دیوبند

دیوبند : افسران اور علاقائی نمائندوں کی بے توجہی کے بعد گائوں کے باشندوں نے اپنے پیسے سے روڈ کی تعمیر شروع کی

دیوبند، 11؍ جنوری (رضوان سلمانی) تحصیل علاقے کے گائوں نونا بڑی میں کئی سالوں سے خستہ حال سڑک کی تعمیر نہ ہونے پر آج بذات خود گائوں کے باشندوں نے اپنے خرچے سے سڑک کی تعمیر شروع کردی ہے ۔ گائوں کے باشندوں کا الزام ہے کہ افسران اور عوامی نمائندوں سے متعدد مرتبہ فریاد کرنے کے باوجود بھی جب سڑک کے سلسلے میں کوئی توجہ نہیں دی گئی تو انہوں نے بذات خود سڑک پر مٹی اور روڑا ڈال کر اس کی تعمیر شروع کردی ہے۔ گائوں نونا بڑی سے جوڑنے والی سڑک کا ایک ٹکڑا کئی سالوں سے خستہ حال پڑا ہوا تھا ، گائوں کے باشندوں کو مذکورہ ٹوٹی ہوئی سڑک سے سب سے زیادہ پریشانی برسات کے علاوہ عام دنوں میں ہونے والی بارش سے ہورہی تھی ، بارش کے دنوں میں مذکورہ سڑک پر گاڑی نکالنا تو دور پیدل چلنا بھی مشکل ہوجاتا تھا۔ گائوں کے باشندوں نے گزشتہ کئی سالوں کے دوران سبھی عوامی نمائندوں سمیت افسران کے پاس فریاد کی مگر افسران نے اس جانب توجہ نہیں دی اور وہ تھک چکے تھے ، جب کسی نے بھی سڑک کی تعمیر کے لئے توجہ نہیں دی گئی تو کچھ گائوں کے باشندوں نے جمع ہوکر سڑک تعمیر کرنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی ۔ گائوں کے باشندوں نے جہاں اب تک خستہ حال ہوچکی 600میٹر سڑک پر ٹریکٹر ٹرالیوں سے مٹی کا بھرائو کیا ، وہیں بھٹے سے نکلنے والے روڑوں کو بھی کوٹ کر سڑک پر ڈالنا شروع کردیا۔ سڑک تعمیر میں گائوں کے کئی افراد نے حصہ لیا اور جے سی بی مشین لگاکر آس پاس سے مٹی اٹھانے کا خرچ سمیت دیگر خرچ بھی خود برداشت کیا۔ آبادی سے ملنے والی سڑک پر مدرسہ ہی نہیں بلکہ مذہبی مقامات بھی ہے۔ پانی بھرے ہونے کی وجہ سے قبرستان اور مذہبی مقام پر پہنچنے میں گائوںکے باشندوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنے کو مجبور ہونا پڑتا تھا ۔ گائوں کے رہنے والے حافظ معین الدین ،منصور علی اور نزاکت کی قیادت میں گائوں کے باشندے وقت نکال کر سڑک کو خود تعمیر کرکے افسران اور عوامی نمائندوں کو کرارا جواب دیا ہے۔ معین الدین کے مطابق خستہ حال سڑک کی تعمیر کے لئے انہو ںنے ہر جگہ پر فریاد کی لیکن جب کسی نے بھی سڑک کی تعمیر میں مدد نہیں کی تو گائوں کے باشندوں نے بذات خود سڑک کو چلنے لائق بنانے کے لئے تعمیری کام شروع کیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close