تو پھر کنٹرول کرنا مشکل ہوگا، نیز موبائل نیٹ ورک کا ہر جگہ ہونامشکل ہوتا ہے اس لئے زیادتر مدارس نے آن لائن تعلیم کی پذیرائی نہیں کی اور اسے قبول نہیں کیا۔ اس کے باوجود بھی کچھ مدارس میں آلائن تعلیم کا سلسلہ جاری ہے، تاہم موبائل کے نقصانات کے سبب ایک بڑا طبقہ کو اس کو ناپسند کررہاہے، جبکہ بعض صوبوں میں چھوٹے موبائل کے ذریعہ حفظ کی تعلیم دی جارہی اور اس کی نگرانی بچوں کے سرپرست کررے ہیں،اس طریقہ میں موبائل کے نقصانات نہیں ہے اور ایک بہتر و محفوظ کریقہ ہے۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ رابطہ مدارس سے مربوط مدارس کو آن لائن تعلیم دینے کی نہ تو ہدایت دی جارہی ہے اور نہ ہی کسی کو روکا جارہاہے، البتہ جو ذمہ داران آن لائن تعلیم کانظام قائم کرنے سے متفق ہیں اور چھوٹے موبائل کے ذریعہ ہی وہ تعلیم دینا چاہتے ہیں تو حفظ وغیرہ کی تعلیم کے لئے اپنے زون کے ذمہ داران کے مشورہ سے شروع کرسکتے ہیں۔ مہتمم موصوف نے کہاکہ لاک ڈاؤن کے سبب مدارس کو معاشی طورپر بھی بڑا نقصان ہواہے، وسائل کی فراہمی معمول کے مطابق نہ ہوسکی، جس کے باعث مدارس سخت مشکلات سے دوچار ہیں،انہوں نے کہاکہ ایسے حالات میں مدارس کی انتظامیہ کے افراد اور اساتذہ کرام باہمی تعاون و تناصر کے ساتھ خوش گوار ماحول میں کام کریں،اس کے لئے جہاں انتظامیہ کے ذمہ داران فراہمی سرمایہ کا نظام قائم کرنے کی میں تعاون کرتے ہیں،اسی طرح اساتذہ کرام بھی اپنارضاکارانہ تعاون پیش کریں۔ اگر مدارسہ کی مالی حالت بہتر ہو اور اساتذہ و ملازمین کا مشاہرہ ماہ بماہ مکمل طورپر ادا کیاجانا ممکن ہو تو ایسا کیا کیاجانا چاہئے،ورنہ حسب وسعت جتنی تنخواہ دی جاسکتی ہو اتنی دی جائے،باقی حالات بہتر ہونے پر دی جائے لیکن سب کے ساتھ یکساں معاملہ کیاجانا چاہئے اور یہ بات تو شاید کسی بھی مدرسہ کے ذمہ داران و انتظامیہ کے افراد پسند نہیں فرمائیں گے کہ اساتذہ یا ملازمین میں سے کسی کو ملازمت سے سبکدوش کردیا جائے۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ مذکورہ ہدایات تمام مدارس کے ذمہ داران تک پہنچائیں اور حسب دستور دعاؤ کا اہتمام بھی جاری رہنا چاہئے۔ تاکہ یہ وباء ختم ہواور مدارس و مساجد کھولنے کے لئے جلد حالات بہتر ہوسکیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close