دیوبند

جمہوریت کا قتل کرکے زراعت سے متعلق قانون کو پاس کرایا گیا ہے

کسانوں کے مفادات کے لیے کانگریسی کارکنان خاموش نہیں بیٹھیں گے: عمران مسعود
فوٹو۔ عمران مسعود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے
دیوبند، 22/ ستمبر (رضوان سلمانی)
ہنگامہ کے دوران زراعت بل راجیہ سبھا میں پاس ہونے پر کانگریس نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ کانگریس کے سابق رکن اسمبلی اور ڈسپلن کمیٹی میں شامل عمران مسعود اور ضلع صدر چودہری مظفر علی نے اسے کسان مخالف بل بتایا ہے۔ عمران مسعود کا کہنا ہے کہ جمہوریت کا قتل کرکے اس قانون کو پاس کرایا گیا ہے جس کا سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک کانگریس مخالفت کرے گی، گزشتہ کل سابق اسمبلی رکن عمران مسعود نے کانگریس لیڈر جاوید صابری کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے مرکزی حکومت نے کسان مخالف بل پاس کرایا ہے۔ بھارت سرکار کی جانب سے کسانوں کے لیے بنائے گئے قانوں کو سیاہ قرار دیتے ہوئے عمران مسعود نے کہا کہ کسانوں کے مفادات کے لیے کانگریسی کارکنان خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ضلع میں سبھی جگہوں پر زور دار مظاہرے کیے جائیں گے تاکہ گونگی بہری سرکار کو احساس کرایا جا سکے۔ مودی سرکار نے کسان مخالف جو قانون بنایا ہے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ سابق اسمبلی رکن نے بل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ بل کسان کے مفاد میں ہے تو اس میں قیمت کو شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کسانوں کو کہیں پر بھی اپنی فصل فروخت کرنے کی چھوٹ دے رہی ہے لیکن کسان اپنی فصل لے کر کہاں جائے گا۔ ہندوستان میں سبھی 80فیصدی چھوٹے کسان ہیں جس سے کسانو ں کے سامنے فصلوں کو فروخت کرنے میں بھی پریشانی آئے گی، اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ منڈیوں میں آڑتیوں اورچھوٹے تاجران کو بھی بل پاس ہونے سے نقصان ہوگا۔ عمران مسعود نے کہا کہ حکومت نے اس سے قبل یہ بل بہار میں استعمال کے طو رپر لاگو کیا تھا، لیکن وہاں کے کسانوں کی اوسطاً آمدنی 45ہزار روپے فی سال ہے۔ جب کہ پنجاب کے کسانو ں کی اوسطاً آمدنی 2لاکھ روپے سے بھی زیادہ ہے۔       عمران مسعود نے بتایا کہ 24 ستمبر کو مودی سرکار کے خلاف زور دار مظاہرہ کیا جائے گا۔ مظاہرہ کے بعد ضلع مجسٹریٹ کو صدر جمہور کے نام ایک میمورنڈم ارسال کیا جائے گا۔کانگریس کے ضلع صدر چودھری مظفر علی اور اسمبلی رکن نریش سینی نے کہا کہ کسانوں کے مفاد کے لئے کانگریس پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک لڑائی لڑے گی، اس کی پوری تیاری کی جاچکی ہے۔ 24ستمبر کو تحصیل سطح پر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ کانگریس ضلع صدر چودہری مظفر علی نے اس مظاہرہ کی تیاری کے لیے عہدیداران کو الگ الگ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔  پارٹی ترجمان گنیش دت شرما نے بتایا کہ رامپور تحصیل پر ہونے والے مظاہرہ کی قیادت ضلع صدر مظفر علی،سہارنپور تحصیل صدر پر ہونے والے مظاہرہ کی قیادت رکن اسمبلی مسعود اختر، نکوڑ تحصیل پر عمران مسعود مظاہرہ کی قیادت کریں گے، بہٹ تحصیل پر ہونے والے مظاہرہ کی قیادت رکن اسمبلی نریش سینی، دیوبند تحصیل پر شایان مسعود اور چودھری راج سنگھ، نکوڑ تحصیل پر سابق چیئر مین نعمان مسعود مظاہرہ کی قیادت کریں گے۔ پریس کانفرنس میں آل انڈیا کانگریس کے رکن جاوید صابری، نیر پال چودھری، منیش تیاگی، وکی پوجنا، حاجی ادریس، منیش اروڑہ، نفیس ماموں، محمود سامانی، فرقان ملک وغیرہ موجود رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیوبند کے ایک قریبی گاؤں میں اجتماعی عصمت دری کا معاملہ روشنی میں آیا ہے
دیوبند، 22/ ستمبر (رضوان سلمانی)
دیوبند کے ایک قریبی گاؤں میں لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا معاملہ روشنی میں آیا ہے، اتنا ہی نہیں ملزمان نے اجتماعی عصمت دری کی ویڈیو تیار کرکے سوشل میڈیا پر بھی وائرل کردی ہے، متأثرہ لڑکی کے اہل خانہ نے پولیس کو تحریر دے کر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق دیوبند کے قریبی گاؤں کے رہنے والے ایک شخص نے پولیس کو دی تحریر میں بتایا کہ گزشتہ 14ستمبر کی صبح تقریباً 11بجے اس کی 13سالہ بیٹی کھیت پر مویشیوں کے لئے چارہ لینے کے لئے گئی تھی، الزام ہے کہ اس دوران وہاں پر پہلے سے ہی موجود گاؤں کے ہی دو نوجوانوں نے اسے بری نیت سے دبوچ لیا اور جان سے مارنے کی دھمکی دے کر اسے اپنی ہوس کا شکار بنالیا، متأثرہ شخص کے مطابق کہ جب کافی دیر تک اس کی بیٹی گھر نہیں پہنچی تو وہ اپنی بیوی کے ساتھ اس کی تلاش میں کھیت پر پہنچا تو اس کی بیٹی ایک کھیت میں بدحواس حالت میں پڑی ہوئی ملی جسے انہو ں نے ڈاکٹر کے یہاں داخل کرایا۔ ہوش میں آنے کے بعد اس کی بیٹی نے پورے واقعہ کی جانکاری دی اور ساتھ ہی بتایا کہ ملزمان نوجوانوں نے اجتماعی عصمت دری کی ویڈیو بھی تیار کی ہے اور کسی کو بتانے پر انہوں نے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ اس شخص کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب وہ اپنی بیٹی کو لے کر پولیس کے پاس پہنچا تو ملزمان کو اس کی اطلاع ہوگئی اور انہوں نے دھمکی کے مطابق ویڈیو کو سوشل میڈیا پر وائر ل کردیا۔ اس شخص نے پولیس کو تحریر دیتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں سی او دیوبند رجنیش کمار اپادھیائے نے بتایا کہ یہ معاملہ ان کے علم میں ہے اور انہوں نے فوراً ملزمان کے خلاف مقدمہ قائم کرادیا ہے اور ان کی گرفتاری کے لئے پولیس ٹیم تشکیل دے کر برابر ان کے گھروں پر دبش دی جارہی ہے، ملزمان گھر سے فرار ہیں، جلد ہی ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیجا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
9نومبر کو منایا جائے گا یوم اردو
اردو شائقین اور ہونہار بچوں کو اعزاز سے نوازا جائے گا
فوٹو۔ اردو کمیٹی کی میٹنگ کا منظر
دیوبند، 22/ ستمبر (رضوان سلمانی)
اردو ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مظفر نگر کے زیراہتمام کنوینر تحسین علی کی رہائش گاہ پر ایک ضروری میٹنگ منعقد ہوئی، جس کی صدارت ضلعی صدر کلیم تیاگی نے کی، نظامت سکریٹری شمیم قصار نے کی۔اجلاس میں ادارہ کے زیر اہتمام ہر سال یوم اردو کے متعلق گفتگو ہوئی۔کلیم تیاگی نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی 9 نومبر کو یوم اردو منایا جائے گا، لیکن چونکہ ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے سماجی فاصلے کا قانون جاری ہے، لہذا یہ پروگرام کووڈ 19 کے مدنظر رکھتے ہوئے بہت کم محبان اردو کی موجودگی میں منعقد کیا جائے گا۔ کنوینر تحسین علی نے بتایا کہ اس سال اردو مضمون میرٹ ایوارڈ دیا جائے گا جس میں ہائی اسکول، انٹر اور مدرسہ بورڈ کے 5-5 ٹاپرز طلبہ وطالبات کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔اس موقع پر سرپرست ڈاکٹر شمیم الحسن نے کہا کہ یوم اردو کے موقع پر کچھ محبان اردو کا بھی اعزاز کیا جائیگا۔اجلاس میں ڈاکٹر شمیم الحسن، حاجی اوصاف احمد، کلیم تیاگی، شمیم قصار، تحسین علی، بدر خان اور مولانا موسیٰ قاسمی، گلفام احمد، رئیس الدین رانا وغیرہ موجود تھے۔ بعدازاں تنظیم سے جڑے حکیم ربانی اور ڈاکٹر عثمان کے اچانک انتقال پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close